نظمیں
Carmina
تعارفی نوٹ
گایس والیریس کاتُلس (تقریباً ۸۴ تا ۵۴ قبلِ مسیح) شمالی اطالیہ کے شہر ویرونا میں پیدا ہوا اور روم کی اُس نئی نسل کا سب سے چمکتا نام بنا جسے قدیم لوگ ”نئے شاعر” کہتے تھے۔ اُس کا واحد بچ رہنے والا مجموعہ، ”کارمینا” یعنی نظمیں، ایک سو تیرہ نظموں پر مشتمل ہے جو روایتی طور پر تین حصوں میں بٹی ہیں: مختلف اوزان والی مختصر غنائی نظمیں (۱ تا ۶۰)، طویل اور عالمانہ نظمیں (۶۱ تا ۶۸)، اور دو مصرعی ہجویہ و عاشقانہ قطعات (۶۹ تا ۱۱۶)۔ یہ ترجمہ پہلے حصے، یعنی مختلف الاوزان غنائی نظموں سے شروع ہوتا ہے، جو کاتُلس کی سب سے پہچانی جانے والی آواز ہیں۔
اِس آواز کی سب سے نمایاں خصوصیت اُس کی بےساختگی اور اچانک پلٹا ہے۔ ایک ہی نظم نرمی سے فحش کلامی کی طرف، یا کھیل سے ماتم کی طرف، چند مصرعوں میں مڑ جاتی ہے، اور یہی موڑ اصل بات ہے۔ اُس کی محبوبہ ”لیزبیا” (جسے قدیم روایت شریف گھرانے کی کلودیا سے شناخت کرتی ہے) کے گرد گھومتی نظمیں رومی ادب کی سب سے پہلی مسلسل عشقیہ داستان ہیں، جو والہانہ چاہت سے لے کر تلخ نفرت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اِس مجموعے میں شہد سی میٹھی چڑیا کا نوحہ (۳)، ہزاروں بوسوں کی گنتی (۵ اور ۷)، اور اپنے آپ کو خطاب کرتی وہ کربناک نظم (۸) بھی ہے جس میں شاعر اپنے دل کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔
کاتُلس کی ہجو اُتنی ہی بےباک ہے جتنی اُس کی محبت نرم۔ سیزر، مامُرّا، اِگناتیس اور گیلیس جیسے ہدف اُس کے تیز اور اکثر بےحد فحش شعروں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اِس ترجمے میں اِس بےباکی کو نرم نہیں کیا گیا: جہاں لاطینی سخت لفظ برتتی ہے، وہاں اردو بھی سخت لفظ برتتی ہے، کیونکہ یہی کاتُلس کی ادبی قوت ہے اور اِسے دھیما کرنا شاعر کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ اِسی طرح نرم اور غم انگیز نظموں کو موٹا یا بھدا نہیں بنایا گیا: یہی وہی شاعر ہے جو دونوں لکھتا ہے، اور اِن دو انتہاؤں کا فرق ہی اُس کا کمال ہے۔
ترجمہ براہِ راست لاطینی متن سے کیا گیا ہے، کسی انگریزی یا ثانوی ترجمے سے نہیں۔ ہر لاطینی مصرعے کو ایک اردو مصرعے کے طور پر توڑا گیا ہے تاکہ متوازی متن سطر بہ سطر ہم آہنگ رہے؛ نہ اردو وزن یا قافیہ مسلط کیا گیا ہے، نہ مصرعہ بھرنے کو کچھ بڑھایا گیا ہے۔ رومی اور یونانی نام اپنی معیاری شکل میں رکھے گئے ہیں، اور دیوتاؤں کو اُن کے رومی روپ (وینس، کیوپڈ، مشتری، ڈایانا) میں ہی چھوڑا گیا ہے۔ نظموں کی روایتی گنتی (بشمول ۱۴الف، اور ۱۸ تا ۲۰ کا حذف) وہی رکھی گئی ہے جو علمی مطبوعات میں مستعمل ہے، کیونکہ یہی وہ حوالے ہیں جن سے اِن نظموں کا ذکر ہوتا ہے۔
جو ابھی خشک سنگِ جھانوے سے چکنی کی گئی ہے؟
کورنیلیس، تجھے؛ کیونکہ تُو ہی تھا جو
میری اِن بے مایہ باتوں کو کچھ سمجھا کرتا تھا،
اُسی وقت سے، جب تُو نے اطالویوں میں اکیلے یہ ہمت کی
کہ سارے زمانے کو تین طوماروں میں کھول کر بیان کرے،
عالمانہ، مشتری کی قسم، اور محنت سے بھرے!
سو یہ کتابچہ، جو کچھ بھی ہے، اپنے پاس رکھ،
جیسا بھی ہے؛ اے سرپرست کنواری دیوی،
یہ ایک صدی سے زیادہ، سدا زندہ رہے۔
arido modo pumice expolitum?
Corneli, tibi; namque tu solebas
meas esse aliquid putare nugas,
iam tum cum ausus es unus Italorum
omne aevum tribus explicare chartis,
doctis, Iuppiter, et laboriosis!
quare habe tibi quidquid hoc libelli
qualecumque, quod, o patrona virgo,
plus uno maneat perenne saeclo.
جس سے وہ کھیلتی ہے، جسے سینے سے لگاتی ہے،
جسے وہ چونچ اٹھاتے پر انگلی کی نوک دیتی ہے
اور تیز کاٹنے پر اُکساتی رہتی ہے،
جب میری تابندہ آرزو کو
کوئی پیاری سی دل لگی سوجھتی ہے
(اور اپنے درد کا ذرا سا سہارا،
میرا خیال ہے، کہ تب گہری تپش تھم جائے)،
کاش میں بھی تجھ سے یوں کھیل سکتا جیسے وہ خود،
اور اپنے غمگین دل کے فکر ہلکے کر لیتا!
یہ مجھے اتنا ہی پیارا ہے جتنا، کہتے ہیں، اُس تیز رفتار دوشیزہ کو
وہ سنہری سیب پیارا تھا،
جس نے دیر سے بندھی اُس کی کمر کھول دی۔
quicum ludere, quem in sinu tenere,
cui primum digitum dare adpetenti
et acris solet incitare morsus,
cum desiderio meo nitenti
carum nescio quid libet iocari
(et solaciolum sui doloris,
credo, ut tum gravis adquiescat ardor),
tecum ludere sicut ipsa possem
et tristis animi levare curas!
Tam gratum est mihi quam ferunt puellae
pernici aureolum fuisse malum,
quod zonam solvit diu ligatam.
اور جتنے بھی حسن پرست انسان ہیں!
میری محبوبہ کی چڑیا مر گئی،
چڑیا، میری محبوبہ کی چہیتی،
جسے وہ اپنی آنکھوں سے بھی بڑھ کر چاہتی تھی؛
کیونکہ وہ شہد سی میٹھی تھی، اور اپنی مالکن کو
اتنی ہی پہچانتی تھی جتنی بچی اپنی ماں کو،
نہ اُس کی گود سے ہٹتی تھی،
بلکہ اِدھر اُدھر پھدکتی
اپنی اکیلی مالکن کے لیے چہچہاتی رہتی تھی۔
اب وہ اُس اندھیری راہ پر چلی گئی
جہاں سے، کہتے ہیں، کوئی نہیں لوٹتا۔
تم پر لعنت ہو، اے موت کے مہیب اندھیرو،
اورکس کی گھپاؤ، جو ہر خوبصورت چیز نگل لیتی ہو؛
تم نے مجھ سے اتنی پیاری چڑیا چھین لی۔
اے بدنصیبی! اے بیچاری ننھی چڑیا!
تیرے ہی سبب اب میری محبوبہ کی
سوجی ہوئی ننھی آنکھیں رو رو کر سرخ ہیں۔
et quantum est hominum venustiorum!
passer mortuus est meae puellae,
passer, deliciae meae puellae,
quem plus illa oculis suis amabat;
nam mellitus erat, suamque norat
ipsa tam bene quam puella matrem,
nec sese a gremio illius movebat,
sed circumsiliens modo huc modo illuc
ad solam dominam usque pipiabat.
qui nunc it per iter tenebricosum
illuc unde negant redire quemquam.
at vobis male sit, malae tenebrae
Orci, quae omnia bella devoratis;
tam bellum mihi passerem abstulistis.
o factum male! o miselle passer!
tua nunc opera meae puellae
flendo turgiduli rubent ocelli.
کہتی ہے کہ وہ سب جہازوں میں تیز ترین تھی،
اور کسی بھی تیرتے تختے کے زور سے
پیچھے نہ رہ سکتی تھی، چاہے چپوؤں سے
اُڑنے کی ضرورت ہو یا بادبان سے۔
اور وہ کہتی ہے کہ اِس سے نہ دھمکاتے اَدریا کا
ساحل انکار کرتا ہے، نہ کیکلاڈیز جزیرے،
نہ نامور روڈس، نہ ہولناک تھریس کی
پروپونٹِس، نہ پونٹس کی وحشی خلیج،
جہاں یہ، بعد میں جو کشتی بنی، پہلے کبھی
گھنے پتوں والا جنگل تھی: کیونکہ کِٹورس کی چوٹی پر
اکثر اپنے پتوں سے سرسراتی سیٹی بجاتی تھی۔
اے پونٹس کی اماسٹرِس اور شمشاد بھری کِٹورس،
تجھے یہ سب خوب معلوم تھا اور ہے،
کشتی کہتی ہے؛ اپنے آغازِ اوّل سے
تیری ہی چوٹی پر کھڑی رہی، کہتی ہے،
تیرے ہی پانی میں اپنے چپو بھگوئے،
اور وہاں سے اِتنے بےقابو سمندروں کے پار
اپنے مالک کو لے چلی، چاہے بائیں سے یا دائیں سے
ہوا پکارتی ہو، یا مشتری موافق
دونوں طرف بادبان کے پیر پر آ گرے؛
اور کوئی منت ساحلی دیوتاؤں کے لیے
اُس نے نہ مانی، جب آخری سمندر سے
یہاں تک، اِس صاف جھیل تک آتی رہی۔
مگر یہ سب پہلے کی باتیں ہیں: اب خلوت میں
بوڑھی ہو کر آرام کرتی، خود کو تجھے سونپتی ہے،
اے جڑواں کیسٹر اور کیسٹر کے جڑواں بھائی۔
ait fuisse navium celerrimus,
neque ullius natantis impetum trabis
nequisse praeterire, sive palmulis
opus foret volare sive linteo.
et hoc negat minacis Hadriatici
negare litus insulasve Cycladas
Rhodumque nobilem horridamque Thraciam
Propontida trucemve Ponticum sinum,
ubi iste post phasellus antea fuit
comata silva: nam Cytorio in iugo
loquente saepe sibilum edidit coma.
Amastri Pontica et Cytore buxifer,
tibi haec fuisse et esse cognitissima
ait phasellus; ultima ex origine
tuo stetisse dicit in cacumine,
tuo imbuisse palmulas in aequore,
et inde tot per impotentia freta
erum tulisse, laeva sive dextera
vocaret aura, sive utrumque Iuppiter
simul secundus incidisset in pedem;
neque ulla vota litoralibus diis
sibi esse facta, cum veniret a mari
novissimo hunc ad usque limpidum lacum.
sed haec prius fuere: nunc recondita
senet quiete seque dedicat tibi,
gemelle Castor et gemelle Castoris.
اور سخت گیر بوڑھوں کی سب بکواس کو
ہم ایک پھوٹی کوڑی کے برابر جانیں۔
سورج ڈوب کر پھر نکل آتے ہیں:
مگر ہمارا، جب ایک بار مختصر روشنی ڈوب جائے،
تو ایک ابدی رات سونی پڑتی ہے۔
مجھے ہزار بوسے دو، پھر سو،
پھر ایک اور ہزار، پھر دوسرے سو،
پھر مسلسل ایک اور ہزار، پھر سو،
پھر، جب ہم ہزاروں پورے کر چکیں،
تو اُنہیں گڈمڈ کر دیں گے، کہ خود بھی نہ جانیں،
یا کوئی بدخواہ نظرِ بد نہ ڈال سکے،
جب اُسے معلوم ہو جائے کہ بوسے اِتنے تھے۔
rumoresque senum severiorum
omnes unius aestimemus assis.
soles occidere et redire possunt:
nobis, cum semel occidit brevis lux,
nox est perpetua una dormienda.
da mi basia mille, deinde centum,
dein mille altera, dein secunda centum,
deinde usque altera mille, deinde centum,
dein, cum milia multa fecerimus,
conturbabimus illa, ne sciamus,
aut ne quis malus invidere possit,
cum tantum sciat esse basiorum.
تو تُو کاتُلس کو ضرور بتاتا،
اور خاموش نہ رہ پاتا۔
مگر تُو کسی بخار زدہ کسبی سے
عشق لڑا رہا ہے: یہی ماننے میں شرم ہے۔
کیونکہ تُو راتیں تنہا نہیں گزارتا،
یہ تیرا بستر بےزبان ہوتے ہوئے بھی چلّا چلّا کر کہتا ہے،
پھولوں سے سجا اور شامی خوشبو میں بسا،
اور تکیہ دونوں طرف سے
اِسی طرح دبا ہوا، اور ہلتی چارپائی کی
چرچراہٹ اور ہچکولے۔
کیونکہ چھپانے سے یہ رنگ رلیاں کچھ کام نہیں آتیں، کچھ بھی نہیں۔
کیوں؟ تُو یوں تھکے ہوئے پہلو نہ دکھاتا،
اگر کوئی بےہودگی نہ کر رہا ہوتا۔
سو، تیرے پاس جو کچھ اچھا یا برا ہے،
ہمیں بتا: میں چاہتا ہوں کہ تجھے اور تیرے عشق کو
دل کش شعروں میں آسمان تک اٹھاؤں۔
ni sint inlepidae atque inelegantes,
velles dicere, nec tacere posses.
verum nescio quid febriculosi
scorti diligis: hoc pudet fateri.
nam te non viduas iacere noctes
nequiquam tacitum cubile clamat
sertis ac Syrio fragrans olivo,
pulvinusque peraeque et hic et ille
attritus, tremulique quassa lecti
argutatio inambulatioque.
nam nil stupra valet, nihil, tacere.
cur? non tam latera ecfututa pandas,
ni tu quid facias ineptiarum.
quare, quidquid habes boni malique,
dic nobis: volo te ac tuos amores
ad caelum lepido vocare versu.
میرے لیے کافی اور اُس سے بھی زیادہ ہوں۔
جتنے بڑے شمار میں لیبیا کی ریت
سِلفیم اگاتی سائرین میں بکھری ہے،
گرم مشتری کے مندر اور
بوڑھے بتّس کی مقدس قبر کے درمیان،
یا جتنے بےشمار تارے، جب رات خاموش ہو،
انسانوں کے چوری چھپے عشق دیکھتے ہیں،
اتنے ہی بوسے تجھے چومنا
دیوانے کاتُلس کے لیے کافی اور اُس سے بھی زیادہ ہے،
جنہیں نہ کوئی تجسس پسند گِن سکے،
نہ کوئی بدخواہ زبان نظرِ بد لگا سکے۔
tuae, Lesbia, sint satis superque.
quam magnus numerus Libyssae harenae
laserpiciferis iacet Cyrenis,
oraclum Iovis inter aestuosi
et Batti veteris sacrum sepulcrum,
aut quam sidera multa, cum tacet nox,
furtivos hominum vident amores,
tam te basia multa basiare
vesano satis et super Catullo est,
quae nec pernumerare curiosi
possint nec mala fascinare lingua.
اور جو کچھ کھو گیا اُسے کھویا ہوا سمجھ۔
کبھی تجھ پر بھی چمکتے سورج روشن ہوئے تھے،
جب تُو وہاں جاتا تھا جہاں وہ لڑکی لے جاتی،
جسے ہم نے اِتنا چاہا جتنا کسی کو نہ چاہا جائے گا۔
تب وہاں بہت سی خوش دلیاں ہوتی تھیں،
جو تُو چاہتا تھا اور وہ لڑکی بھی انکار نہ کرتی تھی۔
سچ مچ تجھ پر چمکتے سورج روشن ہوئے تھے۔
اب وہ نہیں چاہتی: تُو بھی، بےقابو، نہ چاہ،
نہ اُس کا پیچھا کر جو بھاگتی ہے، نہ بدنصیب بن کر جی،
بلکہ سخت دل سے سہہ لے، ثابت قدم رہ۔
الوداع، اے لڑکی! اب کاتُلس ثابت قدم ہے،
نہ تجھے ڈھونڈے گا، نہ ناراض کو منائے گا:
مگر تُو رنجیدہ ہو گی، جب کوئی تجھے نہ منائے گا۔
اے بدبخت، تجھ پر افسوس! تیری زندگی کیا رہ گئی!
اب کون تیرے پاس آئے گا؟ کسے تُو حسین لگے گی؟
اب کسے تُو چاہے گی؟ کس کی کہلائے گی؟
کسے چومے گی؟ کس کے ہونٹ کاٹے گی؟
مگر تُو، کاتُلس، مصمم رہ، ثابت قدم رہ۔
et quod vides perisse perditum ducas.
fulsere quondam candidi tibi soles,
cum ventitabas quo puella ducebat
amata nobis quantum amabitur nulla.
ibi illa multa tum iocosa fiebant,
quae tu volebas nec puella nolebat.
fulsere vere candidi tibi soles.
nunc iam illa non vult: tu quoque, impotens, noli,
nec quae fugit sectare, nec miser vive,
sed obstinata mente perfer, obdura.
vale, puella! iam Catullus obdurat,
nec te requiret nec rogabit invitam:
at tu dolebis, cum rogaberis nulla.
scelesta, vae te! quae tibi manet vita!
quis nunc te adibit? cui videberis bella?
quem nunc amabis? cuius esse diceris?
quem basiabis? cui labella mordebis?
at tu, Catulle, destinatus obdura.
مجھے تین لاکھ سے بھی بڑھ کر عزیز،
کیا تُو اپنے گھر، اپنے دیوتاؤں کے پاس آ گیا،
اپنے ہم دل بھائیوں اور بوڑھی ماں کے پاس؟
تُو آ گیا! اے میرے لیے خوش خبری!
میں تجھے صحیح سلامت دیکھوں گا، اور ہسپانیہ کی
جگہیں، واقعات، قومیں سنتا رہوں گا، جیسا تیرا دستور ہے،
اور تیری گردن سے لپٹ کر
تیرے پیارے منہ اور آنکھوں کو چوموں گا۔
اے، جتنے بھی خوش نصیب انسان ہیں،
مجھ سے زیادہ شاداں اور بختاور کون ہے؟
antistans mihi milibus trecentis,
venistine domum ad tuos penates
fratresque unanimos anumque matrem?
venisti! o mihi nuntii beati!
visam te incolumem audiamque Hiberum
narrantem loca, facta, nationes,
ut mos est tuus, applicansque collum
iucundum os oculosque saviabor.
o, quantum est hominum beatiorum,
quid me laetius est beatiusve?
اپنی محبوبہ سے ملانے لے گیا،
ایک ننھی کسبی، جیسا مجھے پہلی نظر میں لگا،
کچھ بےلطف نہ تھی، نہ بےکشش۔
جب ہم وہاں پہنچے، تو ہمارے درمیان
کئی باتیں چھڑ گئیں، اُن میں یہ بھی کہ
بِتھینیا اب کیسا ہے، وہاں کیا حال ہے،
اور مجھے وہاں سے کچھ مال ملا یا نہیں۔
میں نے وہی جواب دیا جو سچ تھا، کہ نہ خود اُن کو،
نہ گورنروں کو، نہ عملے کو کچھ ملا،
کہ کوئی زیادہ چکنے سر کے ساتھ لوٹے،
خاص کر جن کا گورنر ہی ایک بدمعاش تھا،
اور عملے کی رتّی برابر پروا نہ کرتا تھا۔
"مگر کم از کم،" وہ کہنے لگے، "وہاں کی
مشہور چیز تو تُو نے خریدی ہو گی،
پالکی کے کہار۔" میں نے، خود کو اُس لڑکی کے آگے
کچھ زیادہ خوش قسمت دکھانے کو،
کہا، "میرے ساتھ اِتنا بُرا سلوک نہ ہوا
کہ گو صوبہ ناکارہ ملا،
میں آٹھ سیدھے قامت آدمی نہ لا سکوں۔"
حالانکہ میرے پاس نہ یہاں نہ وہاں کوئی ایسا تھا
جو پرانی چارپائی کا ٹوٹا پایہ بھی
اپنی گردن پر رکھ سکے۔
تب اُس نے، جیسا کسی بےحیا کو زیب دیتا ہے،
کہا، "کاتُلس پیارے، ذرا دیر کو
وہ کہار مجھے دے دو: میں سیراپِس کے مندر
جانا چاہتی ہوں۔" میں نے کہا، "ٹھہر،
جو میں نے ابھی کہا کہ وہ میرے پاس ہیں،
مجھ سے چوک ہو گئی: میرا دوست
گائس سِنّا ہے؛ اُس نے اپنے لیے خریدے تھے۔
مگر خیر، اُس کے ہوں یا میرے، مجھے کیا؟
میں اِن سے یوں کام لیتا ہوں جیسے خود خریدے ہوں۔
مگر تُو بڑی بے لطف اور تکلیف دہ ہے،
جو کسی کو ذرا سی لغزش بھی نہیں کرنے دیتی۔"
visum duxerat e foro otiosum,
scortillum, ut mihi tunc repente visum est,
non sane inlepidum neque invenustum.
huc ut venimus, incidere nobis
sermones varii, in quibus, quid esset
iam Bithynia, quo modo se haberet,
ecquonam mihi profuisset aere.
respondi id quod erat, nihil neque ipsis
nec praetoribus esse nec cohorti,
cur quisquam caput unctius referret,
praesertim quibus esset irrumator
praetor nec faceret pili cohortem.
at certe tamen, inquiunt, quod illic
natum dicitur esse comparasti,
ad lecticam homines. ego, ut puellae
unum me facerem beatiorem,
non, inquam, mihi tam fuit maligne,
ut, provincia quod mala incidisset,
non possem octo homines parare rectos.
at mi nullus erat neque hic neque illic
fractum qui veteris pedem grabati
in collo sibi conlocare posset.
hic illa, ut decuit cinaediorem,
quaeso, inquit, mihi, mi Catulle, paulum
istos commoda: nam volo ad Sarapim
deferri. Mane, inquii puellae,
istud quod modo dixeram, me habere,
fugit me ratio: meus sodalis
Cinna est Gaius; is sibi paravit.
verum, utrum illius an mei, quid ad me?
utor tam bene quam mihi pararim.
sed tu insulsa male et molesta vivis,
per quam non licet esse neglegentem.
چاہے وہ دور دراز ہندوستان تک جائے،
جہاں گونجتی مشرقی موج ساحل کو
دور تک تھپیڑتی ہے،
چاہے ہِرکانیوں یا نرم عربوں تک،
یا سیکاؤں یا تیر انداز پارتھیوں تک،
یا اُن سمندروں تک جنہیں سات دہانوں والا
نیل رنگ دیتا ہے،
یا بلند اَلپس کے پار قدم رکھے،
عظیم سیزر کی یادگاریں دیکھتا،
گالیہ کا رائن، وہ مہیب سمندر، اور دور کے
برطانوی لوگ،
یہ سب، جو کچھ بھی آسمانیوں کی مرضی
لے آئے، ساتھ آزمانے کو تیار —
میری محبوبہ تک چند
ناخوشگوار بول پہنچا دو۔
وہ اپنے آشناؤں کے ساتھ جیے اور خوش رہے،
جن تین سو کو وہ بیک وقت گلے لگاتی ہے،
کسی سے سچی محبت نہیں، بلکہ بار بار سب کے
پہلو چیرتی ہے؛
اور میرے عشق کی طرف، پہلے کی طرح، نہ دیکھے،
جو اُس کے قصور سے یوں گر گیا جیسے کھیت کے
کنارے کا پھول، جب گزرتے
ہل نے اُسے چھو لیا ہو۔
sive in extremos penetrabit Indos,
litus ut longe resonante Eoa
tunditur unda,
sive in Hyrcanos Arabasve molles,
seu Sacas sagittiferosve Parthos,
sive quae septemgeminus colorat
aequora Nilus,
sive trans altas gradietur Alpes
Caesaris visens monimenta magni,
Gallicum Rhenum, horribile aequor, ulti-
mosque Britannos,
omnia haec, quaecumque feret voluntas
caelitum, temptare simul parati,
pauca nuntiate meae puellae
non bona dicta.
cum suis vivat valeatque moechis,
quos simul complexa tenet trecentos,
nullum amans vere, sed identidem omnium
ilia rumpens;
nec meum respectet, ut ante, amorem,
qui illius culpa cecidit velut prati
ultimi flos, praetereunte postquam
tactus aratro est.
تُو ہنسی مذاق اور شراب میں اچھا استعمال نہیں کرتا:
غافلوں کے رومال اُڑا لے جاتا ہے۔
تُو اِسے ظرافت سمجھتا ہے؟ بےوقوف، تُو نہیں جانتا!
یہ کتنی کمینی اور بھونڈی حرکت ہے۔
میری بات کا یقین نہیں؟ اپنے بھائی پولیو سے پوچھ،
جو تیری اِن چوریوں کو ایک تلنٹ دے کر بھی
بدلنا چاہے؛ کیونکہ وہ لطافت اور
ظرافت میں ماہر نوجوان ہے۔
سو یا تین سو گیارہ رکنی شعروں کا
انتظار کر، یا میرا رومال واپس کر،
جس کی قیمت مجھے پرواہ نہیں،
بلکہ وہ میرے دوست کی نشانی ہے۔
کیونکہ سیتابا کے رومال ہسپانیہ سے
مجھے فبُلّس اور ویرانیس نے تحفے میں بھیجے تھے:
اِنہیں چاہنا مجھ پر لازم ہے،
جیسے اپنے ننھے ویرانیس اور فبُلّس کو۔
non belle uteris in ioco atque vino:
tollis lintea neglegentiorum.
hoc salsum esse putas? fugit te, inepte!
quamvis sordida res et invenusta est
non credis mihi?crede Pollioni
fratri, qui tua furta vel talento
mutari velit; est enim leporum
disertus puer ac facetiarum.
quare aut hendecasyllabos trecentos
exspecta, aut mihi linteum remitte,
quod me non movet aestimatione,
verum est mnemosynum mei sodalis.
nam sudaria Saetaba ex Hiberis
miserunt mihi muneri Fabullus
et Veranius: haec amem necesse est
et Veraniolum meum et Fabullum.
چند دن میں، اگر دیوتا مہربان ہوں،
بشرطیکہ تُو اپنے ساتھ اچھا اور بڑا
کھانا لائے، ایک حسین دوشیزہ سے کم نہیں،
اور شراب اور نمکینی اور ہر طرح کے قہقہے۔
اگر یہ سب، میں کہتا ہوں، تُو لائے، اے میرے پیارے،
تو خوب کھائے گا؛ کیونکہ تیرے کاتُلس کی
تھیلی مکڑی کے جالوں سے بھری ہے۔
مگر بدلے میں تجھے خالص محبت ملے گی،
یا جو اُس سے بھی زیادہ لطیف اور نفیس ہو:
کیونکہ میں تجھے ایک عطر دوں گا، جو میری محبوبہ کو
وینس اور کیوپڈ کے دیوتاؤں نے دیا،
جسے سونگھ کر تُو دیوتاؤں سے دعا کرے گا
کہ تجھے، فبُلّس، سراسر ناک بنا دیں۔
paucis, si tibi di favent, diebus,
si tecum attuleris bonam atque magnam
cenam, non sine candida puella
et vino et sale et omnibus cachinnis.
haec si, inquam, attuleris, venuste noster
cenabis bene; nam tui Catulli
plenus sacculus est aranearum.
sed contra accipies meros amores
seu quid suavius elegantiusve est:
nam unguentum dabo, quod meae puellae
donarunt Veneres Cupidinesque,
quod tu cum olfacies, deos rogabis
totum ut te faciant, Fabulle, nasum.
اے دلبر کالوس، اِس تحفے کے سبب
میں تجھ سے واٹینیس کی سی نفرت کرتا:
کیونکہ میں نے کیا کِیا یا کیا کہا،
کہ تُو مجھے اِتنے بُرے شاعروں سے ہلاک کرے؟
اُس اپنے مؤکل پر دیوتا بہت سی آفتیں بھیجیں،
جس نے تجھے اتنے بےدینوں کا مجموعہ بھیجا۔
اور اگر، جیسا میں سمجھتا ہوں، یہ نیا اور
انوکھا تحفہ تجھے اُستاد سُلّا نے دیا،
تو مجھے بُرا نہیں لگتا، بلکہ اچھا اور مبارک،
کہ تیری محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔
اے بڑے دیوتاؤ، یہ ہولناک اور منحوس کتابچہ،
جو تُو نے، ظاہر ہے، اپنے کاتُلس کو بھیجا
کہ وہ اُسی دن مر جائے،
ستُرنالیا کے دن، سب دنوں میں بہترین!
نہیں، دغاباز، یہ یوں نہیں چلے گا:
کیونکہ صبح ہوتے ہی میں کتب فروشوں کی
الماریوں کی طرف دوڑوں گا، کیسیوس، اکوئنس،
سُفینس، سب زہر اکٹھے کروں گا،
اور اِن سزاؤں سے تجھے بدلہ چکاؤں گا۔
اب تم یہاں سے الوداع، بھاگ جاؤ
وہیں جہاں سے اپنے منحوس قدم لائے تھے،
اے دور کی آفتو، بدترین شاعرو۔
iucundissime Calve, munere isto
odissem te odio Vatiniano:
nam quid feci ego quidve sum locutus,
cur me tot male perderes poetis?
isti di mala multa dent clienti
qui tantum tibi misit impiorum.
quod si, ut suspicor, hoc novum ac repertum
munus dat tibi Sulla litterator,
non est mi male, sed bene ac beate,
quod non dispereunt tui labores.
di magni, horribilem et sacrum libellum,
quem tu scilicet ad tuum Catullum
misti, continuo ut die periret,
Saturnalibus, optimo dierum!
non, non hoc tibi, false, sic abibit:
nam, si luxerit, ad librariorum
curram scrinia, Caesios, Aquinos,
Suffenum, omnia colligam venena,
ac te his suppliciis remunerabor.
vos hinc interea valete, abite
illuc unde malum pedem attulistis,
saecli incommoda, pessimi poetae.
قاری بنو، اور اپنے ہاتھ
ہماری طرف بڑھاتے ہوئے نہ ہچکچاؤ،
lectores eritis manusque vestras
non horrebitis admovere nobis,
اے اَوریلیس۔ ایک شرمیلی درخواست کرتا ہوں،
کہ اگر تُو نے کبھی دل میں کوئی ایسی چیز چاہی
جسے تُو پاک اور بےداغ رکھنا چاہتا،
تو اِس لڑکے کو میرے لیے پاکیزگی سے سنبھال،
عوام سے نہیں کہتا: مجھے اُن کا خوف نہیں
جو گلی میں اِدھر اُدھر
اپنے کاموں میں مصروف گزر جاتے ہیں؛
بلکہ مجھے تجھ سے اور تیرے اُس عضو سے ڈر ہے
جو اچھے بُرے سب لڑکوں کا دشمن ہے۔
اُسے جہاں چاہے، جیسے چاہے، جتنا چاہے چلا،
جب باہر تیار ملے:
بس اِس ایک کو، میں سمجھتا ہوں، شرافت سے مستثنیٰ رکھتا ہوں۔
مگر اگر بدنیتی اور دیوانہ جنون
تجھے، بدبخت، اِتنے بڑے گناہ پر اکسائے
کہ تُو مکاری سے ہمارے سر پر حملہ کرے،
تو ہائے، تجھ بدنصیب اور بدقسمت پر،
جسے پاؤں سے کھینچ کر، کھلے دروازے سے
مولیاں اور مچھلیاں پار کر جائیں گی۔
Aureli. Veniam peto pudentem,
ut, si quicquam animo tuo cupisti
quod castum expeteres et integellum,
conserves puerum mihi pudice,
non dico a populo: nihil veremur
istos qui in platea modo huc modo illuc
in re praetereunt sua occupati;
verum a te metuo tuoque pene
infesto pueris bonis malisque.
quem tu qua libet, ut libet moveto
quantum vis, ubi erit foris paratum:
hunc unum excipio, ut puto, pudenter.
quod si te mala mens furorque vecors
in tantam impulerit, sceleste, culpam,
ut nostrum insidiis caput lacessas,
ah tum te miserum malique fati,
quem attractis pedibus patente porta
percurrent raphanique mugilesque.
اے بےحیا اَوریلیس اور زن صفت فیوریس،
جنہوں نے میرے اِن ننھے شعروں سے،
کہ وہ نرم و نازک ہیں، مجھے کم پاکباز سمجھا۔
کیونکہ پارسا ہونا زیبا ہے پرہیزگار شاعر کو خود،
اُس کے شعروں کو ہرگز ضروری نہیں،
جو تب ہی نمک اور لطف رکھتے ہیں
جب نرم و نازک اور کچھ بےحیا ہوں،
اور جو کچھ خارش پیدا کرے، اُسے اُکسا سکیں،
لڑکوں کو نہیں کہتا، بلکہ اُن بالوں والوں کو
جو اپنی اکڑی کمر نہیں ہلا سکتے۔
تم نے، جو ہزاروں بوسوں کی بات
پڑھی، مجھے کم مرد سمجھا؟
میں تمہارے ساتھ مردانگی جتاؤں گا، آگے اور پیچھے سے۔
Aureli pathice et cinaede Furi,
qui me ex versiculis meis putastis,
quod sunt molliculi, parum pudicum.
nam castum esse decet pium poetam
ipsum, versiculos nihil necesse est,
qui tum denique habent salem ac leporem,
si sunt molliculi ac parum pudici
et quod pruriat incitare possunt,
non dico pueris, sed his pilosis,
qui duros nequeunt movere lumbos.
vos quod milia multa basiorum
legistis, male me marem putatis?
pedicabo ego vos et irrumabo.
اور ناچنے کو تیار ہے، مگر ڈرتی ہے کہ کہیں پُلیا کی
بھونڈی ٹانگیں، جو پرانے کھمبوں پر کھڑی ہیں،
اوندھی نہ ہو جائیں، اور کھوکھلے دلدل میں نہ لیٹ جائیں،
تو تیرے لیے تیری مرضی کے مطابق اچھا پُل بن جائے،
جس پر سالیسُبسِلس کے مقدس رقص بھی ہو سکیں —
مجھے یہ سب سے بڑی خوشی عطا کر، اے کولونیا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرا ایک ہمشہری تیرے پُل سے
سر کے بل، پاؤں اوپر، کیچڑ میں گر پڑے،
جہاں سارے تالاب اور سڑاند بھری دلدل کا
سب سے کالا اور سب سے گہرا بھنور ہے۔
وہ شخص انتہائی بدذوق ہے، اور دو برس کے بچے جتنی بھی
عقل نہیں رکھتا جو سوتے باپ کی ہلتی بانہوں میں پڑا ہو:
گو اُس کی بیوی نہایت شاداب جوانی کے پھول میں ہے
(اور وہ لڑکی نرم بکری کے بچے سے بھی نازک،
کالے انگوروں سے بھی زیادہ حفاظت کے قابل)،
وہ اُسے جیسے چاہے کھیلنے دیتا ہے، رتّی بھر پروا نہیں کرتا،
نہ اپنی طرف سے کچھ ہلتا ہے، بلکہ جیسے سفیدے کا درخت
لیگورین کلہاڑی سے کٹ کر گڑھے میں پڑا ہو،
ہر چیز کو یوں محسوس کرتا جیسے کہیں کچھ ہو ہی نہ:
ایسا ہے میرا یہ گنگ، جو کچھ نہیں دیکھتا، کچھ نہیں سنتا،
خود کون ہے، ہے بھی یا نہیں، یہ بھی نہیں جانتا۔
اب میں چاہتا ہوں کہ اُسے تیرے پُل سے سر کے بل پھینکوں،
شاید یوں یہ سُست کاہلی یکایک جاگ اٹھے
اور اپنا مُردہ دل بھاری کیچڑ میں چھوڑ آئے،
جیسے چپکتے بھنور میں خچر اپنا لوہے کا نعل۔
et salire paratum habes, sed vereris inepta
crura ponticuli assulis stantis in redivivis,
ne supinus eat cavaque in palude recumbat,
sic tibi bonus ex tua pons libidine fiat,
in quo vel Salisubsili sacra suscipiantur,
munus hoc mihi maximi da, Colonia, risus.
quendam municipem meum de tuo volo ponte
ire praecipitem in lutum per caputque pedesque,
verum totius ut lacus putidaeque paludis
lividissima maximeque est profunda vorago.
insulsissimus est homo, nec sapit pueri instar
bimuli tremula patris dormientis in ulna:
cui cum sit viridissimo nupta flore puella
(et puella tenellulo delicatior haedo,
adservanda nigerrimis diligentius uvis),
ludere hanc sinit ut libet, nec pili facit uni,
nec se sublevat ex sua parte, sed velut alnus
in fossa Liguri iacet suppernata securi,
tantundem omnia sentiens quam si nulla sit usquam
talis iste meus stupor nil videt, nihil audit,
ipse qui sit, utrum sit an non sit, id quoque nescit.
nunc eum volo de tuo ponte mittere pronum,
si pote stolidum repente excitare veternum
et supinum animum in gravi derelinquere caeno,
ferream ut soleam tenaci in voragine mula.
نہ صرف اِن کے جو اب ہیں، بلکہ جتنے کبھی تھے
یا ہیں یا آگے برسوں میں ہوں گے،
تُو میرے محبوب کے ساتھ بدفعلی چاہتا ہے۔
اور چھپ کر نہیں: کیونکہ ساتھ ہوتا ہے، مذاق کرتا ہے،
پہلو سے لگ کر ہر حربہ آزماتا ہے۔
بےسود: کیونکہ تُو جو مجھ پر گھات لگاتا ہے،
میں پہلے ہی تجھے منہ سے سبق سکھاؤں گا۔
اور اگر تُو پیٹ بھر کر یہ کرتا، تو میں خاموش رہتا:
اب مجھے یہی دکھ ہے کہ میرا لڑکا
بھوکا اور پیاسا رہنا سیکھے گا، ہائے۔
سو باز آ، جب تک شرافت سے ممکن ہے،
ورنہ خاموش نہ ہو گا، بلکہ سبق پا کر رکے گا۔
non harum modo, sed quot aut fuerunt
aut sunt aut aliis erunt in annis,
pedicare cupis meos amores.
nec clam: nam simul es, iocaris una,
haerens ad latus omnia experiris.
frustra: nam insidias mihi instruentem
tangam te prior irrumatione.
atque id si faceres satur, tacerem:
nunc ipsum id doleo, quod esurire,
ah me me, puer et sitire discet.
quare desine, dum licet pudico,
ne finem facias, sed irrumatus.
ایک خوش طبع، حاضر جواب اور شائستہ آدمی ہے،
اور وہی سب سے زیادہ شعر بھی کہتا ہے۔
میرا خیال ہے اُس نے دس ہزار یا اُس سے زیادہ
لکھ رکھے ہیں، اور وہ بھی، جیسا عام ہے، پرانے کاغذ پر
دوبارہ لکھے ہوئے نہیں: شاہی کاغذ، نئی کتابیں،
نئے سرے، فیتے، سرخ جلدیں،
سیسے سے لکیر دار اور جھانوے سے چکنی۔
جب تُو اِنہیں پڑھے، تو وہ خوش طبع اور شائستہ
سُفینس محض ایک بکری چرانے والا یا کھدائی مزدور
لگنے لگتا ہے: اِتنا بدل جاتا اور اُکھڑ جاتا ہے۔
اِسے ہم کیا سمجھیں؟ جو ابھی ظریف تھا،
یا جو اِس فن میں سب سے چالاک لگتا تھا،
وہی، جہاں شعر کو ہاتھ لگاتا ہے، دیہاتی سے بھی
زیادہ اکھڑ ہو جاتا ہے، اور کبھی اِتنا
خوش نہیں ہوتا جتنا شعر لکھتے وقت:
اِتنا خود پر ریجھتا اور اپنی تعریف کرتا ہے۔
بےشک ہم سب یونہی دھوکا کھاتے ہیں، اور کوئی نہیں
جس میں تُو کسی نہ کسی بات میں سُفینس نہ دیکھ سکے۔
ہر کسی کو اپنی اپنی خطا ملی ہے،
مگر ہمیں اپنی پیٹھ پر لدا تھیلا نظر نہیں آتا۔
homo est venustus et dicax et urbanus,
idemque longe plurimos facit versus.
puto esse ego illi milia aut decem aut plura
perscripta, nec sic, ut fit, in palimpsesto
relata: chartae regiae, novi libri,
novi umbilici, lora, rubra membrana,
derecta plumbo et pumice omnia aequata.
haec cum legas tu, bellus ille et urbanus
Suffenus unus caprimulgus aut fossor
rursus videtur: tantum abhorret ac mutat.
hoc quid putemus esse? Qui modo scurra
aut si quid hac re tritius videbatur,
idem infaceto est infacetior rure
simul poemata attigit, neque idem unquam
aeque est beatus ac poema cum scribit:
tam gaudet in se tamque se ipse miratur.
nimirum idem omnes fallimur, neque est quisquam
quem non in aliqua re videre Suffenum
possis. Suus cuique attributus est error,
sed non videmus manticae quod in tergo est.
نہ کھٹمل، نہ مکڑی، نہ آگ،
مگر ایک باپ اور سوتیلی ماں ہے، جن کے
دانت پتھر بھی چبا جائیں،
تیرا اپنے باپ کے ساتھ خوب گزرتی ہے،
اور باپ کی لکڑی سی بیوی کے ساتھ بھی۔
اور کیا عجب: تم سب خوب تندرست ہو،
عمدہ ہضم کرتے ہو، کسی چیز سے نہیں ڈرتے،
نہ آگ سے، نہ سنگین تباہی سے،
نہ ظالم چوریوں سے، نہ زہر کے فریب سے،
نہ کسی اور خطرے کے حادثے سے۔
اور تمہارے جسم سینگ سے بھی خشک ہیں،
یا جو کچھ اُس سے زیادہ سوکھا ہو،
دھوپ اور سردی اور بھوک سے۔
تو تیری خوب اور خوش گزری کیوں نہ ہو؟
تجھ سے پسینہ دور ہے، تھوک دور ہے،
اور ناک کی رینٹ اور بدبودار بلغم۔
اِس صفائی میں یہ صفائی اور جوڑ لے،
کہ تیری پچھلی چور نمکدان سے بھی صاف ہے،
تُو سارے سال میں دس بار بھی نہیں ہگتا؛
اور جو نکلے وہ لوبیے اور کنکروں سے بھی سخت،
کہ اگر تُو اُسے ہاتھوں میں مَل ملے،
تو کبھی انگلی میلی نہ کر پائے۔
اِن اتنی خوش نصیب راحتوں کو، فیوریس،
حقیر نہ جان، نہ کم سمجھ،
اور جو سو اشرفیوں کی تُو ہمیشہ دعا مانگتا ہے،
اُسے چھوڑ دے: کیونکہ تُو کافی خوش نصیب ہے۔
nec cimex neque araneus neque ignis,
verum est et pater et noverca, quorum
dentes vel silicem comesse possunt,
est pulchre tibi cum tuo parente
et cum coniuge lignea parentis.
nec mirum: bene nam valetis omnes,
pulchre concoquitis, nihil timetis,
non incendia, non graves ruinas,
non furta impia, non dolos veneni,
non casus alios periculorum.
atqui corpora sicciora cornu
aut si quid magis aridum est habetis
sole et frigore et esuritione.
quare non tibi sit bene ac beate?
a te sudor abest, abest saliva,
mucusque et mala pituita nasi.
hanc ad munditiem adde mundiorem,
quod culus tibi purior salillo est,
nec toto decies cacas in anno;
atque id durius est faba et lapillis,
quod tu si manibus teras fricesque,
non unquam digitum inquinare possis.
haec tu commoda tam beata, Furi,
noli spernere nec putare parvi,
et sestertia quae soles precari
centum desine: nam satis beatu’s.
نہ صرف اِن کا جو اب ہیں، بلکہ جتنے کبھی تھے
یا آگے برسوں میں ہوں گے،
میں چاہتا کہ تُو مِڈاس کی دولت
اُس شخص کو دے دیتا جس کے نہ غلام ہے نہ صندوق،
بجائے اِس کے کہ خود کو اُس سے چاہے جانے دے۔
"کیا؟ کیا وہ خوبصورت آدمی نہیں؟" تُو کہے گا۔ ہے:
مگر اِس خوبصورت کے نہ غلام ہے نہ صندوق۔
اِسے تُو جتنا چاہے ہلکا اور بےوقعت سمجھ:
پھر بھی اُس کے نہ غلام ہے نہ صندوق۔
non horum modo, sed quot aut fuerunt
aut posthac aliis erunt in annis,
mallem divitias Midae dedisses
isti cui neque servus est neque arca,
quam sic te sineres ab illo amari.
quid? Non est homo bellus? inquies. est:
sed bello huic neque servus est neque arca.
hoc tu quam libet abice elevaque:
nec servum tamen ille habet neque arcam.
یا ہنس کی مغز، یا کان کی نچلی لَو،
یا بوڑھے کے ڈھیلے عضو اور مکڑی کے جالے سے بھی،
اور وہی تھالُس، آندھی سے بھی زیادہ اُچکا،
جب دیوی عورت جماہیاں لیتے دکھائے —
میری وہ چادر واپس کر جو تُو اُڑا لے گیا،
اور سیتابا کا رومال اور نقش دار تِھینین کپڑے،
بےوقوف، جنہیں تُو کھلے عام یوں رکھتا ہے جیسے آبائی ہوں۔
اب اُنہیں اپنے پنجوں سے چھڑا کر واپس کر،
ورنہ تیرے اُونی نرم پہلو اور ملائم ہاتھ
شرمناک کوڑے داغ کر لکیریں کھینچ دیں گے،
اور تُو یوں بےتحاشا تلملائے گا جیسے چھوٹی سی
کشتی بڑے سمندر میں دیوانی ہوا میں پھنس جائے۔
vel anseris medullula vel imula auricilla
vel pene languido senis situque araneoso,
idemque Thalle turbida rapacior procella,
cum † diva mulier aries ostendit oscitantes,
remitte pallium mihi meum quod involasti
sudariumque Saetabum catagraphosque Thynos,
inepte, quae palam soles habere tanquam avita.
quae nunc tuis ab unguibus reglutina et remitte,
ne laneum latusculum manusque mollicellas
inusta turpiter tibi flagella conscribillent,
et insolenter aestues velut minuta magno
deprensa navis in mari vesaniente vento.
مجھے تلخ تر پیالے بھر دے،
جیسا پوسٹُمیا صدر بزم کا قانون حکم دیتا ہے،
جو خود شرابور انگور سے بھی زیادہ مست ہے۔
اور تم، اے پانی، جہاں چاہو یہاں سے چلے جاؤ،
شراب کے دشمن، اور سنجیدوں کے پاس
کوچ کر جاؤ: یہاں خالص باکس دیوتا کی مے ہے۔
inger mi calices amariores,
ut lex Postumiae iubet magistrae,
ebrioso acino ebriosioris.
at vos quo libet hinc abite, lymphae,
vini pernicies, et ad severos
migrate: hic merus est Thyonianus.
اپنے ننھے، ہلکے بوریوں کے ساتھ،
اے بہترین ویرانیس اور تُو میرے فبُلّس،
کیا حال ہے؟ کیا اُس نکمے کے ساتھ
تم نے کافی سردی اور بھوک جھیل لی؟
تمہارے کھاتوں میں کچھ نفع درج ہوا،
جیسے میرے، جو اپنے گورنر کے پیچھے چل کر
اپنے خرچ کو نفع کے خانے میں لکھتا ہوں؟
اے میمّیس، تُو نے مجھے خوب اور دیر تک اوندھا لٹا کر
اپنے اُس سارے شہتیر سے آہستہ آہستہ مجھ سے بدفعلی کی۔
مگر جتنا میں دیکھتا ہوں، تم بھی اُسی
مصیبت میں پڑے: کیونکہ تم بھی کچھ کم موٹے
عضو سے ٹھونسے گئے۔ اب ڈھونڈو معزز دوست۔
مگر تم پر دیوتا اور دیویاں بہت سی
آفتیں بھیجیں، اے رومولس اور ریمس کے کلنک۔
aptis sarcinulis et expeditis,
Verani optime tuque mi Fabulle,
quid rerum geritis? Satisne cum isto
vappa frigoraque et famem tulistis?
ecquidnam in tabulis patet lucelli
expensum, ut mihi, qui meum secutus
praetorem refero datum lucello,
o Memmi, bene me ac diu supinum
tota ista trabe lentus irrumasti.
sed, quantum video, pari fuistis
casu: nam nihilo minore verpa
farti estis. pete nobiles amicos.
at vobis mala multa di deaeque
dent, opprobria Romuli Remique.
سوائے کسی بےحیا، پیٹو اور جواری کے،
کہ مامُرّا اُس دولت کا مالک ہو جو
پہلے بالوں والے گالیہ اور دور کے برطانیہ کی تھی؟
اے زن صفت رومولس، یہ دیکھے گا اور سہے گا؟
اور وہ اب مغرور اور بہتا ہوا
سب کے بستروں میں گھومے گا
جیسے سفید کبوتر یا اَدونِس؟
اے زن صفت رومولس، یہ دیکھے گا اور سہے گا؟
تُو بےحیا، پیٹو اور جواری ہے۔
کیا اِسی سبب، اے یگانہ سپہ سالار،
تُو مغرب کے آخری جزیرے میں گیا،
کہ تمہارا وہ گھِسا ہوا لونڈا
دو سو یا تین سو گنا مال ہڑپ کرے؟
یہ اُلٹی سخاوت اور کیا ہے؟
کیا کم لُٹایا، یا کم اُڑایا؟
پہلے آبائی جائیداد لُٹائی گئی؛
دوسری لوٹ پونٹس کی؛ پھر تیسری
ہسپانیہ کی، جسے سونا اگلتا دریا تاگس جانتا ہے۔
اب گالیہ اور برطانیہ کو اُس کا ڈر ہے۔
تم اِس بلا کو کیوں پالتے ہو؟ یا یہ کر بھی کیا سکتا ہے
سوائے چکنی وراثتیں نگلنے کے؟
کیا اِسی سبب، اے شہر کے سب سے دولت مندو،
سُسر اور داماد، تم نے سب کچھ برباد کر دیا؟
nisi impudicus et vorax et aleo,
Mamurram habere quod comata Gallia
habebat ante et ultima Britannia?
Cinaede Romule, haec videbis et feres?
et ille nunc superbus et superfluens
perambulabit omnium cubilia
ut albulus columbus aut Adoneus?
cinaede Romule, haec videbis et feres?
es impudicus et vorax et aleo.
eone nomine, imperator unice,
fuisti in ultima occidentis insula,
ut ista vestra diffututa mentula
ducenties comesset aut trecenties?
quid est alid sinistra liberalitas?
parum expatravit an parum elluatus est?
paterna prima lancinata sunt bona;
secunda praeda Pontica; inde tertia
Hibera, quam scit amnis aurifer Tagus.
nunc Galliae timetur et Britanniae.
quid hunc malum fovetis? aut quid hic potest
nisi uncta devorare patrimonia?
eone nomine † urbis opulentissime
socer generque, perdidistis omnia?
اب تجھے، سنگ دل، اپنے پیارے دوست پر رحم نہیں آتا؟
اب مجھے دھوکا دینے، مجھے فریب دینے میں نہیں ہچکچاتا، بےوفا؟
مکار انسانوں کے ناپاک کام آسمانیوں کو نہیں بھاتے؛
اُنہیں تُو نظرانداز کرتا ہے، اور مجھ بدنصیب کو مصیبت میں چھوڑتا ہے۔
ہائے، بتا، انسان کیا کریں، کس پر بھروسا رکھیں؟
یقیناً تُو ہی مجھے کہتا تھا کہ اپنی جان سونپ دوں، اے ظالم،
مجھے عشق میں پھنسا کر، گویا سب کچھ میرے لیے محفوظ ہو۔
اب وہی تُو خود کو کھینچ لیتا ہے، اور اپنے سب بول اور کام
ہواؤں اور آسمانی دھند کو بےاثر اُڑا لے جانے دیتا ہے۔
اگر تُو بھول گیا، تو دیوتا یاد رکھتے ہیں، وفا یاد رکھتی ہے،
جو تجھے آگے چل کر تیرے کیے پر پچھتائے گی۔
iam te nil miseret, dure, tui dulcis amiculi?
iam me prodere, iam non dubitas fallere, perfide?
nec facta impia fallacum hominum caelicolis placent;
quae tu neglegis, ac me miserum deseris in malis.
eheu, quid faciant, dic, homines, cuive habeant fidem?
certe tute iubebas animam tradere, inique, me
inducens in amorem, quasi tuta omnia mi forent.
idem nunc retrahis te ac tua dicta omnia factaque
ventos irrita ferre ac nebulas aerias sinis.
si tu oblitus es, at di meminerunt, meminit Fides,
quae te ut paeniteat postmodo facti faciet tui.
آنکھ کی پُتلی، جتنے بھی صاف جھیلوں
اور وسیع سمندر میں دونوں نیپچون اٹھائے پھرتے ہیں،
میں تجھے کتنے شوق اور کتنی خوشی سے دیکھتا ہوں،
خود کو مشکل سے یقین دلاتا کہ میں نے تِھینیا اور بِتھینیا کے
میدان چھوڑ دیے، اور تجھے صحیح سلامت دیکھ رہا ہوں!
اے، فکروں کے کھل جانے سے بڑھ کر کیا سعادت ہے،
جب دل بوجھ اُتار دے، اور ہم پردیس کی
محنت سے تھکے اپنے گھر آئیں،
اور اپنے مطلوب بستر پر آرام کریں؟
اِتنی محنتوں کا بس یہی ایک صلہ ہے۔
سلام، اے دل کش سِرمیو، اور اپنے مالک پر خوش ہو؛
تم بھی خوش ہو، اے لُڈیا کی جھیل کی موجو؛
ہنسو، گھر میں جتنے بھی قہقہے ہیں۔
ocelle, quascumque in liquentibus stagnis
marique vasto fert uterque Neptunus,
quam te libenter quamque laetus inviso,
vix mi ipse credens Thyniam atque Bithynos
liquisse campos et videre te in tuto!
o quid solutis est beatius curis,
cum mens onus reponit, ac peregrino
labore fessi venimus larem ad nostrum
desideratoque adquiescimus lecto?
hoc est quod unum est pro laboribus tantis.
salve, o venusta Sirmio, atque ero gaude;
gaudete vosque, o Lydiae lacus undae;
ridete, quidquid est domi cachinnorum.
میری چہیتی، میری لطافت،
حکم دے کہ میں دوپہر کو تیرے پاس آؤں۔
اور اگر تُو یہ حکم دے، تو یہ بھی کر دینا
کہ کوئی دروازے کی چٹخنی نہ لگائے،
نہ تجھے باہر جانے کا شوق چرائے؛
بلکہ گھر میں رہ اور ہمارے لیے
لگاتار نو وصال تیار رکھ۔
مگر اگر کچھ کرنا ہے، تو فوراً حکم دے:
کیونکہ میں کھانا کھا کر، سیر ہو کر چت لیٹا،
اپنی قمیض اور چادر کو اُوپر اٹھائے ہوں۔
meae deliciae, mei lepores,
iube ad te veniam meridiatum.
et si iusseris illud, adiuvato,
ne quis liminis obseret tabellam,
neu tibi libeat foras abire;
sed domi maneas paresque nobis
novem continuas fututiones.
verum, si quid ages, statim iubeto:
nam pransus iaceo et satur supinus
pertundo tunicamque palliumque.
باپ وِبینّس، اور تُو زن صفت بیٹے،
(کیونکہ باپ کا دایاں ہاتھ زیادہ گندا ہے،
اور بیٹے کی پچھلی چور زیادہ پیٹو)
تم کیوں نہ جلاوطنی اور کسی برے کنارے
چلے جاتے، جب کہ باپ کی چوریاں
سب کو معلوم ہیں، اور تُو، بیٹے، اپنی بالوں والی
پچھلی چور ایک پھوٹی کوڑی کو بھی نہیں بیچ سکتا؟
Vibenni pater, et cinaede fili,
(nam dextra pater inquinatiore,
culo filius est voraciore)
cur non exsilium malasque in oras
itis, quandoquidem patris rapinae
notae sunt populo, et natis pilosas,
fili, non potes asse venditare?
پاکیزہ لڑکیاں اور لڑکے؛
پاکیزہ لڑکو، ڈایانا کے،
اور لڑکیو، ہم گیت گائیں۔
اے لاتونا کی بیٹی، عظیم
مشتری کی عظیم نسل،
جسے تیری ماں نے ڈیلوس کے
زیتون کے پاس جنم دیا،
تاکہ تُو پہاڑوں کی مالکن ہو،
اور سرسبز جنگلوں کی،
اور چھپے ہوئے بیابانوں کی،
اور گونجتے دریاؤں کی؛
تُو زچگی کے درد میں مبتلا عورتوں کے لیے
لوسینا اور جونو کہلاتی ہے،
تُو زورآور تِرِویا ہے، اور مانگے کی
روشنی سے لُونا کہلاتی ہے۔
تُو، اے دیوی، اپنے ماہانہ سفر سے
سال کی راہ ناپتی،
کسان کے دیہاتی گھروں کو
اچھی فصلوں سے بھر دیتی ہے۔
جس نام سے بھی تُو چاہے مقدس ہو،
اور رومولس کی قوم کو،
جیسے تیرا پرانا دستور ہے، اپنی
اچھی مدد سے سلامت رکھ۔
puellae et pueri integri;
Dianam pueri integri
puellaeque canamus.
O Latonia, maximi
magna progenies Iovis,
quam mater prope Deliam
deposivit olivam,
montium domina ut fores
silvarumque virentium
saltuumque reconditorum
amniumque sonantum;
tu Lucina dolentibus
Iuno dicta puerperis,
tu potens Trivia et notho es
dicta lumine Luna.
tu cursu, dea, menstruo
metiens iter annuum
rustica agricolae bonis
tecta frugibus exples.
sis quocumque tibi placet
sancta nomine, Romulique,
antique ut solita es, bona
sospites ope gentem.
میرے دوست کیسیلیس سے کہہ دے،
کہ وہ ویرونا آئے، نئے کومو کی
فصیلیں اور لاریوس کا ساحل چھوڑ کر:
کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اور میرے
ایک دوست کی کچھ باتیں سنے۔
سو، اگر عقل مند ہو گا، تو راستہ نگل جائے گا،
گو ہزار بار وہ گوری دوشیزہ
جاتے ہوئے اُسے پکارے، اور اپنے دونوں ہاتھ
اُس کی گردن میں ڈال کر ٹھہرنے کی منت کرے،
جو اب، اگر مجھے سچ بتایا گیا ہے،
اُس پر بےقابو عشق میں مر مٹی ہے:
کیونکہ جب سے اُس نے اُس کی شروع کی ہوئی
"سائبیلی، ڈِنڈِمس کی مالکن" پڑھی، تب سے بیچاری کے
گہرے مغز کو شعلے کھا رہے ہیں۔
میں تجھے معاف کرتا ہوں، اے سیفو کی دوشیزہ سے بھی
دانا لڑکی: کیونکہ کیسیلیس نے دل کشی سے
"عظیم ماں" شروع کی ہے۔
velim Caecilio, papyre, dicas,
Veronam veniat, Novi relinquens
Comi moenia Lariumque litus:
nam quasdam volo cogitationes
amici accipiat sui meique.
quare, si sapiet, viam vorabit,
quamvis candida milies puella
euntem revocet manusque collo
ambas iniciens roget morari,
quae nunc, si mihi vera nuntiantur,
illum deperit impotente amore:
nam quo tempore legit incohatam
Dindymi dominam, ex eo misellae
ignes interiorem edunt medullam.
ignosco tibi, Sapphica puella
Musa doctior: est enim venuste
Magna Caecilio incohata Mater.
میری محبوبہ کی منت پوری کرو:
کیونکہ اُس نے مقدس وینس اور کیوپڈ کے حضور
منت مانی، اگر میں اُس سے واپس مل جاؤں
اور تلخ ہجو کے تیر پھینکنا چھوڑ دوں،
تو وہ بدترین شاعر کی چیدہ چیدہ
تحریریں لنگڑے دیوتا کو دے گی
کہ منحوس لکڑیوں پر جلائی جائیں۔
اور بدترین لڑکی نے یہ دیکھا کہ اُس نے
دیوتاؤں کے حضور یہ مذاق و ظرافت کی منت مانی۔
اب، اے نیلے سمندر سے جنم لینے والی،
جو مقدس اِدالیم اور کھلی اُوری،
اور اَنکونا اور سرکنڈوں بھری کنِڈس،
اور اماتھُس اور گولگی میں بستی ہے،
اور اَدریا کے میکدے دُرّاکیم میں،
اِس منت کو قبول اور ادا شدہ کر دے،
اگر یہ بےلطف اور بےکشش نہ ہو۔
اور تم اِس دوران آگ میں آ جاؤ،
اے دیہاتی پن اور بےہودگی سے بھری
وولوسیس کی تواریخ، ہگے ہوئے کاغذ۔
votum solvite pro mea puella:
nam sanctae Veneri Cupidinique
vovit, si sibi restitutus essem
desissemque truces vibrare iambos,
electissima pessimi poetae
scripta tardipedi deo daturam
infelicibus ustilanda lignis.
et hoc pessima se puella vidit
iocose lepide vovere divis.
nunc, o caeruleo creata ponto,
quae sanctum Idalium Uriosque apertos,
quaeque Ancona Cnidumque harundinosam
colis, quaeque Amathunta, quaeque Golgos,
quaeque Durrachium Hadriae tabernam,
acceptum face redditumque votum,
si non inlepidum neque invenustum est.
at vos interea venite in ignem,
pleni ruris et inficetiarum
Annales Volusi, cacata charta.
اُن ٹوپی والے بھائیوں سے نویں ستون پر،
کیا تم سمجھتے ہو کہ عضو صرف تمہارے پاس ہیں،
تمہیں ہی حق ہے کہ جتنی لڑکیاں ہیں
اُن سے ہمبستری کرو اور باقی سب کو بکرے سمجھو؟
یا، کہ تم قطار میں بیٹھے احمق
سو یا دو سو ہو، تو کیا سمجھتے ہو کہ میں
اکیلا تم دو سو بیٹھنے والوں کا منہ بند نہ کروں گا؟
تو یقین کر لو: کیونکہ میں سارے
میخانے کا ماتھا فحش نقشوں سے بھر دوں گا۔
کیونکہ میری وہ محبوبہ، جو میرے سینے سے بھاگ گئی،
اِتنی چاہی جتنی کوئی نہ چاہی جائے گی،
جس کے لیے میں نے بڑی بڑی جنگیں لڑیں،
وہ یہاں آ بیٹھی ہے۔ اِسے تم سب معزز اور خوش نصیب
چاہتے ہو، اور — جو شرم کی بات ہے —
تم سب ننھے، گلی گلی پھرنے والے آشنا؛
تُو سب سے بڑھ کر، اے بالوں والوں میں سے ایک،
خرگوشوں بھری کیلٹِبیریا کے بیٹے،
اے اِگناتیس، جسے گھنی داڑھی معزز بناتی ہے
اور ہسپانوی پیشاب سے مانجھے ہوئے دانت۔
a pilleatis nona fratribus pila,
solis putatis esse mentulas vobis,
solis licere quidquid est puellarum
confutuere et putare ceteros hircos?
an, continenter quod sedetis insulsi
centum an ducenti, non putatis ausurum
me una ducentos irrumare sessores?
atqui putate: namque totius vobis
frontem tabernae sopionibus scribam.
puella nam mi, quae meo sinu fugit,
amata tantum quantum amabitur nulla,
pro qua mihi sunt magna bella pugnata,
consedit istic. hanc boni beatique
omnes amatis, et quidem, quod indignum est,
omnes pusilli et semitarii moechi:
tu praeter omnes une de capillatis,
cuniculosae Celtiberiae fili,
Egnati, opaca quem bonum facit barba
et dens Hibera defricatus urina.
خدا کی قسم برا حال ہے، اور تکلیف میں،
اور دن بدن، گھنٹے بہ گھنٹے بڑھتا جاتا ہے۔
اور تُو نے، جو نہایت معمولی اور آسان سی بات تھی،
کس تسلی کے بول سے اُسے دلاسا دیا؟
مجھے تجھ پر غصہ ہے۔ کیا میرے عشق کی یہی قدر؟
ذرا سے تسلی کے بول ہی سہی،
سیمونیدیس کے آنسوؤں سے بھی زیادہ غمگین۔
male est me hercule ei et laboriose,
et magis magis in dies et horas.
quem tu, quod minimum facillimumque est,
qua solatus es adlocutione?
irascor tibi.sic meos amores?
paulum quid libet adlocutionis,
maestius lacrimis Simonideis.
ہر جگہ دانت نکالتا رہتا ہے۔ اگر عدالت کی
کٹہری تک بات پہنچے، جہاں وکیل رونا رلاتا ہو،
وہ دانت نکالتا ہے۔ اگر کسی نیک بیٹے کی چتا پر
ماتم ہو، جہاں بےاولاد ماں اکلوتے کو روتی ہو،
وہ دانت نکالتا ہے۔ جو کچھ بھی ہو، جہاں بھی ہو،
جو کچھ بھی کرے، دانت نکالتا ہے۔ اُسے یہ روگ ہے،
جو، میرے خیال میں، نہ خوش ذوق ہے نہ شائستہ۔
سو مجھے تجھے نصیحت کرنی ہے، اے نیک اِگناتیس۔
اگر تُو رومی ہوتا یا سبائن یا تِبُرتین،
یا کفایت شعار اُمبرین یا موٹا اِتروسکن،
یا کالا اور دانتوں والا لانووین،
یا ٹرانسپادان، کہ اپنوں کا بھی ذکر کروں،
یا جو کوئی بھی صاف پانی سے دانت دھوتا ہو،
تب بھی میں نہ چاہتا کہ تُو ہر جگہ دانت نکالے؛
کیونکہ بےتُکی ہنسی سے بڑھ کر بےتُکی بات کوئی نہیں۔
مگر تُو کیلٹِبیرین ہے: اور کیلٹِبیریا کی سرزمین میں
ہر شخص جو پیشاب کرے، اُسی سے صبح
اپنے دانت اور سرخ مسوڑھے مانجھا کرتا ہے،
سو جتنا تمہارا وہ دانت زیادہ چمکیلا ہو،
اُتنا ہی زیادہ ثابت کرتا ہے کہ تُو نے پیشاب پیا۔
renidet usque quaque.si ad rei ventum est
subsellium, cum orator excitat fletum,
renidet ille. si ad pii rogum fili
lugetur, orba cum flet unicum mater,
renidet ille.quidquid est, ubicumque est,
quodcumque agit, renidet.hunc habet morbum
neque elegantem, ut arbitror, neque urbanum.
quare monendum est te mihi, bone Egnati.
si urbanus esses aut Sabinus aut Tiburs
aut parcus Umber aut obesus Etruscus
aut Lanuvinus ater atque dentatus
aut Transpadanus, ut meos quoque attingam,
aut qui libet qui puriter lavit dentes,
tamen renidere usque quaque te nollem;
nam risu inepto res ineptior nulla est.
nunc Celtiber es: Celtiberia in terra,
quod quisque minxit, hoc sibi solet mane
dentem atque russam defricare gingivam,
ut quo iste vester expolitior dens est,
hoc te amplius bibisse praedicet loti.
تجھے سر کے بل میرے ہجویہ شعروں میں دھکیل رہی ہے؟
کون سا دیوتا، جسے تُو نے غلط پکارا،
تجھے دیوانہ جھگڑا مچانے کو تیار کر رہا ہے؟
یا اِس لیے کہ تُو لوگوں کی زبان پر چڑھے؟
تُو چاہتا کیا ہے؟ جیسے بھی ہو، مشہور ہونا چاہتا ہے؟
ہو جائے گا، جب کہ تُو نے میرے محبوب کو
لمبی سزا سمیت چاہنے کی خواہش کی۔
agit praecipitem in meos iambos?
quis deus tibi non bene advocatus
vecordem parat excitare rixam?
an ut pervenias in ora vulgi?
quid vis? qua libet esse notus optas?
eris, quandoquidem meos amores
cum longa voluisti amare poena.
سب ہر طرف سے، جتنے بھی سب ہو۔
ایک بدکار فاحشہ مجھے مذاق سمجھتی ہے
اور کہتی ہے کہ وہ تمہاری تختیاں
واپس نہیں کرے گی، اگر تم یہ سہہ سکو۔
آؤ اُس کے پیچھے چلیں، اور تقاضا کریں۔
پوچھتے ہو وہ کون ہے؟ وہی جسے تم دیکھتے ہو
بھونڈے پن سے چلتی، بھونڈے اداکاروں کی طرح
گالیہ کے پلّے کے منہ جیسا ہنستی۔
اُسے گھیر لو، اور تقاضا کرو:
"اے سڑی فاحشہ، تختیاں واپس کر،
واپس کر، سڑی فاحشہ، تختیاں۔"
پروا نہیں کرتی؟ اے کیچڑ، اے چکلے،
یا جو اِس سے بھی زیادہ گھٹیا ہو سکے۔
مگر پھر بھی اِسے کافی نہ سمجھنا چاہیے۔
اگر اور کچھ نہ ہو سکے، تو اُس کتیا کے
لوہے سے سخت چہرے پر سرخی نچوڑ لائیں۔
پھر بلند آواز میں دوبارہ چلاؤ:
"اے سڑی فاحشہ، تختیاں واپس کر،
واپس کر، سڑی فاحشہ، تختیاں۔"
مگر ہم کچھ نہیں کر پاتے، وہ ذرا نہیں ہلتی۔
ہمیں اپنا طریقہ اور انداز بدلنا ہو گا،
اگر تم کچھ اور کر سکو:
"اے پاکباز اور نیک، تختیاں واپس کر۔"
omnes undique, quotquot estis omnes.
iocum me putat esse moecha turpis
et negat mihi vestra reddituram
pugillaria, si pati potestis.
persequamur eam, et reflagitemus.
quae sit quaeritis? illa quam videtis
turpe incedere, mimice ac moleste
ridentem catuli ore Gallicani.
circumsistite eam, et reflagitate:
moecha putida, redde codicillos,
redde, putida moecha, codicillos.
non assis facis? o lutum, lupanar,
aut si perditius potes quid esse.
sed non est tamen hoc satis putandum.
quod si non aliud potest, ruborem
ferreo canis exprimamus ore.
conclamate iterum altiore voce
moecha putida, redde codicillos,
redde, putida moecha, codicillos.
sed nil proficimus, nihil movetur.
mutanda est ratio modusque nobis,
si quid proficere amplius potestis,
pudica et proba, redde codicillos.
(کیونکہ جو کاتُلس کو دکھ دینا نہیں چاہتے، وہ تجھے
تِبُرتین کہتے ہیں: مگر جو دکھ دینا چاہتے ہیں،
وہ کسی بھی شرط پر تجھے سبائن ثابت کرنے پر تلے ہیں)،
مگر خیر، سبائن یا زیادہ سچ پوچھو تو تِبُرتین،
میں تیرے شہر سے باہر کی جائیداد میں خوشی سے رہا،
اور سینے سے بری کھانسی نکال پھینکی،
جو میرے پیٹ نے مجھے، جبکہ میں مہنگے
کھانوں کا لالچی تھا، بجا طور پر دی تھی۔
کیونکہ جب میں سیستیس کا مہمان بننا چاہا،
تو میں نے اَنتیس کے اُمیدوار کے خلاف اُس کی
زہر اور وبا سے بھری تقریر پڑھی۔
یہاں مجھے شدید سردی اور مسلسل کھانسی نے
جھنجھوڑا، یہاں تک کہ میں تیری گود میں بھاگ آیا
اور آرام اور بِچھو بوٹی سے خود کو ٹھیک کیا۔
سو صحت یاب ہو کر میں تیرا بہت شکر گزار ہوں،
کہ تُو نے میری خطا کا بدلہ نہ لیا۔
اور اب میں دعا نہیں مانگتا، اگر میں سیستیس کی
منحوس تحریریں پھر پڑھوں، تو زکام اور کھانسی
مجھے نہیں، بلکہ خود سیستیس کو سردی لگائیں،
جو مجھے تب ہی بلاتا ہے جب مجھے اُس کی بری کتاب پڑھنی پڑے۔
(nam te esse Tiburtem autumant quibus non est
cordi Catullum laedere: at quibus cordi est
quovis Sabinum pignore esse contendunt),
sed seu Sabine sive verius Tiburs,
fui libenter in tua suburbana
villa malamque pectore expuli tussim,
non immerenti quam mihi meus venter,
dum sumptuosas adpeto, dedit, cenas.
nam, Sestianus dum volo esse conviva,
orationem in Antium petitorem
plenam veneni et pestilentiae legi.
hic me gravido frigida et frequens tussis
quassavit usque dum in tuum sinum fugi
et me recuravi otioque et urtica.
quare refectus maximas tibi grates
ago, meum quod non es ulta peccatum.
nec deprecor iam, si nefaria scripta
Sesti recepso, quin gravedinem et tussim
non mi, sed ipsi Sestio ferat frigus,
qui tunc vocat me cum malum librum legi.
گود میں لیے، کہنے لگا: "میری اَکمے،
اگر میں تجھے دیوانہ وار نہ چاہوں، اور آگے
ہمیشہ، سب برسوں تک، مسلسل چاہنے کو تیار نہ ہوں،
جتنا کوئی سب سے زیادہ مر مٹ سکتا ہے،
تو میں اکیلا لیبیا اور جھلسے ہندوستان میں
نیلی آنکھوں والے شیر کے سامنے آ جاؤں۔"
جیسے ہی اُس نے یہ کہا، عشق نے، جو پہلے بائیں تھا،
اب دائیں سے چھینک کر منظوری دی۔
مگر اَکمے نے ہلکے سے سر موڑ کر
اور اُس پیارے لڑکے کی مخمور آنکھوں کو
اُس اپنے گلابی منہ سے چوم کر
یوں کہا: "میری جان، میرے سیپتیمِلّس،
ہم اِسی ایک آقا کی سدا خدمت کریں،
کہ مجھ میں کہیں زیادہ بڑی اور تیز
آگ نرم مغز میں جل رہی ہے۔"
جیسے ہی اُس نے یہ کہا، عشق نے، جو پہلے بائیں تھا،
اب دائیں سے چھینک کر منظوری دی۔
اب اِس اچھے شگون سے چل کر
باہم دل سے چاہتے اور چاہے جاتے ہیں۔
بیچارا سیپتیمیس اکیلی اَکمے کو
شام اور برطانیہ سب پر ترجیح دیتا ہے:
اکیلے سیپتیمیس میں وفادار اَکمے
اپنی سب لذتیں اور خواہشیں پاتی ہے۔
کس نے اِن سے زیادہ خوش نصیب انسان دیکھے،
کس نے اِس سے زیادہ بابرکت عشق دیکھا؟
tenens in gremio mea, inquit, Acme,
ni te perdite amo atque amare porro
omnes sum adsidue paratus annos
quantum qui pote plurimum perire,
solus in Libya Indiaque tosta
caesio veniam obvius leoni.
hoc ut dixit, Amor, sinistra ut ante,
dextra sternuit adprobationem.
at Acme leviter caput reflectens
et dulcis pueri ebrios ocellos
illo purpureo ore saviata
sic, inquit, mea vita, Septimille,
huic uni domino usque serviamus,
ut multo mihi maior acriorque
ignis mollibus ardet in medullis.
hoc ut dixit, Arnor, sinistra ut ante,
dextra sternuit adprobationem.
nunc ab auspicio bono profecti
mutuis animis amant amantur.
unam Septimius misellus Acmen
mavult quam Syrias Britanniasque:
uno in Septimio fidelis Acme
facit delicias libidinesque.
quis ullos homines beatiores
vidit, quis Venerem auspicatiorem?
اب آسمان کا سرمائی طوفان
زیفِرس کی خوشگوار ہواؤں میں تھم رہا ہے۔
اے کاتُلس، فریجیا کے میدان چھوڑ دو،
اور گرم نیکایا کی زرخیز زمین:
آؤ ایشیا کے روشن شہروں کی طرف اُڑیں۔
اب بےقرار دل آوارگی کو تڑپتا ہے،
اب شوق سے چور پاؤں پھرتی سے بھر گئے۔
اے ساتھیوں کی میٹھی محفلو، الوداع،
جو ایک ساتھ گھر سے دور نکلے تھے،
اور جنہیں الگ الگ راہیں واپس لے جاتی ہیں۔
iam caeli furor aequinoctialis
iucundis Zephyri silescit auris.
linquantur Phrygii, Catulle, campi
Nicaeaeque ager uber aestuosae:
ad claras Asiae volemus urbes.
iam mens praetrepidans avet vagari,
iam laeti studio pedes vigescunt.
o dulces comitum valete coetus,
longe quos simul a domo profectos
diversae variae viae reportant.
اگر کوئی مجھے مسلسل چومنے دے،
تو میں تین لاکھ بار چوموں،
اور کبھی سیر ہوتا نہ دکھائی دوں،
گو ہمارے بوسوں کی فصل خشک
گندم کی بالوں سے بھی گھنی ہو جائے۔
siquis me sinat usque basiare,
usque ad milia basiem trecenta,
nec unquam videar satur futurus,
non si densior aridis aristis
sit nostrae seges osculationis.
جتنے اب ہیں اور جتنے کبھی تھے، اے مارکس تُلّیس،
اور جتنے آگے برسوں میں ہوں گے،
تجھے سب سے بڑا شکریہ کاتُلس
پیش کرتا ہے، سب شاعروں میں بدترین،
اُتنا ہی سب شاعروں میں بدترین
جتنا تُو سب وکیلوں میں بہترین ہے۔
quot sunt quotque fuere, Marce Tulli,
quotque post aliis erunt in annis,
gratias tibi maximas Catullus
agit pessimus omnium poeta,
tanto pessimus omnium poeta
quanto tu optimus omnium patronus.
اور میری تختیوں پر خوب کھیلے،
جیسا طے تھا کہ ہم رنگیلے بنیں۔
ہم دونوں شعر لکھتے
کبھی اِس بحر میں، کبھی اُس میں کھیلتے،
مذاق اور شراب کے دوران باہم جواب دیتے۔
اور میں وہاں سے تیری ظرافت اور
لطافت سے جلا ہوا لوٹا، اے لِسینیس،
یہاں تک کہ نہ مجھ بدنصیب کو کھانا بھایا،
نہ نیند نے میری آنکھیں سکون سے ڈھانپیں،
بلکہ سارے بستر پر بےقابو جنون سے
کروٹیں بدلتا، صبح دیکھنے کو تڑپتا رہا،
کہ تجھ سے بات کروں اور تیرے ساتھ ہوں۔
مگر جب محنت سے تھکے اعضا
نیم مُردہ بستر پر پڑ گئے،
تو میں نے، اے پیارے، تیرے لیے یہ نظم لکھی،
جس سے تُو میرا دکھ سمجھ لے۔
اب زیادہ اکڑ نہ دکھانا، اور ہماری التجاؤں کو،
میں منت کرتا ہوں، ٹھکرا نہ دینا، اے آنکھ کی پُتلی،
کہیں نیمیسس تجھ سے سزا نہ مانگ لے۔
وہ سخت گیر دیوی ہے: اُسے دکھ دینے سے بچنا۔
multum lusimus in meis tabellis,
ut convenerat esse delicatos.
scribens versiculos uterque nostrum
ludebat numero modo hoc modo illoc,
reddens mutua per iocum atque vinum.
atque illinc abii tuo lepore
incensus, Licini, facetiisque,
ut nec me miserum cibus iuvaret,
nec somnus tegeret quiete ocellos,
sed toto indomitus furore lecto
versarer cupiens videre lucem,
ut tecum loquerer simulque ut essem.
at defessa labore membra postquam
semimortua lectulo iacebant,
hoc, iucunde, tibi poema feci,
ex quo perspiceres meum dolorem.
nunc audax cave sis, precesque nostras,
oramus, cave despuas, ocelle,
ne poenas Nemesis reposcat a te.
est vehemens dea: laedere hanc caveto.
وہ، اگر جائز ہو، تو دیوتاؤں سے بھی بڑھ کر،
جو تیرے سامنے بیٹھا بار بار تجھے
دیکھتا اور سنتا ہے،
میٹھا ہنستے ہوئے، جو مجھ بدنصیب سے سب
حواس چھین لیتا ہے: کیونکہ جیسے ہی، اے لیزبیا،
میں نے تجھے دیکھا، مجھ میں کچھ باقی نہ رہا،
بلکہ زبان لڑکھڑا گئی، اعضا کے نیچے باریک
شعلہ سرک گیا، اپنے ہی شور سے
کان بجنے لگے، دونوں آنکھیں
دوہری رات میں ڈھک گئیں۔
فرصت، اے کاتُلس، تیرے لیے وبال ہے:
فرصت میں تُو اِٹھلاتا اور بہت اُچھلتا ہے۔
فرصت نے پہلے بادشاہوں اور خوش حال
شہروں کو تباہ کیا ہے۔
ille, si fas est, superare divos
qui sedens adversus identidem te
spectat et audit
dulce ridentem, misero quod omnis
eripit sensus mihi: nam simul te,
Lesbia, adspexi, nihil est super mi
lingua sed torpet, tenuis sub artus
flamma demanat, sonitu suopte
tintinant aures, gemina teguntur
lumina nocte.
otium, Catulle, tibi molestum est:
otio exsultas nimiumque gestis.
otium et reges prius et beatas
perdidit urbes.
تو ہمیں بتا کہ تیری خلوتیں کہاں ہیں۔
ہم نے تجھے چھوٹے میدان میں ڈھونڈا،
تجھے سرکس میں، تجھے سب کتابوں کی دکانوں میں،
تجھے مشتریِ اعظم کے مقدس مندر میں۔
پومپیے کے چوک میں بھی، اے دوست، میں نے
سب عورتوں کو پکڑ پکڑ کر دیکھا،
جن کے چہرے مگر مجھے پُرسکون ملے۔
یوں ہی میں چلّا چلّا کر تقاضا کرتا رہا:
"میرا کامیریس مجھے دو، اے بدکار لڑکیو!"
ایک نے، اپنا ننگا سینہ کھول کر، کہا:
"دیکھ، وہ یہاں گلابی چھاتیوں میں چھپا ہے۔"
مگر تجھے اب سہنا ہرکیولیس کی مشقت ہے:
گو میں کریتے کا وہ محافظ بن جاؤں،
گو میں پیگاسس کی سی اُڑان بھروں،
گو میں لاداس ہوں یا پروں والا پرسیوس،
گو ریسس کے برف سے سفید تیز رتھ،
اِن میں پروں والے اور اُڑنے والے سب جوڑ دو،
اور ہواؤں کی رفتار بھی طلب کر لو،
اُنہیں، کامیریس، تُو میرے لیے مسخر کر دے:
پھر بھی میں تمام مغز تک تھکا،
اور بہت سی نقاہتوں سے چُور،
تجھے، اے دوست، ڈھونڈتے ڈھونڈتے رہ جاؤں۔
تُو اِتنی اکڑ سے انکار کرتا ہے، اے دوست؟
ہمیں بتا کہ تُو کہاں ہو گا، بےدھڑک
بول دے، سونپ دے، روشنی کے سپرد کر۔
اب کیا تجھے دودھیا لڑکیاں تھامے ہیں؟
اگر تُو زبان بند منہ میں رکھے گا،
تو عشق کے سارے پھل گنوا دے گا:
وینس باتونی گفتگو سے خوش ہوتی ہے۔
یا اگر چاہے تو تالو بند رکھ،
بشرطیکہ تُو سچے عشق میں شریک ہو۔
demonstres ubi sint tuae tenebrae.
te campo quaesivimus minore,
te in circo, te in omnibus libellis,
te in templo summi Iovis sacrato.
in Magni simul ambulatione
femellas omnes, amice, prendi,
quas vultu vidi tamen serenas.
† A velte sic ipse flagitabam:
camerium mihi, pessimae puellae!
quaedam inquit nudum † reduc †
en hic in roseis latet papillis.
sed te iam ferre Herculi labos est:
Non custos si fingar ille Cretum,
non si Pegaseo ferar volatu,
non Ladas ego pinnipesve Perseus,
non Rhesi niveae citaeque bigae:
adde huc plumipedes volatilesque,
ventorumque simul require cursum,
quos vinctos, Cameri, mihi dicares:
defessus tamen omnibus medullis
et multis langoribus peresus
essem te mihi, amice, quaeritando.
tanto ten fastu negas, amice?
dic nobis ubi sis futurus, ede
audacter, committe, crede luci.
nunc te lacteolae tenent puellae?
si linguam clauso tenes in ore,
fructus proicies amoris omnes:
verbosa gaudet Venus loquella.
vel vi vis, licet obseres palatum,
dum veri sis particeps amoris.
مامُرّا اور سیزر کی، دونوں کی۔
اور کیا عجب: دونوں پر برابر داغ ہیں،
ایک رومی، دوسرا فورمیانی،
گہرے جمے ہوئے، جو دُھلتے ہی نہیں:
دونوں یکساں بیمار جڑواں،
ایک ہی ننھی چارپائی پر، دونوں فاضل نما،
یہ اُس سے کچھ کم پیٹو زانی نہیں،
لڑکیوں کے شریک رقیب:
اُن دو بےحیا زن صفتوں کی خوب بنتی ہے۔
Mamurrae pathicoque Caesarique.
nec mirum: maculae pares utrisque,
urbana altera et illa Formiana,
impressae resident nec eluentur:
morbosi pariter gemelli utrique,
uno in lecticulo erudituli ambo,
non hic quam ille magis vorax adulter,
rivales socii puellularum:
pulchre convenit improbis cinaedis.
مینینس کی بیوی، جسے تم نے اکثر قبرستانوں میں
چتا سے ہی کھانا اُچکتے دیکھا ہے،
جب وہ آگ سے لڑھکتی روٹی کے پیچھے بھاگتی،
تو آدھے منڈے مُردہ جلانے والے سے پٹتی تھی۔
uxor Meneni, saepe quam in sepulcretis
vidistis ipso rapere de rogo cenam,
cum devolutum ex igne prosequens panem
ab semiraso tunderetur ustore.
یا اپنے نچلے حصے میں بھونکتی سِکِلا نے
تجھے اِتنے سخت اور مکروہ دل سے جنا،
کہ تُو نے سب سے نئی مصیبت میں کسی
منت کرنے والے کی پکار کو حقیر جانا، اے حد سے سنگ دل؟
aut Scylla latrans infima inguinum parte
tam mente dura procreavit ac taetra,
ut supplicis vocem in novissimo casu
contemptam haberes, ah nimis fero corde?
باسی، یورانیہ کے فرزند،
جو نازک کنواری کو کھینچ کر
شوہر کے پاس لے جاتے ہو، اے ہائیمینائیوس ہائیمن،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس،
اپنی کنپٹیوں کو پھولوں سے سجاؤ،
خوشبودار مرزنجوش کے،
شعلہ رنگ گھونگھٹ اٹھاؤ، خوش دلی سے
یہاں آؤ، اپنے برف جیسے پاؤں میں
زرد رنگ کی جوتی پہنے،
اور اِس مسرت بھرے دن سے جاگ کر
نکاح کے گیت گنگناتے ہوئے
اپنی رَسیلی آواز میں
زمین کو پاؤں سے کوٹو، ہاتھ سے
صنوبر کی مشعل جھلاؤ۔
کیونکہ وِینیا مانلیوس کے لیے،
جیسے اِدالیوم میں بسنے والی
وینس فروجیائی جج کے پاس آئی تھی،
ویسے ہی نیک شگون کے ساتھ
یہ نیک کنواری بیاہی جائے گی،
جیسے پھولوں سے دمکتی ہوئی
ایشیا کی مہندی اپنی نرم شاخوں پر،
جنہیں جنگل کی دیویاں، ہماڈریاڈیں،
اپنے کھیل کے لیے شبنم کی
نمی سے سینچتی ہیں۔
پس چلو، اِدھر قدم بڑھاتے ہوئے
آگے بڑھو، تھیسپیائی چٹان کی
آؤنیائی غاریں چھوڑ دو،
جن پر اوپر سے پری آگانِپّے
ٹھنڈی دھار برساتی ہے،
اور بانو کو گھر بلاؤ،
جو نئے شوہر کی مشتاق ہے،
اُس کے دل کو محبت سے یوں باندھو
جیسے لپکتی ہوئی آئیوی اِدھر اُدھر
بھٹکتی ہوئی درخت کو لپیٹ لیتی ہے۔
اور تم بھی اُسی طرح، اے پاکیزہ
کنواریو، جن کے لیے آ پہنچا ہے
ویسا ہی دن، سُر میں
گاؤ، اے ہائیمینائیوس ہائیمن،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
تاکہ وہ زیادہ خوشی سے، یہ سُن کر
کہ اُسے اُس کے فرض کے لیے
بلایا جا رہا ہے، اِدھر قدم بڑھائے،
نیک وینس کا رہنما، نیک
محبت کو جوڑنے والا۔
بےقرار عاشقوں کے لیے
اِس سے بڑھ کر کون سا دیوتا مانگا جائے؟
آسمانیوں میں کس کی
انسان زیادہ پرستش کریں گے؟ اے ہائیمینائیوس ہائیمن،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
تھرتھراتا باپ اپنے پیاروں کے لیے
تجھے پکارتا ہے، تیرے لیے کنواریاں
اپنی کمر کی پیٹی کھولتی ہیں،
تجھ سے ڈرتے ہوئے نیا شوہر
مشتاق کان لگا کر تجھے پکڑتا ہے۔
تو خود ہی پھول سی ننھی لڑکی کو
اُس کی ماں کی گود سے اٹھا کر
جوشیلے جوان کے ہاتھوں میں
سونپتا ہے، اے ہائیمینائیوس ہائیمن،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
تیرے بغیر وینس بھی کوئی
ایسی نعمت نہیں پا سکتی جسے
نیک نامی سراہے: مگر پا سکتی ہے
تیری مرضی سے۔ اِس دیوتا کا
مقابلہ کرنے کی کون جرأت کرے؟
تیرے بغیر کوئی گھر
اولاد نہیں دے سکتا، نہ کوئی باپ
اپنی نسل پر ٹیک لگا سکتا ہے: مگر پا سکتا ہے
تیری مرضی سے۔ اِس دیوتا کا
مقابلہ کرنے کی کون جرأت کرے؟
جو سرزمین تیرے مقدس رسموں سے محروم ہو
وہ اپنی سرحدوں کو نگہبان
نہیں دے سکتی: مگر دے سکتی ہے
تیری مرضی سے۔ اِس دیوتا کا
مقابلہ کرنے کی کون جرأت کرے؟
دروازے کے کواڑ کھول دو،
کنواری آ گئی ہے۔ دیکھتے ہو کیسے مشعلیں
اپنی چمکیلی لٹیں جھلاتی ہیں؟
فطری حیا اُسے روکتی ہے:
پھر بھی وہ زیادہ سُن کر
روتی ہے کہ جانا لازم ہے۔
رونا بند کرو۔ تجھے، اَو-
رُنکولیا، یہ خطرہ نہیں
کہ تجھ سے کوئی حسین عورت
سمندر سے آتے ہوئے روشن دن کو
دیکھ چکی ہو۔
ایسے ہی کسی دولت مند مالک کے
رنگ برنگے باغیچے میں
سنبل کا پھول کھڑا رہتا ہے۔
مگر تو ٹھہری ہے، دن ڈھلتا ہے:
باہر آ، نئی دلہن۔
باہر آ، نئی دلہن، اگر
اب مناسب لگے، اور سُن
ہمارے بول۔ دیکھ کیسے مشعلیں
اپنی سنہری لٹیں جھلاتی ہیں:
باہر آ، نئی دلہن۔
تیرا شوہر ہلکا مزاج نہیں،
بُری بدکاری میں غرق نہیں،
شرمناک عیب کے پیچھے بھاگتا نہیں،
وہ تیری نرم چھاتیوں سے
الگ سونا نہ چاہے گا،
بلکہ جیسے لچکیلی بیل لگے ہوئے
درختوں کو لپیٹ لیتی ہے،
ویسے وہ تیرے آغوش میں
لپٹا رہے گا۔ مگر دن ڈھلتا ہے:
باہر آ، نئی دلہن۔
اے وہ بستر جو سب کے لیے
سیج کے سفید پائے پر ہے،
تیرے آقا کو جو خوشیاں آتی ہیں،
کتنی خوشیاں، جو بھٹکتی رات میں
اور دوپہر کے بیچ میں
وہ لطف اٹھائے! مگر دن ڈھلتا ہے:
باہر آ، نئی دلہن۔
اٹھاؤ، اے لڑکو، مشعلیں:
میں دیکھتا ہوں شعلہ رنگ گھونگھٹ آ رہا ہے۔
چلو، سُر میں مل کر گاؤ
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
دیر تک خاموش نہ رہے بیباک
فیسکینائی ٹھٹھول،
اور نہ لڑکوں سے میوے روکے
وہ لونڈا جو سُنتا ہے کہ آقا کی
محبت نے اُسے چھوڑ دیا ہے۔
لڑکوں کو میوے دے، اے نکمے
لونڈے: بہت دیر تک
میووں سے کھیل چکا: اب دل چاہتا ہے
کہ تلاسیوس کی خدمت ہو۔
اے لونڈے، میوے دے۔
دیہاتی عورتیں تجھے حقیر لگتی تھیں،
اے لونڈے، آج بھی اور کل بھی:
اب نائی تیرے چہرے کے
بال کاٹتا ہے۔ بےچارا آہ بےچارا
لونڈے، میوے دے۔
کہا جاتا ہے کہ تُو، اے خوشبو لگے
دولہا، اپنے صاف چہرے والوں سے
رُکنے میں مشکل پاتا ہے: مگر رُک جا۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
ہم جانتے ہیں کہ جو تجھے روا تھا
وہ صرف تُو ہی جانتا تھا: مگر شوہر کو
وہی باتیں روا نہیں رہتیں۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
دلہن، تُو بھی جو کچھ تیرا
شوہر مانگے، خبردار انکار نہ کر،
ورنہ وہ کہیں اور مانگنے چلا جائے۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
دیکھ تیرے شوہر کا گھر کیسا
طاقتور اور خوشحال ہے:
یہ تیری خدمت کرتا رہے
(اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس)۔
جب تک تھرتھراتی کنپٹی ہلاتا ہوا
سفید بالوں والا بڑھاپا
ہر ایک کو ہر بات میں سر ہلا کر ہاں کہے۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
نیک شگون کے ساتھ اپنے سنہری پاؤں
دہلیز کے پار لے جا،
اور رگڑی ہوئی چوکھٹ میں داخل ہو۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
دیکھ کیسے اکیلا لیٹا ہوا
تیرا شوہر تُوری کی سیج پر
سراپا تیری طرف جھکا ہوا ہے۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
اُس کے سینے میں تجھ سے کم نہیں
دل کی گہرائی میں شعلہ
جلتا ہے، بلکہ اندر اور بھی زیادہ۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
لڑکی کی چکنی ننھی بانہہ چھوڑ دے،
اے چادر پوش لڑکے:
اب وہ شوہر کے بستر کو جائے۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
اے نیک عورتو، جو بوڑھے شوہروں کو
بخوبی جانتی ہو،
اِس ننھی لڑکی کو بستر پر بٹھاؤ۔
اے ہائیمن ہائیمینائیوس اِیو،
اے ہائیمن ہائیمینائیوس۔
اب تُو آ سکتا ہے، اے دولہا:
تیری بیوی حجلے میں ہے،
اپنے پھول سے چہرے سے دمکتی،
سفید بابونہ کے پھول جیسی
یا زرد پوست کے پھول جیسی۔
مگر، اے دولہا، (آسمانی مجھے یوں
مدد دیں) تُو بھی کچھ کم
حسین نہیں، اور نہ وینس
تجھے نظرانداز کرتی ہے۔ مگر دن ڈھلتا ہے:
آگے بڑھ، دیر نہ کر۔
تُو نے دیر نہیں کی،
اب آ رہا ہے۔ نیک وینس
تیری مدد کرے، کیونکہ کھلے عام
جو چاہتا ہے وہ چاہتا ہے اور نیک
محبت کو نہیں چھپاتا۔
افریقہ کی ریت اور جھلملاتے
ستاروں کی گنتی وہ پہلے
کر لے،
جو تمہارے کھیل کے ہزاروں لطف
گننا چاہے۔
جیسا دل چاہے کھیلو، اور جلد ہی
اولاد دو۔ زیب نہیں دیتا
کہ اتنا پرانا نام
بےاولاد رہے، بلکہ اُسی سے
ہمیشہ نسل چلتی رہے۔
میں چاہتا ہوں کہ ننھا تورکواتوس
اپنی ماں کی گود سے
نرم ہاتھ بڑھاتا ہوا
اپنے باپ کی طرف میٹھا مسکرائے
ادھ کھلے ہونٹوں سے۔
وہ اپنے باپ مانلیوس جیسا ہو
اور آسانی سے، بےخبروں کے لیے بھی،
سب پہچان لیں،
اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی
اپنے چہرے سے گواہی دے۔
ایسی ہی اُس کی نیک ماں سے
تعریف اُس کی نسل کو سراہے،
جیسی اکیلے ٹیلیماکوس کو
اپنی بہترین ماں پینیلوپے سے
لازوال نیک نامی ملتی ہے۔
دروازے بند کرو، کنواریو:
ہم بہت کھیل چکے۔ مگر، اے نیک
جوڑو، اچھی زندگی گزارو اور
لگاتار فرض ادا کرتے ہوئے
اپنی توانا جوانی کو آزماؤ۔
cultor, Uraniae genus,
qui rapis teneram ad virum
virginem, o Hymenaee Hymen,
o Hymen Hymenaee,
cinge tempora floribus
suave olentis amaraci,
flammeum cape, laetus huc,
huc veni niveo gerens
luteum pede soccum,
excitusque hilari die
nuptialia concinens
voce carmina tinnula
pelle humum pedibus, manu
pineam quate taedam.
namque Vinia Manilo,
qualis Idalium colens
venit ad Phrygium Venus
iudicem, bona cum bona
nubet alite virgo,
floridis velut enitens
myrtus Asia ramulis,
quos hamadryades deae
ludicrum sibi rosido
nutriunt umore.
quare age huc aditum ferens
perge linquere Thespiae
rupis Aonios specus,
nympha quos super irrigat
frigerans Aganippe,
ac domum dominam voca
coniugis cupidam novi,
mentem amore revinciens
ut tenax hedera huc et huc
arborem implicat errans.
vosque item simul, integrae
virgines, quibus advenit
par dies, agite in modum
dicite, o Hymenaee Hymen,
o Hymen Hymenaee.
ut libentius, audiens
se citarier ad suum
munus, huc aditum ferat
dux bonae Veneris, boni
coniugator amoris.
quis deus magis anxiis
est petendus amantibus?
quem colent homines magis
caelitum? o Hymenaee Hymen,
o Hymen Hymenaee.
te suis tremulus parens
invocat, tibi virgines
zonula solvunt sinus,
te timens cupida novus
captat aure maritus.
tu fero iuveni in manus
floridam ipse puellulam
dedis a gremio suae
matris, o Hymenaee Hymen,
o Hymen Hymenaee.
nil potest sine te Venus
fama quod bona comprobet
commodi capere: at potest
te volente.quis huic deo
compararier ausit?
nulla quit sine te domus
liberos dare, nec parens
stirpe nitier: at potest
te volente.quis huic deo
compararier ausit?
quae tuis careat sacris
non queat dare praesides
terra finibus: at queat
te volente.quis huic deo
compararier ausit?
claustra pandite ianuae,
virgo adest. viden ut faces
splendidas quatiunt comas?
tardet ingenuus pudor:
quem tamen magis audiens
flet quod ire necesse est.
flere desine. Non tibi, Au-
runculeia, periculum est
ne qua femina pulchrior
clarum ab Oceano diem
viderit venientem.
talis in vario solet
divitis domini hortulo
stare flos hyacinthinus.
sed moraris, abit dies:
prodeas, nova nupta.
prodeas, nova nupta, si
iam videtur, et audias
nostra verba.vide ut faces
aureas quatiunt comas:
prodeas, nova nupta.
non tuus levis in mala
deditus vir adultera
probra turpia persequens
a tuis teneris volet
secubare papillis,
lenta quin velut adsitas
vitis implicat arbores,
implicabitur in tuum
complexum.Sed abit dies:
prodeas, nova nupta.
o cubile quod omnibus
candido pede lecti,
quae tuo veniunt ero,
quanta gaudia, quac vaga
nocte, quae medio die
gaudeat! sed abit dies:
Prodeas, nova nupta.
tollite, o pueri, faces:
flammeum video venire.
ite, concinite in modum
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
ne diu taceat procax
fescennina iocatio,
nec nuces pueris neget
desertum domini audiens
concubinus amorem.
da nuces pueris, iners
concubine: satis diu
lusisti nucibus: libet
iam servire Talasio.
concubine, nuces da.
sordebant tibi vilicae,
concubine, hodie atque heri:
nunc tuum cinerarius
tondet os. miser ah miser
concubine, nuces da.
diceris male te a tuis
unguentate glabris marite
abstinere: sed abstine.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
scimus haec tibi quae licent
sola cognita: sed marito
ista non eadem licent.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
nupta, tu quoque quae tuus
vir petet cave ne neges,
ne petitum aliunde eat.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
en tibi domus ut potens
et beata viri tui:
quae tibi sine serviat
(o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee).
usque dum tremulum movens
cana tempus anilitas
omnia omnibus adnuit.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
transfer omine cum bono
limen aureolos pedes,
rasilemque subi forem.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
adspice unus ut accubans
vir tuus Tyrio in toro
totus immineat tibi.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
illi non minus ac tibi
pectore uritur intimo
flamma, sed penite magis
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
mitte bracchiolum teres,
praetextate, puellulae:
iam cubile adeat viri.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
o bonae senibus viris
cognitae bene feminae,
conlocate puellulam.
o Hymen Hymenaee io,
o Hymen Hymenaee.
iam licet venias, marite:
uxor in thalamo tibi est
ore floridulo nitens
alba parthenice velut
luteumve papaver.
at, marite, (ita me iuvent
caelites) nihilo minus
pulcher es, neque te Venus
neglegit. sed abit dies:
perge, ne remorare.
non diu remoratus es,
iam venis. bona te Venus
iuverit, quoniam palam
quod cupis cupis et bonum
non abscondis amorem.
ille pulveris Africi
siderumque micantium
subducat numerum prius,
qui vestri numerare vult
multa milia ludi.
ludite ut libet, et brevi
liberos date. non decet
tam vetus sine liberis
nomen esse, sed indidem
semper ingenerari.
Torquatus volo parvulus
matris e gremio suae
porrigens teneras manus
dulce rideat ad patrem
semihiante labello.
sit suo similis patri
Manlio et facile insciis
noscitetur ab omnibus
et pudicitiam suae
matris indicet ore.
talis illius a bona
matre laus genus adprobet
qualis unica ab optima
matre Telemacho manet
fama Penelopeo.
claudite ostia, virgines:
lusimus satis. at, boni
coniuges, bene vivite et
munere adsiduo valentem
exercete iuventam.
مدتوں سے منتظر روشنی مشکل سے بالآخر اٹھاتی ہے۔
اب اٹھنے کا وقت ہے، اب چکنی میزیں چھوڑنے کا؛
اب کنواری آئے گی، اب نکاح کا گیت گایا جائے گا۔
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
دیکھتی ہو، اے بن بیاہی، نوجوانوں کو؟ اُن کے مقابل اٹھ کھڑی ہو:
بےشک شامِ ستارہ نے اویتائی آگ دکھا دی ہے۔
یقیناً ایسا ہی ہے: دیکھتی ہو کیسے چستی سے اچھل پڑے؟
بےسبب نہیں اچھلے؛ وہ گائیں گے جسے جیتنا واجب ہے۔
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
ہم برابر والوں کے لیے، اے ساتھیو، فتح آسان نہیں:
دیکھو، بن بیاہی لڑکیاں کیسے اپنی رٹی ہوئی بات دہراتی ہیں۔
بےکار نہیں سوچتیں؛ اُن کے پاس یاد رکھنے لائق کچھ ہے۔
کوئی حیرت نہیں، جو گہرائی تک پورے دل سے محنت کرتی ہیں۔
ہم نے دل کہیں اور، کان کہیں اور بانٹ رکھے ہیں:
پس بجا ہے کہ ہم ہاریں گے؛ فتح محنت کو چاہتی ہے۔
سو اب کم از کم اپنے دھیان کو موڑو:
اب وہ گانا شروع کریں گی، اب جواب دینا مناسب ہوگا۔
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
اے شامِ ستارہ، آسمان میں تجھ سے ظالم کون سی آگ چلتی ہے؟
جو بیٹی کو ماں کے آغوش سے چھین سکے،
ماں کے آغوش سے، جو تھامے ہوئے ہے، بیٹی کو چھین کر
اور پاکیزہ لڑکی کو جوشیلے جوان کے سپرد کر دے۔
دشمن فتح شدہ شہر میں اِس سے زیادہ ظالمانہ کیا کرتے ہیں؟
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
اے شامِ ستارہ، آسمان میں تجھ سے خوشگوار کون سی آگ چمکتی ہے؟
جو منگنی شدہ کو تیرے شعلے سے نکاح میں پکا کر دے،
جو شوہروں نے وعدہ کیا، جو ماں باپ نے پہلے وعدہ کیا،
اور اُس وقت تک نہ جوڑا جب تک تیری تپش نہ اٹھی۔
دیوتاؤں سے مبارک گھڑی سے بڑھ کر کیا مطلوب ملتا ہے؟
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
شامِ ستارہ نے ہم میں سے، اے ساتھیو، ایک کو چھین لیا
کیونکہ تیرے آنے پر پہرہ ہمیشہ جاگتا ہے۔
رات میں چور چھپتے ہیں، جنہیں تُو ہی اکثر لوٹتے ہوئے،
اے شامِ ستارہ، بدلے نام سے، اُنہیں پھر پکڑ لیتا ہے۔
مگر بن بیاہی لڑکیوں کو بناوٹی شکایت سے تجھے کوسنا اچھا لگتا ہے۔
تو کیا ہوا، اگر وہ اُسے کوستی ہیں جسے خاموش دل سے ڈھونڈتی ہیں؟
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
جیسے پھول باڑ لگے باغوں میں چھپ کر اگتا ہے،
مویشیوں سے انجان، کسی ہل سے نہ اکھڑا،
جسے ہوائیں سہلاتی ہیں، سورج مضبوط کرتا ہے، بارش پالتی ہے،
بہت سے لڑکوں نے، بہت سی لڑکیوں نے اُس کی خواہش کی؛
پھر جب نازک ناخن سے توڑا جا کر مرجھا گیا،
نہ کسی لڑکے نے، نہ کسی لڑکی نے اُس کی خواہش کی:
یوں کنواری، جب تک اچھوتی رہے، جب تک اپنوں کو عزیز ہے؛
جب پاکیزہ پھول آلودہ جسم سے کھو دیتی ہے،
نہ لڑکوں کو بھلی رہتی ہے، نہ لڑکیوں کو عزیز۔
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
جیسے بیوہ بیل جو ننگے کھیت میں اگتی ہے
کبھی اوپر نہیں اٹھتی، کبھی میٹھا انگور نہیں پالتی،
بلکہ نرم بدن کو جھکے بوجھ سے موڑتی ہوئی
اب اپنی جڑ سے چوٹی کی شاخ کو چھو لیتی ہے،
اِسے نہ کسی کسان نے، نہ کسی بیل نے سنبھالا؛
مگر اگر کبھی وہی نر ایلم درخت سے جوڑ دی جائے،
تو بہت سے کسانوں نے، بہت سے بیلوں نے اُسے سنبھالا:
یوں کنواری، جب تک اچھوتی رہے، بے کاشت بوڑھی ہوتی ہے؛
جب پکے وقت پر برابر کا نکاح پا لیتی ہے،
شوہر کو زیادہ عزیز اور ماں باپ کو کم ناگوار ہوتی ہے۔
اور تُو ایسے شوہر سے نہ لڑ، اے کنواری۔
لڑنا انصاف نہیں، جسے باپ نے خود سونپا،
باپ نے خود ماں کے ساتھ، جن کی اطاعت لازم ہے۔
تیری کنوارپن پورا تیرا نہیں، کچھ حصہ ماں باپ کا ہے:
تہائی حصہ باپ کا، تہائی حصہ ماں کو دیا گیا،
صرف تہائی تیرا ہے۔ اُن دونوں سے نہ لڑ،
جنہوں نے اپنے حق داماد کو جہیز سمیت دے دیے۔
ہائیمن اے ہائیمینائیوس، ہائیمن آ اے ہائیمینائیوس۔
exspectata diu vix tandem lumina tollit.
surgere iam tempus, iam pinguis linquere mensas;
iam veniet virgo, iam dicetur hymenaeus.
Hymen O Hymenaee, Hymen ades O Hymenaee.
cernitis, innuptae, iuvenes? consurgite contra:
nimirum Oetaeos ostendit Noctifer ignes.
sic certe est: viden ut perniciter exsiluere?
non temere exsiluere; canent quod vincere par est.
Hymen O Hymenaee, Hymen ades O Hymenaee.
non facilis nobis, aequales, palma parata est:
adspicite, innuptae secum ut meditata requirunt.
non frustra meditantur; habent memorabile quod sit.
nec mirum, penitus quae tota mente laborant.
nos alio mentes, alio divisimus aures:
iure igitur vincemur; amat victoria curam.
quare nunc animos saltem convertite vestros:
dicere iam incipient, iam respondere decebit.
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
Hespere, qui caelo fertur crudelior ignis?
qui natam possis complexu avellere matris,
complexu matris retinentem avellere natam
et iuveni ardenti castam donare puellam.
quid faciunt hostes capta crudelius urbe?
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
Hespere, qui caelo lucet iucundior ignis?
qui desponsa tua firmes conubia flammma,
quae pepigere viri, pepigerunt ante parentes,
nec iunxere prius quam se tuus extulit ardor.
quid datur a divis felici optatius hora?
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
Hesperus e nobis, aequales, abstulit unam
namque tuo adventu vigilat custodia semper.
nocte latent fures, quos idem saepe revertens,
Hespere, mutato comprendis nomine eosdem.
at libet innuptis ficto te carpere questu.
quid tum, si carpunt tacita quem mente requirunt?
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
ut flos in saeptis secretus nascitur hortis,
ignotus pecori, nullo convulsus aratro,
quem mulcent aurae, firmat sol, educat imber,
multi illum pueri, multae optavere puellae;
idem cum tenui carptus defloruit ungui,
nulli illum pueri, nullae optavere puellae:
sic virgo, dum intacta manet, dum cara suis est;
cum castum amisit polluto corpore florem,
nec pueris iucunda manet nec cara puellis.
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
ut vidua in nudo vitis quae nascitur arvo
nunquam se extollit, nunquam mitem educat uvam,
sed tenerum prono deflectens pondere corpus
iam iam contingit summum radice flagellum,
hanc nulli agricolae, nulli accoluere iuvenci;
at si forte eadem est ulmo coniuncta marito,
multi illam agricolae, multi accoluere iuvenci:
sic virgo, dum intacta manet, dum inculta senescit;
cum par conubium maturo tempore adepta est,
cara viro magis et minus est invisa parenti.
et tu ne pugna cum tali coniuge, virgo.
non aequum est pugnare, pater cui tradidit ipse,
ipse pater cum matre, quibus parere necesse est.
virginitas non tota tua est, ex parte parentum est:
tertia pars patri, pars est data tertia matri,
tertia sola tua est.noli pugnare duobus,
qui genero sua iura simul cum dote dederunt.
Hymen o Hymenaee, Hymen ades o Hymenaee.
جب مشتاق قدموں سے فروجیائی جنگل کو جا پہنچا
اور دیوی کے سایہ دار، درختوں سے گھرے مقام میں داخل ہوا،
وہاں دیوانگی کے جوش سے بھڑکایا گیا، ہوش سے بیگانہ،
تیز چقماق سے اپنی مردانگی کا بوجھ اپنے سے کاٹ پھینکا۔
پس جب اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے اعضا مردانگی سے خالی رہ گئے،
تازہ خون سے زمین کی سطح کو داغتے ہوئے بھی،
برف جیسے ہاتھوں میں جوش سے ہلکا ڈھول اٹھایا،
ڈھول، سِبیلے کا نرسنگا، تیرے، اے ماں، تیری رسمیں،
اور بیل کی کھال کے خالی پردے کو نرم انگلیوں سے کھڑکاتا
اپنے ساتھیوں کے سامنے کانپتا ہوا یوں گانے لگا:
چلو، اونچے مقاموں کو چلو، اے گیلائیو، سِبیلے کے جنگلوں کو ساتھ،
ساتھ چلو، ڈِنڈیمین بانو کے بھٹکتے ریوڑو،
جنہوں نے جلاوطنوں کی طرح بیگانی جگہیں ڈھونڈتے ہوئے
میرے راستے پر چل کر، میری رہنمائی میں، میرے ساتھیو،
تیز کھارے سمندر اور سمندر کی خونخواری کو جھیلا
اور وینس سے حد سے زیادہ نفرت میں اپنا بدن مردانگی سے خالی کیا،
بانو کے دل کو تیز بھٹکنوں سے شاد کرو۔
دھیمی دیر دل سے نکل جائے؛ ساتھ چلو، پیچھے آؤ
سِبیلے کے فروجیائی گھر کو، دیوی کے فروجیائی جنگلوں کو،
جہاں جھانجھ کی آواز گونجتی ہے، جہاں ڈھول دہاڑتے ہیں،
جہاں فروجیائی بانسری بجانے والا مڑی نَے سے گہری تان چھیڑتا ہے،
جہاں آئیوی پہنے مینادیں جوش سے سر ہلاتی ہیں،
جہاں تیز چیخوں سے مقدس رسمیں دہراتی ہیں،
جہاں دیوی کا وہ بھٹکتا جھنڈ اُڑان بھرنے کا عادی ہے،
جہاں ہمیں تیز رقص سے پہنچنا زیب دیتا ہے۔
جیسے ہی آتِس نے، وہ بناوٹی عورت، ساتھیوں کے سامنے یہ گایا،
جھنڈ اچانک کانپتی زبانوں سے چیخ اٹھا،
ہلکا ڈھول دوبارہ گونجا، خالی جھانجھیں پھر بجیں،
تیز رقص کرتا ہجوم دوڑتے قدموں سے سبز اِیدا کو جا پہنچا۔
دیوانہ وار، ہانپتا، بھٹکتا، جان توڑتا آتِس بڑھتا ہے
ڈھول سنبھالے، سایہ دار جنگلوں سے، رہنما بن کر،
جیسے جُوئے کا بوجھ ٹالتی بےقابو بچھڑی:
تیز گیلائیں دوڑتے پاؤں رہنما کے پیچھے چلتی ہیں۔
پس جب وہ تھکی ہاری سِبیلے کے گھر کو پہنچیں،
حد سے زیادہ محنت سے بغیر روٹی کے نیند لے لیتی ہیں۔
سُست غنودگی لڑکھڑاتی تھکن سے اُن کی آنکھیں ڈھانپ لیتی ہے:
نرم آرام میں دیوانگی کا وحشی جوش دل سے اتر جاتا ہے۔
مگر جب سونے جیسے چہرے والا سورج اپنی جگمگاتی آنکھوں سے
سفید آسمان، سخت زمین، وحشی سمندر کو دیکھ چکا،
اور تازہ دم گونجتے کھروں سے رات کے سائے بھگا دیے،
تو نیند بیدار آتِس سے تیزی سے بھاگ گئی:
تھرتھراتی چھاتی میں دیوی پاسیتھیا نے اُسے تھام لیا۔
یوں نرم آرام سے، تیز دیوانگی کے بغیر،
جیسے ہی آتِس نے دل میں اپنے کیے کو یاد کیا،
اور صاف دماغ سے دیکھا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے،
جوش زدہ دل سے پھر واپس ساحل کی طرف قدم لے آیا۔
وہاں وسیع سمندروں کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے
اپنے وطن کو دکھی ہو کر یوں دردناک آواز میں پکارا:
اے میرے وطن، میرے خالق، اے میرے وطن، میری جنم بھومی،
جسے میں بدنصیب چھوڑ آیا، جیسے مالکوں سے بھاگے ہوئے
غلام کرتے ہیں، اِیدا کے جنگلوں کو قدم لے آیا،
تاکہ برف اور درندوں کے ٹھنڈے ٹھکانوں میں رہوں
اور دیوانگی میں اُن کے سب چھپنے کے کونے جا پہنچوں،
میں کہاں، کن جگہوں میں تجھے، اے وطن، رکھا سمجھوں؟
میری آنکھ کی پتلی خود تیری طرف نگاہ لگانا چاہتی ہے،
جب تک تھوڑی دیر کے لیے دل وحشی دیوانگی سے خالی ہے۔
کیا میں اپنے گھر سے دور اِن جنگلوں میں لے جایا جاؤں؟
وطن، نیک لوگوں، دوستوں، ماں باپ سے دور رہوں گا؟
چوک، اکھاڑے، دوڑ کے میدان اور ورزش گاہوں سے دور رہوں گا؟
بےچارہ آہ بےچارہ، بار بار ماتم کرنا ہے، اے میرے دل۔
کون سی صورت ہے جو میں نہ رہا ہوں؟
میں عورت، میں جوان، میں نوعمر، میں لڑکا،
میں ورزش گاہ کا پھول تھا، میں تیل کی زینت تھا:
میرے دروازے پُر رونق، میری دہلیزیں گرم،
میرا گھر پھولوں کے ہاروں سے سجا رہتا تھا،
جب سورج نکلتے ہی مجھے سونے کا کمرہ چھوڑنا ہوتا۔
اب میں دیوتاؤں کی خادمہ اور سِبیلے کی لونڈی کہلاؤں؟
میں میناد، میں اپنا آدھا، میں بانجھ مرد بنوں؟
میں سبز اِیدا کے برف پوش ٹھنڈے مقام بساؤں؟
میں فروجیا کی اونچی چوٹیوں کے نیچے زندگی گزاروں،
جہاں جنگل کی ہرنی، جہاں جنگل بھٹکتا سؤر رہتا ہے؟
اب مجھے پچھتاوا ہے کہ کیا کر بیٹھا، اب اور اب افسوس ہے۔
جیسے ہی اُس کے گلابی ہونٹوں سے یہ آواز تیزی سے نکلی
اور دیوتاؤں کے دونوں کانوں تک نئی خبر لے گئی،
تب سِبیلے نے اپنے شیروں کے جُتے جُوئے کھول کر
اور ریوڑ کے بائیں دشمن کو اکساتے ہوئے یوں کہا:
چل، اُس نے کہا، چل وحشی، جا، ایسا کر کہ دیوانگی اُسے ستائے،
ایسا کر کہ دیوانگی کی ضرب سے وہ جنگلوں کو لوٹے،
جو میری حکمرانی سے حد سے زیادہ آزادی سے بھاگنا چاہتا ہے۔
چل، دُم سے اپنی پیٹھ پیٹ، اپنے کوڑے سہہ،
ایسا کر کہ ساری جگہ تیری دہاڑ سے گونج اٹھے،
وحشی، اپنی مضبوط گردن پر سرخ ایال جھلا۔
یہ کہہ کر دھمکاتی سِبیلے نے ہاتھ سے جُوئے کھول دیے۔
وحشی خود کو ابھارتا دیوانگی سے دل کو بھڑکاتا ہے،
بڑھتا ہے، دہاڑتا ہے، بھٹکتے پاؤں سے جھاڑیاں توڑتا ہے۔
مگر جب وہ سفید ساحل کی نم جگہوں کو پہنچا
اور سمندر کے سنگ مرمر کے پاس نازک آتِس کو دیکھا،
حملہ کرتا ہے: وہ دیوانہ وحشی جنگلوں میں بھاگ گیا:
وہاں ساری عمر ہمیشہ کے لیے خادمہ بنا رہا۔
اے عظیم دیوی، دیوی سِبیلے، دیوی، ڈِنڈیمس کی بانو،
تیرا سارا جوش میرے گھر سے دور رہے، اے بانو:
دوسروں کو بھڑکا، دوسروں کو دیوانہ کر۔
Phrygium ut nemus citato cupide pede tetigit
adiitque opaca silvis redimita loca deae,
stimulatus ibi furenti rabie, vagus animis
devolvit ili acuto sibi pondera silice.
itaque ut relicta sensit sibi membra sine viro,
etiam recente terrae sola sanguine maculans
niveis citata cepit manibus leve typanum,
typanum, tubam Cybelles, tua, mater, initia,
quatiensque terga tauri teneris cava digitis
canere haec suis adorta est tremebunda comitibus
agite ite ad alta, Gallae, Cybeles nemora simul,
simul ite, Dindymenae dominae vaga pecora,
aliena quae petentes velut exsules loca
sectam meam exsecutae duce me mihi comites
rapidum salum tulistis truculentaque pelagi
et corpus evirastis Veneris nimio odio,
hilarate erae citatis erroribus animum.
mora tarda mente cedat; simul ite, sequimini
Phrygiam ad domum Cybelles, Phrygia ad nemora deae,
ubi cymbalum sonat vox, ubi tympana reboant,
tibicen ubi canit Phryx curvo grave calamo,
ubi capita maenades vi iaciunt hederigerae,
ubi sacra sancta acutis ululatibus agitant,
ubi suevit illa divae volitare vaga cohors,
quo nos decet citatis celerare tripudiis.
simul haec comitibus Attis cecinit notha mulier,
thiasus repente linguis trepidantibus ululat,
leve tympanum remugit, cava cymbala recrepant,
viridem citus adit Idam properante pede chorus.
furibunda simul anhelans vaga vadit animam agens
comitata tympano Attis per opaca nemora dux,
veluti iuvenca vitans onus indomita iugi:
rapidae ducem secuntur Gallae properipedem.
itaque, ut domum Cybelles tetigere lassulae,
nimio e labore somnum capiunt sine Cerere.
piger his labante langore oculos sopor operit:
abit in quiete molli rabidus furor animi.
sed ubi oris aurei Sol radiantibus oculis
lustravit aethera album, sola dura, mare ferum,
pepulitque noctis umbras vegetis sonipedibus,
ibi Somnus excitam Attin fugiens citus abiit:
trepidante eum recepit dea Pasithea sinu.
ita de quiete molli rapida sine rabie
simul ipsa pectore Attis sua facta recoluit,
liquidaque mente vidit sine quis ubique foret,
animo aestuante rusum reditum ad vada tetulit.
ibi maria vasta visens lacrimantibus oculis
patriam adlocuta maesta est ita voce miseriter:
patria o mei creatrix, patria o mea genetrix,
ego quam miser relinquens, dominos ut erifugae
famuli solent, ad Idae tetuli nemora pedem,
ut apud nivem et ferarum gelida stabula forem
et earum omnia adirem furibunda latibula,
ubinam aut quibus locis te positam, patria, reor?
cupit ipsa pupula ad te sibi derigere aciem,
rabie fera carens dum breve tempus animus est.
egone a mea remota haec ferar in nemora domo?
patria, bonis, amicis, genitoribus abero?
abero foro, palaestra, stadio, et gymnasiis?
miser ah miser, querendum est etiam atque etiam, anime.
quod enim genus figurae est ego non quod obierim?
ego mulier, ego adulescens, ego ephebus, ego puer,
ego gymnasi fui flos, ego eram decus olei:
mihi ianuae frequentes, mihi limina tepida,
mihi floridis corollis redimita domus erat,
linquendum ubi esset orto mihi sole cubiculum.
ego nunc deum ministra et Cybeles famula ferar?
ego maenas, ego mei pars, ego vir sterilis ero?
ego viridis algida Idae nive amicta loca colam?
ego vitam agam sub altis Phrygiae columinibus,
ubi cerva silvicultrix, ubi aper nemorivagus?
iam iam dolet quod egi, iam iamque paenitet.
roseis ut huic labellis sonitus citus abiit
geminas deorum ad aures nova nuntia referens,
ibi iuncta iuga resoluens Cybele leonibus
laevumque pecoris hostem stimulans ita loquitur.
Agedum, inquit, age ferox i, fac ut hunc furor agitet,
fac uti furoris ictu reditum in nemora ferat,
mea libere nimis qui fugere imperia cupit.
age caede terga cauda, tua verbera patere,
fac cuncta mugienti fremitu loca retonent,
rutilam ferox torosa cervice quate iubam.
ait haec minax Cybelle religatque iuga manu.
ferus ipse sese adhortans rabidum incitat animo,
vadit, fremit, refringit virgulta pede vago.
at ubi umida albicantis loca litoris adiit
tenerumque vidit Attin prope marmora pelagi,
facit impetum: ille demens fugit in nemora fera:
ibi semper omne vitae spatium famula fuit.
dea magna, dea Cybelle, dea domina Dindymi,
procul a mea tuus sit furor omnis, era, domo:
alios age incitatos, alios age rabidos.
کہتے ہیں نیپتون کی صاف لہروں پر تیرے
فاسِس کی موجوں اور آئیئیتیس کی سرحدوں تک،
جب چُنے ہوئے نوجوان، آرگوس کی جوانی کا جوہر،
کولکس سے سنہری اُون چرانے کی خواہش میں
کھارے پانیوں پر تیز کشتی دوڑانے کی جرأت کر بیٹھے،
دیودار کے چپووں سے نیلے سمندر کو جھاڑتے ہوئے۔
جس دیوی کے پاس اونچے شہروں کی چوٹیوں کے قلعے ہیں
اُس نے خود ہلکی ہوا سے اڑنے والی کشتی بنائی،
چیڑ کی بُنائی کو مڑی ہوئی پیندی سے جوڑ کر۔
اُسی نے پہلے پہل اَن گھڑ ایمفیٹرائٹے کو دوڑنا سکھایا۔
جیسے ہی اُس نے چونچ سے ہوا بھرے سمندر کو چیرا
اور چپووں سے موڑی ہوئی لہر جھاگ سے سفید ہوئی،
سمندر کے دمکتے بھنور سے چہرے ابھر آئے
سمندری نیریئڈیں، اِس عجوبے پر حیران۔
اُس روشنی میں، اگر کبھی کسی اور میں، فانی آنکھوں نے
سمندری پریوں کو ننگے بدن دیکھا
جو دودھیا بھنور سے چھاتیوں تک ابھری ہوئی تھیں۔
تب پیلیوس تھیتِس کی محبت میں جل اٹھا، کہتے ہیں،
تب تھیتِس نے انسانی نکاح کو حقیر نہ جانا،
تب باپ نے خود پیلیوس کو تھیتِس سے جوڑنا مناسب سمجھا۔
اے حد سے زیادہ مطلوب زمانے میں پیدا ہوئے
سورماؤ، سلام، اے دیوتاؤں کی نسل، اے ماؤں کی نیک
اولاد، پھر سلام۔
تمہیں میں اکثر اپنے، تمہیں گیت میں پکاروں گا،
اور خاص طور پر تجھے، اے مبارک مشعلوں سے سرفراز
تھیسالی کے ستون پیلیوس، جسے خود جیوپیٹر نے،
خود دیوتاؤں کے باپ نے، اپنی محبوبہ سونپ دی۔
کیا تجھے سب سے حسین نیریئڈ تھیتِس نے تھاما؟
کیا تجھے تیتھِس نے اپنی نواسی بیاہنے دی
اور اوقیانوس نے، جو سارے جہان کو سمندر سے گھیرتا ہے؟
جیسے ہی مطلوب دن مقررہ وقت پر
آ پہنچے، سارا تھیسالی مجمع بن کر گھر میں امنڈ آیا،
شاہی محل خوش دل جھرمٹ سے بھر گیا:
تحفے آگے لیے، چہروں سے خوشی ظاہر کرتے۔
کِیئروس اجڑ گیا، وہ فتھیوتِس کا ٹیمپے چھوڑتے ہیں
اور کرانّون کے گھر اور لاریسا کی فصیلیں،
فارسالوس میں جمع ہوتے ہیں، فارسالیا کی چھتوں کے نیچے بھیڑ کرتے ہیں۔
کوئی کھیت نہیں جوتتا، بیلوں کی گردنیں نرم پڑ جاتی ہیں،
نہ نیچی انگور کی بیل مڑے کدال سے صاف ہوتی ہے،
نہ بیل جھکے ہل سے ڈھیلا اکھاڑتا ہے،
نہ چھانٹنے والوں کی درانتی درخت کا سایہ گھٹاتی ہے،
گندی زنگ ویران ہلوں پر چڑھ آتی ہے۔
مگر اُس کا محل، جہاں تک دولت مند
شاہی رہائش پھیلی ہے، چمکتے سونے چاندی سے دمکتا ہے۔
تختوں پر ہاتھی دانت دمکتا ہے، میز کے پیالے چمکتے ہیں،
سارا گھر شاہی خزانے کی چمک سے خوش ہے۔
مگر دیوی کی شادی کی سیج بیچوں بیچ
رکھی جاتی ہے، ہندی دانت سے چکنی،
جسے سرخ سیپ کے رنگ میں رنگا ارغوانی کپڑا ڈھانپتا ہے۔
یہ کپڑا انسانوں کی قدیم صورتوں سے مزین
سورماؤں کے جوہر عجیب ہنر سے دکھاتا ہے۔
کیونکہ دِیا کے موج گونجتے ساحل سے دیکھتی ہوئی
اریادنے تھیسیوس کو تیز بیڑے کے ساتھ رخصت ہوتے تکتی ہے
دل میں بےقابو دیوانگیاں سنبھالے،
اور اب تک یقین نہیں کرتی کہ جو دیکھتی ہے وہ دیکھ رہی ہے،
کیونکہ اُس دھوکے بھری نیند سے ابھی جاگی
خود کو ویران، اکیلی، بدنصیب ریت پر پاتی ہے۔
مگر بےوفا جوان بھاگتا ہوا چپووں سے پانی پیٹتا ہے،
اپنے کھوکھلے وعدے ہوا بھرے طوفان کے سپرد کرتا ہے۔
جسے دور سے سمندری گھاس سے دکھی مینوس کی بیٹی
پتھر کی مورت جیسی، دیوانی کی طرح تکتی ہے، آہ،
تکتی ہے اور غموں کی بڑی لہروں میں ڈولتی ہے،
نہ سنہرے سر پر باریک اوڑھنی سنبھالے،
نہ ہلکے آنچل سے ڈھکا سینہ ڈھانپے،
نہ چکنی پٹی سے دودھیا چھاتیاں کسے،
جو سب اُس کے پورے بدن سے پھسل کر جگہ جگہ
اُس کے پاؤں کے آگے کھارے پانی کی لہریں کھیل رہی تھیں۔
تو نہ اُس وقت اوڑھنی کی، نہ بہتی آنچل کی
اُسے پروا تھی، بلکہ سارے دل سے تجھ پر، تھیسیوس،
سارے جی سے، سارے دماغ سے، برباد ہو کر لٹکی تھی۔
آہ بدنصیب، جسے مسلسل غموں سے پاگل کر دیا
اِریسینا نے، جو سینے میں کانٹے دار پریشانیاں بو رہی تھی
اُس گھڑی سے، جس وقت سے وحشی تھیسیوس
پیرائیئس کے مڑے ساحلوں سے نکل کر
ظالم بادشاہ کے گورتِین محل کو جا پہنچا۔
کیونکہ کہتے ہیں کہ کبھی سنگین وبا کے دباؤ میں
آندروگیوس کے قتل کا بدلہ چکانے کے لیے
چُنے ہوئے نوجوان اور بن بیاہی لڑکیوں کی زینت
کیکروپیا مینوٹور کو کھانے کے طور پر دینے کی عادی تھی۔
جب اِن مصیبتوں سے اُس کی تنگ فصیلیں پریشان تھیں،
خود تھیسیوس نے اپنے پیارے ایتھینز کے لیے اپنا بدن
قربان کرنا بہتر جانا بجائے اِس کے کہ کیکروپیا کی
ایسی لاشیں، جو لاشیں بھی نہیں تھیں، کریٹ لے جائی جائیں۔
اور یوں ہلکی کشتی اور نرم ہواؤں پر ٹیک لگا کر
دلاور مینوس کے پاس اور اُس کے مغرور محل کو آیا۔
جیسے ہی مشتاق نگاہ سے اُسے شاہی کنواری نے دیکھا،
جسے میٹھی خوشبو چھوڑتی پاکیزہ سیج
ماں کے نرم آغوش میں پالتی تھی،
جیسے یوروٹاس کی نہریں مہندی کے پودے اگاتی ہیں
یا بہار کی ہوا رنگ برنگے پھول کھلاتی ہے،
اُس نے اُس سے اپنی جلتی نگاہیں نہ ہٹائیں
جب تک سارے بدن سے شعلہ نہ پکڑ لیا،
جڑ تک اور گہری مغز تک ساری جل نہ اٹھی۔
افسوس، بےرحم دل سے دیوانگیاں بھڑکانے والے،
اے مقدس بچے، جو انسانوں کے دکھ سکھ میں گھلاتا ہے،
اور جو گولگی اور پتوں سے بھرے اِدالیوم پر حکومت کرتا ہے،
کیسی لہروں میں تم نے سلگتی لڑکی کو ڈبویا
جو اکثر سنہرے مہمان پر آہیں بھرتی رہی!
کتنے خوف اُس نے ماندے دل سے سہے،
کتنی بار سونے سے بھی زیادہ زرد پڑ گئی،
جب وحشی درندے سے بھڑنے کی خواہش میں
تھیسیوس یا موت پاتا یا تعریف کا انعام۔
پھر بھی نہ ناشکرے، بےکار تحفے دیوتاؤں سے
وعدہ کرتی خاموش ہونٹوں سے مِنّتیں سلگاتی۔
کیونکہ جیسے اونچے ٹاؤروس پر بانہیں جھلاتی
بلوط یا چیڑ کو پسینے میں چھال بہاتی
بےقابو بگولہ جھونکے سے مڑوڑ کر تنے کو
اکھاڑ پھینکتا ہے (وہ دور جڑ سے اکھڑی
اوندھی گرتی ہے، اور جو کچھ سامنے ہو دور تک توڑتی ہے)،
یوں تھیسیوس نے وحشی درندے کو مسل کر پچھاڑا
جو بےکار خالی ہواؤں میں سینگ اچھال رہا تھا۔
پھر بچ کر بڑی تعریف کے ساتھ اُس نے قدم موڑا
باریک دھاگے سے اپنے بھٹکتے قدم سنبھالتا،
تاکہ بھول بھلیوں کے موڑوں سے نکلتے وقت
چھت کی ناقابلِ دید بھول بھلیاں اُسے نہ چکما دیں۔
مگر پہلی بات سے ہٹ کر میں اور کیا بتاؤں،
کہ کیسے بیٹی نے باپ کا چہرہ چھوڑا،
کیسے بہن کا آغوش، کیسے آخر ماں کا،
جو بدنصیب اپنی بیٹی پر لٹی خوش ہوتی تھی،
اِن سب پر اُس نے تھیسیوس کی میٹھی محبت کو ترجیح دی،
یا کیسے کشتی پر دِیا کے جھاگ بھرے ساحلوں تک
پہنچی، یا کیسے اُسے نیند میں آنکھیں بندھی چھوڑ کر
شوہر بےوفا دل سے رخصت ہوا؟
کہتے ہیں کہ اکثر جلتے دل سے دیوانی ہوتی
اپنے سینے کی گہرائی سے صاف آواز نکالتی،
پھر دکھی ہو کر ٹوٹی پہاڑیوں پر چڑھتی
جہاں سے نگاہ سمندر کے وسیع جوش پر پھیلاتی،
پھر کانپتے کھارے پانی کی مخالف لہروں میں دوڑ پڑتی
ننگی پنڈلی کے نرم ڈھکن اٹھاتی،
اور یہ آخری شکایتیں دکھی ہو کر کہتی،
گیلے چہرے سے ٹھنڈی سسکیاں لیتی:
کیا یوں مجھے اپنے وطن کی قربان گاہوں سے لے جا کر، بےوفا،
بےوفا، ویران ساحل پر چھوڑ گیا، تھیسیوس؟
کیا یوں رخصت ہوتے دیوتاؤں کی طاقت کو ٹھکرا کر،
بھلکڑ، آہ، دھوکے کے جھوٹ گھر لے جاتا ہے؟
کوئی چیز تیرے بےرحم دل کا ارادہ نہ موڑ سکی؟
تیرے پاس کوئی رحم موجود نہ تھا
کہ تیرا سنگدل سینہ مجھ پر ترس کھانا چاہتا؟
مگر تُو نے کبھی یہ میٹھے وعدے نہیں دیے تھے
اپنی آواز سے، یہ اُمید مجھ بدنصیب کو نہیں دلائی تھی،
بلکہ خوش نکاح، بلکہ مطلوب شادی:
جسے سب کچھ ہوا کی ہوائیں بےکار پھاڑ دیتی ہیں۔
اب کوئی عورت قسم کھاتے مرد پر یقین نہ کرے،
کوئی مرد کی باتوں کے وفادار ہونے کی اُمید نہ رکھے:
جب تک اُن کا دل کچھ پانے کی للک میں تڑپتا ہے،
قسم کھانے سے نہیں ڈرتے، وعدے کرنے میں کنجوسی نہیں کرتے:
مگر جیسے ہی مشتاق دل کی ہوس بجھ جاتی ہے،
کہی باتیں یاد نہیں رکھتے، جھوٹی قسموں کی پروا نہیں کرتے۔
یقیناً میں نے تجھے موت کے بھنور میں گھرا
بچایا اور بہتر جانا کہ اپنا بھائی کھو دوں
بجائے اِس کے کہ تجھ دھوکے باز کے عین وقت پر ساتھ نہ دوں:
جس کے بدلے میں درندوں اور پرندوں کے پھاڑنے کو
شکار بنوں گی، اور مر کر مجھ پر مٹی نہ ڈالی جائے گی۔
تجھے کس شیرنی نے اکیلی چٹان کے نیچے جنا،
کس سمندر نے جھاگ اُگلتی لہروں سے جنم دیا،
کس سِرتِس نے، کس درندہ سِکِلا نے، کس وسیع کاریبڈِس نے،
کہ تُو میٹھی زندگی کے بدلے ایسا انعام لوٹاتا ہے؟
اگر تجھے ہمارا نکاح دل سے منظور نہ تھا،
کیونکہ تُو اپنے بوڑھے باپ کے سخت احکام سے کانپتا تھا،
تو بھی تُو مجھے اپنے گھر لے جا سکتا تھا
کہ میں لونڈی بن کر خوشگوار محنت سے تیری خدمت کرتی
تیرے صاف پاؤں صاف پانی سے دھوتی
یا ارغوانی چادر سے تیرا بستر بچھاتی۔
مگر میں اَن جان ہواؤں سے بےکار کیا شکایت کروں
مصیبت سے پاگل، جو نہ کسی حس سے سرفراز،
نہ چیخیں سُن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں؟
اور وہ اب تقریباً بیچ لہروں میں گھوم رہا ہے،
اور کوئی فانی خالی گھاس میں دکھائی نہیں دیتا۔
یوں حد سے زیادہ طعنے زن ظالم قسمت نے
آخری وقت میں ہماری فریاد کو سُننے سے بھی روک دیا۔
اے قادرِ مطلق جیوپیٹر، کاش پہلے وقت میں
کیکروپیا کی کشتیاں نوسوس کے ساحلوں کو نہ چھوتیں،
اور نہ بےوفا ملاح وحشی درندے کو خوفناک باج دیتا
کریٹ میں رَسّا باندھتا،
اور نہ یہ کمینہ اپنے میٹھے حسن میں ظالم منصوبے چھپاتا
مہمان ہمارے گھر میں آرام کرتا!
کیونکہ اب میں کدھر جاؤں؟ کس اُمید پر برباد ہو کر ٹِکوں؟
اِیدا کے پہاڑوں کو جاؤں؟ آہ، چوڑے بھنور سے
سمندر جو وحشی پانی سے مجھے جدا کرتا ہے، الگ کرتا ہے۔
یا باپ کی مدد کی اُمید کروں، جسے میں نے خود چھوڑ دیا
اُس جوان کے پیچھے جو بھائی کے خون سے رنگا ہے؟
یا شوہر کی وفادار محبت سے دل بہلاؤں،
جو بھاگتا ہے، بھنور میں لچکیلے چپو موڑتا ہوا؟
اِس کے سوا یہ ساحل، اکیلا جزیرہ، بےگھر،
اور نہ سمندر کی گھیرتی لہروں سے نکلنے کا راستہ کھلا:
نہ بھاگنے کی تدبیر، نہ اُمید: سب کچھ گونگا،
سب ویران ہے، سب موت دکھاتا ہے۔
پھر بھی میری آنکھیں موت سے پہلے نہ بند ہوں گی،
نہ تھکے بدن سے حواس پہلے جدا ہوں گے
جب تک دیوتاؤں سے دھوکے بازی کی جائز سزا نہ مانگ لوں
اور آخری گھڑی میں آسمانیوں کی وفا کو نہ پکار لوں۔
پس، مردوں کے کرتوت کا انتقامی سزا سے بدلہ لینے والی
اِیومینیدو، جن کی سانپ جیسی زلفوں سے سجی
پیشانی سلگتے سینے کے غصے آگے لے آتی ہے،
یہاں، یہاں آؤ، میری شکایتیں سنو،
جو میں، ہائے بدنصیب، اپنی مغز کی گہرائی سے نکالنے پر
مجبور ہوں، بےبس، جلتی، دیوانگی سے اندھی۔
چونکہ یہ سچے ہیں، دل کی گہرائی سے پیدا ہوتے ہیں،
تم ہمارے ماتم کو رائیگاں نہ ہونے دو،
بلکہ جس دل سے تھیسیوس نے مجھے اکیلی چھوڑا،
اُسی دل سے، اے دیویو، وہ خود کو اور اپنوں کو تباہ کرے۔
جب اُس نے دکھی سینے سے یہ آوازیں نکالیں
اپنے ظالمانہ کاموں کی سزا بےقرار مانگتی،
آسمانیوں کے حکمران نے اپنی ناقابلِ شکست طاقت سے سر ہلایا،
جس اشارے سے زمین اور خوفناک سمندر کانپ اٹھے
اور دنیا نے جھلملاتے ستاروں کو ہلا دیا۔
مگر تھیسیوس خود اپنے دماغ پر اندھی دھند
لپیٹے، بھلکڑ دل سے وہ سب بھول بیٹھا
جو احکام پہلے پکے دل سے تھامے تھا،
اور دکھی باپ کے لیے میٹھے نشان نہ اٹھاتے ہوئے
اُس نے بچ کر اریختھیوس کی بندرگاہ کا رخ نہ دکھایا۔
کیونکہ کہتے ہیں کہ کبھی، جب آئیگیوس بیڑے کے ساتھ اپنے بیٹے کو
دیوی کی فصیلیں چھوڑتے ہوئے ہواؤں کے سپرد کر رہا تھا،
اُس نے جوان کو گلے لگا کر یہ احکام دیے:
اے میرے بیٹے، جو مجھے زندگی سے بہت زیادہ عزیز، اکیلے،
بیٹے، جسے میں مشکوک خطروں میں بھیجنے پر مجبور ہوں،
ابھی بڑھاپے کے آخری کنارے پر مجھے لوٹایا گیا،
چونکہ میری قسمت اور تیری جوشیلی مردانگی
تجھے میری مرضی کے خلاف چھینتی ہے، جس کی ماندی
آنکھیں ابھی بیٹے کی پیاری صورت سے سیر نہیں ہوئیں،
میں تجھے خوش دل، شاداں سینے سے نہ بھیجوں گا،
نہ تجھے اچھی قسمت کے نشان اٹھانے دوں گا،
بلکہ پہلے دل سے بہت سی شکایتیں نکالوں گا
اپنے سفید بالوں کو مٹی اور دھول سے آلودہ کرتا،
پھر بھٹکتے مستول پر رنگے ہوئے بادبان لٹکاؤں گا،
تاکہ ہمارا غم اور ہمارے دل کی آگ
اِبیریائی زنگ سے کالا کیا کپڑا ظاہر کرے۔
مگر اگر مقدس اِتون کی رہنے والی تجھے یہ عطا کرے،
جس نے ہماری نسل اور اریختھیوس کے گھر کی حفاظت کا
اقرار کیا، کہ تُو بیل کے خون سے اپنا داہنا ہاتھ رنگے،
تو ضرور ایسا کر کہ یہ احکام یاد رکھنے والے دل میں
محفوظ رہیں، اور کوئی زمانہ اِنہیں نہ مٹائے،
کہ جیسے ہی تیری آنکھیں ہماری پہاڑیاں دیکھیں،
تمام مستولوں سے ماتمی کپڑا اتار دیں
اور بٹے رَسّے سفید بادبان اٹھائیں،
تاکہ جتنی جلد ممکن ہو دیکھ کر خوش دل سے
میں پہچان لوں کہ خوش قسمتی نے تجھے واپس لا کھڑا کیا۔
یہ احکام پہلے پکے دل سے تھامے ہوئے
تھیسیوس کو، جیسے ہواؤں کے جھونکے سے چھٹے بادل
برف پوش پہاڑ کی فضائی چوٹی چھوڑ دیتے ہیں، چھوڑ گئے۔
مگر باپ، جب اونچے قلعے سے نگاہ ڈالتا
اپنی بےقرار آنکھیں مسلسل آنسوؤں میں گھلاتا،
جیسے ہی اُس نے پھولے بادبان کا کپڑا دیکھا،
خود کو چٹانوں کی چوٹی سے سر کے بل نیچے پھینک دیا
یہ سمجھ کر کہ تھیسیوس بےرحم قسمت سے کھو گیا۔
یوں وحشی تھیسیوس، اپنے آبائی گھر کی موت زدہ چھت میں
داخل ہوتے، جیسا غم اُس نے بھلکڑ دل سے مینوس کی بیٹی کو
دیا تھا، ویسا ہی خود پایا۔
وہ تب رخصت ہوتی کشتی کو دکھی ہو کر تکتی
دل میں کئی گنا پریشانیاں گھول رہی تھی۔
مگر دوسری طرف کھلتا ہوا اِیاکّوس اُڑا پھرتا تھا
ستائروں کے جھنڈ اور نیسا میں جنمے سِلینوں کے ساتھ
تجھے ڈھونڈتا، اریادنے، اور تیری محبت میں جلتا۔
جو تب چاق و چوبند، جگہ جگہ، پاگل دماغ سے دیوانی ہو رہے تھے
اِیوہوے چلاّتے، اِیوہوے سر جھکاتے۔
اُن میں سے کچھ نیزے کی نوک پر ڈھکے تھِرسوس ہلاتے،
کچھ چیرے ہوئے بچھڑے کے اعضا اچھالتے،
کچھ اپنے آپ کو بل کھاتے سانپوں سے لپیٹتے،
کچھ کھوکھلی صندوقوں میں چھپی رسمیں مناتے،
وہ رسمیں جنہیں ناپاک بےکار سُننا چاہتے ہیں،
دوسری لمبی ہتھیلیوں سے ڈھول پیٹتیں
یا چکنی کانسی سے باریک جھنکار اٹھاتیں،
بہت سے کرخت گونج والے نرسنگے پھونکتے،
اور وحشی بانسری خوفناک راگ سے چیختی۔
ایسی صورتوں سے شان دار کپڑا سجا ہوا
سیج کو اپنے آنچل سے لپیٹ کر ڈھانپتا تھا۔
جب تھیسالی کی جوانی اِسے مشتاق ہو کر
دیکھ چکی، مقدس دیوتاؤں کو راستہ دینے لگی۔
یہاں، جیسے صبح کے جھونکے سے پُرسکون سمندر کو
جھرجھری دلاتا زیفیروس ڈھلوان لہریں ابھارتا ہے
جب طلوعِ فجر بھٹکتے سورج کی دہلیز کے نیچے،
جو پہلے سست، نرم جھونکے سے دھکیلی گئی
آگے بڑھتی ہیں، اور ہلکے سے قہقہے جیسی گونج نکالتی ہیں،
پھر ہوا بڑھتی ہے تو اور اور زیادہ گھنی ہوتی ہیں
اور دور ارغوانی روشنی سے تیرتی جھلملاتی ہیں،
یوں تب شاہی دہلیز کی چھتیں چھوڑتے ہوئے
ہر ایک بھٹکتے پاؤں جدھر جدھر بکھر گیا۔
اُن کے جانے کے بعد سب سے پہلے پیلیون کی چوٹی سے
کائرون جنگل کے تحفے لیے آ پہنچا:
کیونکہ جو کچھ میدان اگاتے ہیں، جو کچھ تھیسالی کے
اونچے پہاڑوں کا کنارہ جنتا ہے، جو کچھ نہر کی لہروں کے پاس
گرم فاوونیوس کی زرخیز ہوا پھول جنتی ہے،
اُنہیں بےترتیب ہاروں میں گوندھ کر وہ خود لایا،
جس کی خوشگوار خوشبو سے سہلایا گھر مسکرا اٹھا۔
فوراً پینیوس آتا ہے، ہرا ٹیمپے چھوڑتے،
ٹیمپے جسے اوپر جھکے جنگل گھیرتے ہیں،
دوریئن پریوں کے ناچوں سے سجانے کو،
خالی ہاتھ نہیں: کیونکہ وہ جڑ سے اونچے
بلوط اور سیدھے تنے والے لمبے تیج پات لایا،
جھومتے چنار اور فاٹون کی جلی بہن یعنی لچکیلی
اور آسمان چھوتے سرو کے بغیر نہیں۔
اِنہیں محل کے گرد دور تک بُن کر رکھا،
تاکہ دہلیز نرم پتوں سے ڈھکی ہری بھری ہو۔
اِس کے بعد ہوشیار دل والا پرومیتھیوس آتا ہے
پرانی سزا کے مدھم نشان لیے
جو کبھی چٹان سے زنجیر میں جکڑ کر
لٹکتے ہوئے، ٹوٹی چوٹیوں سے، اُس نے چکائی تھی۔
پھر دیوتاؤں کا باپ اپنی مقدس بیوی اور بیٹوں سمیت
آیا، تجھے آسمان میں اکیلا، فوئبوس، چھوڑتے
اور ساتھ ہی اِدری کے پہاڑوں کی باسی تیری جڑواں بہن کو:
کیونکہ اُس بہن نے تیرے ساتھ مل کر پیلیوس کو حقیر جانا
اور تھیتِس کی شادی کی مشعلیں منانا نہ چاہا۔
جب اُنہوں نے برف جیسے تختوں پر اپنے اعضا موڑے،
میزیں بہت طرح کے کھانوں سے کھڑکا کر بھر دی گئیں،
اِس دوران کمزور جھولتی حرکت سے بدن ہلاتی
پارکائیں سچ کہنے والے گیت چھیڑنے لگیں۔
اُن کا کانپتا بدن ہر طرف سے سفید کپڑا لپیٹے
ٹخنوں کو ارغوانی حاشیے سے کسے ہوئے تھا،
اور سفید سر پر گلابی پٹیاں ٹکی تھیں،
اور ہاتھ رسم کے مطابق ابدی کام کرتے تھے۔
بایاں ہاتھ نرم اُون سے لدی پونی تھامے تھا،
داہنا پھر ہلکے سے دھاگے کھینچتا سیدھی
انگلیوں سے صورت بناتا، پھر جھکے انگوٹھے پر بل دیتا
متوازن ترکلے کو چکنے چکر سے گھماتا،
اور یوں دانت سے کاٹتا کام کو ہمیشہ برابر کرتا،
اور اُون کے کترے سوکھے ہونٹوں سے چپکے رہتے
جو پہلے چکنے دھاگے پر ابھرے ہوئے تھے۔
پاؤں کے آگے چمکتی اُون کے نرم گچھے
بید کی ٹوکریاں سنبھالتی تھیں۔
یہ اُون کو کھینچتی صاف گونجتی آواز سے
ایسی تقدیریں الٰہی گیت میں انڈیل بیٹھیں،
وہ گیت جسے کوئی زمانہ بےوفائی کا الزام نہ دے گا:
اے عظیم جوہروں سے شان بڑھاتی زینت،
اِماتھیا کی طاقت کے محافظ، بیٹے سے سب سے روشن،
سُن جو خوش دن میں بہنیں تجھ پر ظاہر کرتی ہیں،
سچی پیش گوئی۔ مگر تم، جو تقدیروں کے پیچھے چلتے ہو،
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
اب تجھے شوہروں کے لیے مطلوب لاتی
شامِ ستارہ آئے گی، مبارک ستارے کے ساتھ آئے گی بیوی،
جو تیرے دل کو موڑنے والی محبت سے بھر دے گی
اور تیرے ساتھ ماندی نیندیں جوڑنے کو تیار ہو گی
اپنی نرم بانہیں تیری مضبوط گردن کے نیچے بچھاتی۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
کسی گھر نے کبھی ایسی محبتیں نہ سمیٹیں،
کسی محبت نے ایسے عہد سے عاشقوں کو نہ جوڑا
جیسی تھیتِس کو ہے، جیسا میل پیلیوس کو ہے۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
تم سے خوف سے بےگانہ اخیلیس جنم لے گا،
دشمنوں کو پیٹھ سے نہیں، بلکہ مضبوط سینے سے جانا جانے والا،
جو اکثر بھٹکتی دوڑ کے مقابلے میں فاتح ہو کر
تیز ہرنی کے شعلہ سا قدموں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
جنگ میں کوئی سورما اُس کا مقابلہ نہ کرے گا،
جب فروجیائی میدان توئیکر کے خون سے بہیں گے
اور دور دراز جنگ میں ٹرائے کی فصیلیں گھیر کر
جھوٹے پیلوپس کا تیسرا وارث اُنہیں اجاڑے گا۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
اُس کے شان دار جوہر اور روشن کارنامے
اکثر بیٹوں کے جنازوں پر مائیں مان لیں گی،
جب سفید سر سے اَن سنورے بال کھولیں گی
اور کمزور ہتھیلیوں سے مرجھائے سینے پیٹیں گی۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
کیونکہ جیسے کاٹنے والا گھنی بالیوں کو پہلے کترتا
جلتے سورج کے نیچے زرد کھیت کاٹتا ہے،
یوں وہ ٹرائے کی نسل کے بدن دشمن لوہے سے پچھاڑے گا۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
اُس کے عظیم جوہروں کی گواہ سکامندر کی لہر ہو گی،
جو جگہ جگہ تیز ہیلیس پونٹ میں پھیلتی ہے،
جس کا راستہ کٹے بدنوں کے ڈھیروں سے تنگ کرتا
اونچی گہری ندیوں کو خون میں ملی گرمی بخشے گا۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
آخر گواہ موت کو دیا گیا شکار بھی ہو گا،
جب چکنی اونچی ٹیلے پر جمع لکڑی کا ڈھیر
ماری گئی کنواری کے برف جیسے اعضا سنبھالے گا۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
کیونکہ جیسے ہی قسمت تھکے یونانیوں کو موقع دے گی
کہ دارداں شہر کے نیپتونی بندھن کھولیں،
اونچی قبریں پولیکسینا کے قتل سے تر ہوں گی،
جو، جیسے دو دھاری لوہے کے آگے جھکتا قربانی کا جانور،
گھٹنے ٹیک کر اپنا کٹا بدن گرا دے گی۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
پس چلو، دل کی مطلوب محبتیں جوڑ دو۔
شوہر مبارک عہد سے دیوی کو قبول کرے،
دلہن مشتاق شوہر کو اب بہت دیر بعد سونپ دی جائے۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
اُسے دائی صبح کی روشنی میں پھر دیکھ کر
کل کے دھاگے سے گلے میں نہ لپیٹ سکے گی
(دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو)،
نہ بےقرار ماں ناراض بیٹی کے
الگ سونے سے پیارے پوتوں کی اُمید توڑے گی۔
دوڑو، تانے کھینچتے، دوڑو، اے ترکلو۔
ایسی مبارک باتیں پیلیوس کے لیے پہلے
پارکائیں الٰہی سینے سے گا چکی تھیں۔
کیونکہ پہلے، آسمانی خود سورماؤں کے پاکیزہ گھروں کو
سامنے آ کر دیکھنے اور فانی مجمع میں خود کو
دکھانے کے عادی تھے، جب تک تقوی حقیر نہ ہوا تھا۔
اکثر دیوتاؤں کا باپ چمکتے مندر میں، پھر آتا
جب سالانہ رسمیں تہواروں کے دنوں میں آتیں،
سو بیلوں کو زمین پر گرتے دیکھتا۔
اکثر بھٹکتا لیبر پارناسوس کی اونچی چوٹی پر
کھلے بالوں سے چیختی تھیائیدوں کو ہانکتا،
جب دیلفی کے لوگ سارے شہر سے مقابلہ کرتے دوڑ کر
خوش دیوتا کو دھواں دیتی قربان گاہوں پر لیتے۔
اکثر جنگ کے مہلک مقابلے میں ماورس
یا تیز تریتون کی بانو یا رامنوسیائی کنواری
ہتھیار بند انسانی جھنڈوں کو خود موجود ہو کر ابھارتی۔
مگر جب زمین نفرت انگیز گناہ سے آلودہ ہوئی،
اور سب نے مشتاق دل سے انصاف کو بھگا دیا،
بھائیوں نے بھائیوں کے خون سے ہاتھ رنگے،
بیٹے نے مرے ماں باپ کا ماتم چھوڑ دیا،
باپ نے اپنے جوان بیٹے کی موت کی خواہش کی
تاکہ آزادی سے کنواری سوتیلی ماں کے پھول کا مالک ہو،
ناپاک ماں اَن جان بیٹے کے نیچے خود کو بچھاتی
ناپاک، دیوتاؤں کو آبائی گناہ سے آلودہ کرنے سے نہ ڈری،
سب حلال حرام بُرے جنون میں گڈمڈ کر کے
دیوتاؤں کے انصاف پرور دل کو ہم سے پھیر دیا۔
پس نہ وہ ایسے مجمعوں کو دیکھنا گوارا کرتے ہیں
نہ روشن دن کی روشنی سے چھونے دیتے ہیں۔
dicuntur liquidas Neptuni nasse per undas
Phasidos ad fluctus et fines Aeeteos,
cum lecti iuvenes, Argivae robora pubis,
auratam optantes Colchis avertere pellem
ausi sunt vada salsa cita decurrere puppi,
caerula verrentes abiegnis aequora palmis.
diva quibus retinens in summis urbibus arces
ipsa levi fecit volitantem flamine currum,
pinea coniungens inflexae texta carinae.
illa rudem cursu prima imbuit Amphitriten.
quae simul ac rostro ventosum proscidit aequor
tortaque remigio spumis incanduit unda,
emersere freti candenti e gurgite vultus
aequoreae monstrum Nereides admirantes.
illa, siqua alia, viderunt luce marinas
mortales oculis nudato corpore nymphas
nutricum tenus exstantes e gurgite cano.
tum Thetidis Peleus incensus fertur amore,
tum Thetis humanos non despexit hymenaeos,
tum Thetidi pater ipse iugandum Pelea sensit.
o nimis optato saeclorum tempore nati
heroes, salvete, deum genus, o bona matrum
progenies, salvete iterum
vos ego saepe meo, vos carmine compellabo,
teque adeo eximie taedis felicibus aucte
Thessaliae columen Peleu, cui Iuppiter ipse,
ipse suos divum genitor concessit amores.
tene Thetis tenuit pulcherrirma Nereine?
tene suam Tethys concessit ducere neptem
Oceanusque, mari totum qui amplectitur orbem?
quae simul optatae finito tempore luces
advenere, domum conventu tota frequentat
Thessalia, oppletur laetanti regia coetu:
dona ferunt prae se, declarant gaudia vultu.
deseritur Cieros, linquunt Phthiotica Tempe
Crannonisque domos ac moenia Larisaea,
Pharsalum coeunt, Pharsalia tecta frequentant.
rura colit nemo, mollescunt colla iuvencis,
non humilis curvis purgatur vinea rastris,
non glaebam prono convellit vomere taurus,
non falx attenuat frondatorum arboris umbram,
squalida desertis robigo infertur aratris.
ipsius at sedes, quacumque opulenta recessit
regia, fulgenti splendent auro atque argento.
candet ebur soliis, conlucent pocula mensae,
tota domus gaudet regali splendida gaza.
pulvinar vero divae geniale locatur
sedibus in mediis, Indo quod dente politum
tincta tegit roseo conchyli purpura fuco.
haec vestis priscis hominum variata figuris
heroum mira virtutes indicat arte.
namque fluentisono prospectans litore Diae
Thesea cedentem celeri cum classe tuetur
indomitos in corde gerens Ariadna furores,
necdum etiam sese quae visit visere credit,
ut pote fallaci quae tunc primum excita somno
desertam in sola miseram se cernat harena.
immemor at iuvenis fugiens pellit vada remis,
irrita ventosae linquens promissa procellae.
quem procul ex alga maestis Minois ocellis
saxea ut effigies bacchantis prospicit, eheu,
prospicit et magnis curarum fluctuat undis,
non flavo retinens subtilem vertice mitram,
non contecta levi velatum pectus amictu,
non tereti strophio lactentis vincta papillas,
omnia quae toto delapsa e corpore passim
ipsius ante pedes fluctus salis adludebant.
sic neque tum mitrae neque tum fluitantis amictus
illa vicem curans toto ex te pectore, Theseu,
toto animo, tota pendebat perdita mente.
ah misera, adsiduis quam luctibus exsternavit
spinosas Erycina serens in pectore curas
illa tempestate, ferox quo ex tempore Theseus
egressus curvis e litoribus Piraei
attigit iniusti regis Gortynia tecta.
nam perhibent olim crudeli peste coactam
Androgeoneae poenas exsolvere caedis
electos iuvenes simul et decus innuptarum
Cecropiam solitam esse dapem dare Minotauro.
quis angusta malis cum moenia vexarentur,
ipse suum Theseus pro caris corpus Athenis
proicere optavit potius quam talia Cretam
funera Cecropiae nec funera portarentur.
atque ita nave levi nitens ac lenibus auris
magnanimum ad Minoa venit sedesque superbas.
hunc simul ac cupido conspexit lumine virgo
regia, quam suavis exspirans castus odores
lectulus in molli complexu matris alebat,
quales Eurotae progignunt flumina myrtos
aurave distinctos educit verna colores,
non prius ex illo flagrantia declinavit
lumina quam cuncto concepit corpore flammam
funditus atque imis exarsit tota medullis.
heu misere exagitans immiti corde furores,
sancte puer, curis hominum qui gaudia misces,
quaeque regis Golgos quaeque Idalium frondosum,
qualibus incensam iactastis mente puellam
fluctibus in flavo saepe hospite suspirantem!
quantos illa tulit languenti corde timores,
quanto saepe magis fulgore expalluit auri,
cum saevum cupiens contra contendere monstrum
aut mortem appeteret Theseus aut praemia laudis.
non ingrata tamen frustra munuscula divis
promittens tacito succendit vota labello.
nam velut in summo quatientem bracchia Tauro
quercum aut conigeram sudanti cortice pinum
indomitus turbo contorquens flamine robur
eruit (illa procul radicitus exturbata
prona cadit, † lateque cum eius obvia frangens),
sic domito saevum prostravit corpore Theseus
nequiquam vanis iactantem cornua ventis.
inde pedem sospes multa cum laude reflexit
errabunda regens tenui vestigia filo,
ne labyrintheis e flexibus egredientem
tecti frustraretur inobservabilis error.
sed quid ego a primo digressus carmine plura
commemorem, ut linquens genitoris filia vultum,
ut consanguineae complexum, ut denique matris,
quae misera in gnata deperdita laetabatur,
omnibus his Thesei dulcem praeoptarit amorem,
aut ut vecta rati spumosa ad litora Diae
venerit, aut ut eam devinctam lumina somno
liquerit immemori discedens pectore coniunx?
saepe illam perhibent ardenti corde furentem
clarisonas imo fudisse ex pectore voces,
ac tum praeruptos tristem conscendere montes
unde aciem in pelagi vastos protenderet aestus,
tum tremuli salis adversas procurrere in undas
mollia nudatae tollentem tegmina surae,
atque haec extremis maestam dixisse querelis,
frigidulos udo singultus ore cientem:
sicine me patriis avectam, perfide, ab aris,
perfide, deserto liquisti in litore, Theseu?
sicine discedens neglecto numine divum
immernor ah devota domum periuria portas?
nullane res potuit crudelis flectere mentis
consilium? tibi nulla fuit clementia praesto
immite ut nostri vellet miserescere pectus?
at non haec quondam blanda promissa dedisti
voce mihi, non haec miserae sperare iubebas,
sed conubia laeta, sed optatos hymenaeos:
quae cuncta aerii discerpunt irrita venti.
nunc iam nulla viro iuranti femina credat,
nulla viri speret sermones esse fideles:
quis dum aliquid cupiens animus praegestit apisci,
nil metuunt iurare, nihil promittere parcunt:
sed simul ac cupidae mentis satiata libido est,
dicta nihil meminere, nihil periuria curant.
certe ego te in medio versantem turbine leti
eripui et potius germanum amittere crevi
quam tibi fallaci supremo in tempore deessem:
pro quo dilaceranda feris dabor alitibusque
praeda neque iniecta tumulabor mortua terra.
quaenam te genuit sola sub rupe leaena,
quod mare conceptum spumantibus exspuit undis.
quae Syrtis, quae Scylla rapax, quae vasta Charybdis,
talia qui reddis pro dulci praemia vita?
si tibi non cordi fuerant conubia nostra,
saeva quod horrebas prisci praecepta parentis,
at tamen in vestras potuisti ducere sedes
quae tibi iucundo famularer serva labore
candida permulcens liquidis vestigia lymphis
purpureave tuum constemens veste cubile.
sed quid ego ignaris nequiquam conqueror auris
exsternata malo, quae nullis sensibus auctae
nec missas audire queunt nec reddere voces?
ille autem prope iam mediis versatur in undis,
nec quisquam adparet vacua mortalis in alga.
sic nimis insultans extremo tempore saeva
fors etiam nostris invidit questibus auris.
Iuppiter omnipotens, utinam ne tempore primo
Gnosia Cecropiae tetigissent litora puppes,
indomito nec dira ferens stipendia tauro
perfidus in Creta religasset navita funem,
nec malus hic celans dulci crudelia forma
consilia in nostris requiesset sedibus hospes!
nam quo me referam? quali spe perdita nitor?
Idaeosne petam montes? ah, gurgite lato
discernens ponti truculentum ubi dividit aequor?
an patris auxilium sperem, quemne ipsa reliqui
respersum iuvenem fraterna caede secuta?
coniugis an fido consoler memet amore,
quine fugit lentos incurvans gurgite remos?
praeterea nullo litus, sola insula, tecto,
nec patet egressus pelagi cingentibus undis:
nulla fugae ratio, nulla spes: omnia muta,
omnia sunt deserta, ostentant omnia letum.
non tamen ante mihi languescent lumina morte,
nec prius a fesso secedent corpore sensus
quam iustam a divis exposcam prodita multam
caelestumque fidem postrema comprecer hora.
quare, facta virum multantes vindice poena
Eumenides, quibus anguino redimita capillo
frons exspirantis praeportat pectoris iras,
huc huc adventate, meas audite querelas,
quas ego, vae miserae, extremis proferre medullis
cogor inops, ardens, amenti caeca furore.
quae quoniam verae nascuntur pectore ab imo,
vos nolite pati nostrum vanescere luctum,
sed quali solam Theseus me mente reliquit,
tali mente, deae, funestet seque suosque.
has postquam maesto profudit pectore voces
supplicium saevis exposcens anxia factis,
adnuit invicto caelestum numine rector,
quo nutu tellus atque horrida contremuerunt
aequora concussitque micantia sidera mundus.
ipse autem caeca mentem caligine Theseus
consitus oblito dimisit pectore cuncta
quae mandata prius constanti mente tenebat,
dulcia nec maesto sustollens signa parenti
sospitem Erechtheum se ostendit visere portum
namque ferunt olim, classi cum moenia divae
linquentem gnatum ventis concrederet Aegeus,
talia complexum iuveni mandata dedisse:
gnate mihi longe iucundior unice vita,
gnate, ego quem in dubios cogor dimittere casus
reddite in extrema nuper mihi fine senectae,
quandoquidem fortuna mea ac tua fervida virtus
eripit invito mihi te, cui languida nondum
lumina sunt gnati cara saturata figura,
non ego te gaudens laetanti pectore mittam,
nec te ferre sinam fortunae signa secundae,
sed primum multas expromam mente querelas
canitiem terra atque infuso pulvere foedans,
inde infecta vago suspendam lintea malo,
nostros ut luctus nostraeque incendia mentis
carbasus obscurata decet ferrugine Hibera.
quod tibi si sancti concesserit incola Itoni,
quae nostrum genus ac sedes defendere Erechthei
adnuit, ut tauri respergas sanguine dextram,
tum vero facito ut memori tibi condita corde
haec vigeant mandata, nec ulla oblitteret aetas,
ut simul ac nostros invisent lumina collis,
funestam antennae deponant undique vestem
candidaque intorti sustollant vela rudentes,
quam primum cernens ut laeta gaudia mente
agnoscam, cum te reducem aetas prospera sistet.
haec mandata prius constanti mente tenentem
Thesea ceu pulsae ventorum flamine nubes
aerium nivei montis liquere cacumen.
at pater, ut summa prospectum ex arce petebat
anxia in adsiduos absumens lumina fletus,
cum primum inflati conspexit lintea veli,
praecipitem sese scopulorum e vertice iecit
amissum credens immiti Thesea fato.
sic funesta domus ingressus tecta paterna
morte ferox Theseus, qualem Minoidi luctu
obtulerat mente immemori, talem ipse recepit.
quae tum prospectans cedentem maesta carinam
multiplices animo volvebat saucia curas.
at parte ex alia florens volitabat Iacchus
cum thiaso satyrorum et Nysigenis silenis
te quaerens, Ariadna, tuoque incensus arnore.
quae tum alacres passim lymphata mente furebant
euhoe bacchantes, euhoe capita inflectentes.
harum pars tecta quatiebant cuspide thyrsos,
pars e divulso iactabant membra iuvenco,
pars sese tortis serpentibus incingebant,
pars obscura cavis celebrabant orgia cistis,
orgia quae frustra cupiunt audire profani,
plangebant aliae proceris tympana palmis
aut tereti tenuis tinnitus aere ciebant,
multis raucisonos efflabant cornua bombos
barbaraque horribili stridebat tibia cantu.
talibus amplifice vestis decorata figuris
pulvinar complexa suo velabat amictu.
quae postquam cupide spectando Thessala pubes
expleta est, sanctis coepit decedere divis.
hic, qualis flatu placidum mare matutino
horrificans Zephyrus proclivas incitat undas
aurora exoriente vagi sub limina solis,
quae tarde primum clementi flamine pulsae
procedunt, leviterque sonant plangore cachinni,
post vento crescente magis magis increbescunt
purpureaque procul nantes ab luce refulgent,
sic tum vestibuli linquentes regia tecta
ad se quisque vago passim pede discedebant.
quorum post abitum princeps e vertice Peli
advenit Chiron portans silvestria dona:
nam quoscumque ferunt campi, quos Thessala magnis
montibus ora creat, quos propter fluminis undas
aura parit flores tepidi fecunda Favoni,
hos indistinctis plexos tulit ipse corollis,
quo permulsa domus iucundo risit odore.
confestim Penios adest, viridantia Tempe,
Tempe quae silvae cingunt super impendentes,
naiasin linquens Doris celebranda choreis,
non vacuus: namque ille tulit radicitus altas
fagos ac recto proceras stipite laurus,
non sine nutanti platano lentaque sorore
flammati Phaethontis et aeria cupressu.
haec circum sedes late contexta locavit,
vestibulum ut molli velatum fronde vireret.
post hunc consequitur sollerti corde Prometheus
extenuata gerens veteris vestigia poenae
quam quondam silici restrictus membra catena
persolvit pendens e verticibus praeruptis.
inde pater divum sancta cum coniuge natisque
advenit, caelo te solum, Phoebe, relinquens
unigenamque simul cultricem montibus Idri:
Pelea nam tecum pariter soror adspernata est
nec Thetidis taedas voluit celebrare iugalis.
qui postquam niveis flexerunt sedibus artus,
large multiplici constructae sunt dape mensae,
cum interea infirmo quatientes corpora motu
veridicos Parcae coeperunt edere cantus.
his corpus tremulum complectens undique vestis
candida purpurea talos incinxerat ora,
at roseae niveo residebant vertice vittae,
aeternumque manus carpebant rite laborem.
laeva colum molli lana retinebat amictum,
dextera tum leviter deducens fila supinis
formabat digitis, tum prono in pollice torquens
libratum tereti versabat turbine fusum,
atque ita decerpens aequabat semper opus dens,
laneaque aridulis haerebant morsa labellis
quae prius in levi fuerant exstantia filo.
ante pedes autem candentis mollia lanae
vellera virgati custodibant calathisci.
haec tum clarisona vellentes vellera voce
talia divino fuderunt carmine fata,
carmine perfidiae quod post nulla arguet aetas:
o decus eximium magnis virtutibus augens,
Emathiae tutamen opis, clarissime nato,
accipe quod laeta tibi pandunt luce sorores,
veridicum oraclum. sed vos, quae fata secuntur,
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
adveniet tibi iam portans optata maritis
Hesperus, adveniet fausto cum sidere coniunx,
quae tibi flexanimo mentem perfundat amore
languidulosque paret tecum coniungere somnos
levia substernens robusto bracchia collo.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
nulla domus tales unquam contexit amores,
nullus amor tali coniunxit foedere amantes
qualis adest Thetidi, qualis concordia Peleo.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
nascetur vobis expers terroris Achilles,
hostibus haud tergo, sed forti pectore notus,
qui persaepe vago victor certamine cursus
flammea praevertet celeris vestigia cervae.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
non illi quisquam bello se conferet heros,
cum Phrygii Teucro manabunt sanguine campi
Troicaque obsidens longinquo moenia bello
periuri Pelopis vastabit tertius heres.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
illius egregias virtutes claraque facta
saepe fatebuntur gnatorum in funere matres,
cum incultum cano solvent a vertice crinem
putridaque infirmis variabunt pectora palmis.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
namque velut densas praecerpens messor aristas
sole sub ardenti flaventia demetit arva,
Troiugenum infesto prosternet corpora ferro.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
testis erit magnis virtutibus unda Scamandri,
quae passim rapido diffunditur Hellesponto,
cuius iter caesis angustans corporum acervis
alta tepefaciet permixta flumina caede.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
denique testis erit morti quoque reddita praeda
cum teres excelso coacervatum aggere bustum
excipiet niveos percussae virginis artus.
Currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
nam simul ac fessis dederit fors copiam Achivis
urbis Dardaniae Neptunia solvere vincla,
alta Polyxenia madefient caede sepulcra,
quae, velut ancipiti succumbens victima ferro,
proiciet truncum submisso poplite corpus.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
quare agite optatos animi coniungite amores.
accipiat coniunx felici foedere divam,
dedatur cupido iam dudum nupta marito.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
non illam nutrix orienti luce revisens
hesterno collum poterit circumdare filo
(currite ducentes subtegmina, currite, fusi),
anxia nec mater discordis maesta puellae
secubitu caros mittet sperare nepotes.
currite ducentes subtegmina, currite, fusi.
talia praefantes quondam felicia Pelei
carmina divino cecinerunt pectore Parcae.
praesentes namque ante domos invisere castas
heroum et sese mortali ostendere coetu
caelicolae nondum spreta pietate solebant.
saepe pater divum templo in fulgente, revisens
annua cum festis venissent sacra diebus,
conspexit terra centum procumbere tauros.
saepe vagus Liber Parnasi vertice summo
Thyiadas effusis euantis crinibus egit,
cum Delphi tota certatim ex urbe ruentes
acciperent laeti divum fumantibus aris.
saepe in letifero belli certamine Mavors
aut rapidi Tritonis era aut Rhamnusia virgo
armatas hominum est praesens hortata catervas.
sed postquam tellus scelere est imbuta nefando,
iustitiamque omnes cupida de mente fugarunt,
perfudere manus fraterno sanguine fratres,
destitit exstinctos natus lugere parentes,
optavit genitor primaevi funera nati
Liber ut innuptae poteretur flore novercae,
ignaro mater substernens se impia nato
impia non verita est divos scelerare parentes,
omnia fanda nefanda malo permixta furore
iustificam nobis mentem avertere deorum.
quare nec talis dignantur visere coetus
nec se contingi patiuntur lumine claro.
عالم کنواریوں سے دور کھینچتی ہے، اے اورتالوس،
اور میرا دل موساؤں کی میٹھی پیداوار
نہیں نکال سکتا: وہ خود اِتنی مصیبتوں میں ڈولتا ہے،—
کیونکہ ابھی حال ہی میں میرے بھائی کے
زرد پاؤں کو لیتھے کے بھنور سے بہتی لہر نے چھوا،
جسے ٹرائے کی زمین روئتیئی ساحل کے نیچے
ہماری آنکھوں سے چھین کر دبائے ہوئے ہے۔
میں تجھے کبھی، اے بھائی، جو زندگی سے زیادہ پیارا،
اِس کے بعد نہ دیکھوں گا: مگر یقیناً ہمیشہ چاہوں گا،
ہمیشہ تیری موت پر دکھی گیت گاؤں گا،
جیسے شاخوں کے گھنے سائے تلے
داولِس اِتیلوس کی موت پر روتی گاتی ہے،—
پھر بھی، اِتنے غموں میں، اے اورتالوس، میں تجھے
باتّیادیس کے یہ ترجمہ کیے گیت بھیجتا ہوں،
تاکہ تُو یہ نہ سمجھے کہ تیری باتیں بھٹکتی ہواؤں کے
سپرد کر کے میرے دل سے شاید نکل گئیں،
جیسے منگیتر کا چوری چھپے تحفہ بھیجا ہوا سیب
پاکیزہ کنواری کی گود سے لڑھک نکلتا ہے،
جسے بدنصیب بھول کر نرم لباس کے نیچے رکھے،
جب ماں کے آنے پر اچھل پڑتی ہے، جھڑ جاتا ہے؛
اور وہ سر کے بل ڈھلوان سے نیچے لڑھکتا ہے،
اِس کے دکھی چہرے پر جرم کی سرخی امڈ آتی ہے۔
sevocat a doctis, Ortale, virginibus,
nec potis est dulcis Musarum expromere fetus
mens animi: tantis fluctuat ipsa malis,—
namque mei nuper Lethaeo gurgite fratris
pallidulum manans adluit unda pedem,
Troia Rhoeteo quem subter litore tellus
Ereptum nostris obterit ex oculis.
nunquam ego te vita frater amabilior
adspiciam posthac: at certe semper amabo,
semper maesta tua carmina morte canam,
qualia sub densis ramorum concinit umbris
Daulias absumpti fata gemens Ityli,—
sed tamen in tantis maeroribus, Ortale, mitto
haec expressa tibi carmina Battiadae,
ne tua dicta vagis nequiquam credita ventis
effluxisse meo forte putes animo,
ut missum sponsi furtivo munere malum
procurrit casto virginis e gremio,
quod miserae oblitae molli sub veste locatum,
dum adventu matris prosilit, excutitur;
atque illud prono praeceps agitur decursu,
huic manat tristi conscius ore rubor.
جس نے ستاروں کے طلوع و غروب جان لیے،
کیسے تیز سورج کی شعلہ چمک ماند پڑتی ہے،
کیسے ستارے مقررہ وقتوں پر ہٹ جاتے ہیں،
کیسے تریویا کو چوری چھپے لاتمیائی چٹانوں کے نیچے بھیج کر
میٹھی محبت اُسے فضائی چکر سے بلا لیتی ہے،
اُسی کونون نے مجھے آسمانی روشنی میں دیکھا
بیرینیکے کے سر سے کاٹی ہوئی وہ لٹ
صاف صاف دمکتی ہوئی، جسے اُس نے سب دیوتاؤں کو
اپنی نرم بانہیں بڑھاتے ہوئے نذر کیا تھا،
اُس وقت جب بادشاہ نئے نکاح سے سرفراز ہو کر
اسوری سرحدوں کو اجاڑنے چلا گیا تھا،
رات کی لڑائی کے میٹھے نشان لیے
جو اُس نے کنواری کی لوٹ سے کمائے تھے۔
کیا نئی دلہنوں کو وینس ناگوار ہے، اور کیا وہ ماں باپ کی
خوشیوں کو جھوٹے آنسوؤں سے مایوس کرتی ہیں
جو وہ حجلے کی دہلیز کے اندر کثرت سے بہاتی ہیں؟
نہیں، دیوتاؤں کی قسم، وہ سچے آنسو نہیں۔
یہ میری ملکہ نے مجھے بہت شکایتوں سے سکھایا
جب نیا شوہر خونی جنگوں کو جا رہا تھا۔
اور تُو نے ویران بستر کا ماتم نہ کیا،
بلکہ پیارے بھائی کی دکھ بھری جدائی کا؟
غم نے تیری دکھی مغز کو کتنی گہرائی تک کھایا!
تب سارے پریشان سینے سے کیسے تیرے
حواس چھن گئے، تیرا دماغ کھو گیا! مگر میں یقیناً
تجھے چھوٹی کنواری سے دلیر جانتا تھا۔
کیا تُو وہ نیک کارنامہ بھول گئی، جس سے شاہی
نکاح پایا، جس پر کوئی اور دلیر جرأت نہ کرتا؟
مگر تب شوہر کو رخصت کرتے تُو نے کیسے بول کہے!
جیوپیٹر، دکھی ہاتھ سے کتنی بار آنکھیں پونچھیں!
تجھے کس بڑے دیوتا نے بدل دیا؟ یا اِس لیے کہ عاشق
پیارے بدن سے دور نہیں رہنا چاہتے؟
اور تب تُو نے سب دیوتاؤں کو، اپنے میٹھے شوہر کے لیے،
بیل کے خون کے ساتھ مجھے نذر کیا،
اگر وہ لوٹ آئے۔ اُس نے کچھ ہی عرصے میں
فتح شدہ ایشیا کو مصر کی سرحدوں میں ملا لیا۔
جس کے عوض میں، اِن کاموں پر آسمانی مجمع کو لوٹائی گئی،
اپنی پرانی منت نئے تحفے سے چکاتی ہوں۔
بےدلی سے، اے ملکہ، میں تیرے سر سے جدا ہوئی،
بےدلی سے: میں تیری اور تیرے سر کی قسم کھاتی ہوں:
اِس کے لائق سزا پائے جو یہ قسم جھوٹ کھائے:
مگر کون خود کو لوہے کے برابر جتلائے؟
وہ پہاڑ بھی الٹ دیا گیا جو اُن ساحلوں پر سب سے بڑا تھا
جس پر تھیا کی روشن اولاد گزرتی ہے،
جب میدیوں نے نیا سمندر جنا، اور جب جوانی
بیچ میں سے وحشی بیڑے سے آتھوس پار کر گئی۔
لٹیں کیا کریں گی، جب ایسی چیزیں لوہے کے آگے جھکتی ہیں؟
جیوپیٹر، کالِبوں کی ساری نسل ہلاک ہو،
اور وہ جس نے ابتدا میں زمین کے نیچے رگیں ڈھونڈنے کی
ٹھانی اور لوہے کی سختی گھڑنی شروع کی!
مجھ سے تھوڑی دیر پہلے جدا ہوئی لٹیں میری قسمت پر
ماتم کرتی تھیں، جب میمنون ایتھیوپی کی جڑواں
ہوا کو جھولتے پروں سے پیٹتا
سامنے آیا، آرسینوئے کا لوکری پرندہ گھوڑا،
اور مجھے فضائی سایوں میں اٹھا کر اڑ لے گیا
اور وینس کی پاکیزہ گود میں رکھ دیا۔
خود زیفیریتِس نے وہاں اپنا خادم بھیجا تھا،
یونانی، کینوپس کے ساحلوں کی باسی،
تاکہ آسمان کی رنگ برنگی روشنی میں صرف
اریادنے کی کنپٹیوں کی سنہری تاج ہی
جڑا نہ رہے، بلکہ ہم بھی دمکیں،
سنہرے سر کی نذر کی ہوئی لوٹ،
مجھے آنسوؤں سے بھیگی، دیوتاؤں کے مندروں کو جاتے
دیوی نے قدیم ستاروں میں نیا ستارہ بنا کر رکھ دیا:
کیونکہ کنواری اور خونخوار شیر کی روشنیوں کو چھوتی،
کالِستو کے پاس، لِکاون کی بیٹی کے،
میں غروب کی طرف مڑتی ہوں، سست بوئوتیس کی رہنما،
جو مشکل سے دیر میں گہرے اوقیانوس میں ڈوبتا ہے۔
مگر اگرچہ رات کو دیوتاؤں کے قدم مجھے دباتے ہیں،
اور روشنی مجھے سفید تیتھِس کو لوٹا دیتی ہے،
(تیری اجازت سے یہاں کہنے دے، رامنوسیائی کنواری:
کیونکہ میں کسی خوف سے سچ نہ چھپاؤں گی،
نہ اگر ستارے مجھے کینہ بھری باتوں سے پھاڑیں،
سچے دل کی چھپی باتیں کھول کر رکھ دوں گی)
میں اِن باتوں سے اِتنی خوش نہیں جتنا اِس بات پر
کہ اپنی مالکہ کے سر سے ہمیشہ دور رہوں گی، تڑپتی ہوں،
جس کے ساتھ میں نے، جب وہ کبھی کنواری تھی، ہر
خوشبو سے محروم، ہزاروں خوشبوئیں ساتھ پی تھیں۔
اب تم، جب مطلوب روشنی سے مشعل نے تمہیں جوڑا،
اپنے یک دل شوہروں کو بدن نہ سونپو
ننگی کر کے چھاتیوں سے کپڑا ہٹا کر،
جب تک عقیق کا برتن مجھے خوشگوار تحفے نہ دے،
تمہارا عقیق، تم جو پاکیزہ بستر کے حق نبھاتی ہو۔
مگر جو خود کو ناپاک زنا کے سپرد کرے،
آہ، اُس کے بُرے تحفے ہلکی بےکار دھول پیے:
کیونکہ میں ناحق لوگوں سے کوئی انعام نہیں مانگتی۔
بلکہ، اے دلہنو، ہمیشہ میل تمہارے گھروں میں،
ہمیشہ محبت مستقل بسے۔
اور تُو، اے ملکہ، جب ستارے دیکھتی دیوی
وینس کو تہواروں کی روشنیوں سے راضی کرے گی،
مجھے، جو تیری ہوں، خوشبو سے محروم نہ چھوڑ،
بلکہ فراخ تحفوں سے مجھے نواز۔
ستارے مجھے کیوں تھامے ہیں؟ کاش میں شاہی لٹ بنوں،
میرے پاس آبرِیون کی روشنی ہائیڈروکوس کے قریب دمکے۔
qui stellarum ortus comperit atque obitus,
flammeus ut rapidi solis nitor obscuretur,
ut cedant certis sidera temporibus,
ut Triviam furtim sub Latmia saxa relegans
dulcis amor gyro devocet aerio,
idem me ille Conon caelesti in lumine vidit
e Bereniceo vertice caesariem
fulgentem clare, quam cunctis illa deorum
levia protendens bracchia pollicita est,
qua rex tempestate novo auctus hymenaeo
vastatum finis iuerat Assyrios,
dulcia nocturnae portans vestigia rixae
quam de virgineis gesserat exuviis.
estne novis nuptis odio Venus, atque parentum
frustrantur falsis gaudia lacrimulis
ubertim thalami quas intra limina fundunt?
non, ita me divi vera gemunt, iuerint.
id mea me multis docuit regina querelis
invisente novo proelia torva viro.
at tu non orbum luxti deserta cubile,
sed fratris cari flebile discidium?
quam penitus maestas exedit cura medullas!
ut tibi tunc toto pectore sollicitae
sensibus ereptis mens excidit! at te ego certe
cognoram a parva virgine magnanimam.
anne bonum oblita es facinus, quo regium adepta es
coniugium, quod non fortior ausit alis?
sed tum maesta virum mittens quae verba locuta es!
Iuppiter, ut tristi lumina saepe manu!
quis te mutavit tantus deus? an quod amantes
non longe a caro corpore abesse volunt?
atque ibi me cunctis pro dulci coniuge divis
non sine taurino sanguine pollicita es,
si reditum tetulisset. is haud in tempore longo
captam Asiam Aegypti finibus addiderat.
quis ego pro factis caelesti reddita coetu
pristina vota novo munere dissolvo.
invita, o regina, tuo de vertice cessi,
invita: adiuro teque tuumque caput:
digna ferat quod si quis inaniter adiurarit:
sed qui se ferro postulet esse parem?
ille quoque eversus mons est quem maximum in oris
progenies Thiae clara supervehitur,
cum Medi peperere novum mare, cumque inventus
per medium classi barbara navit Athon.
quid facient crines, cum ferro talia cedant?
Iuppiter, ut Chalybon omne genus pereat,
et qui principio sub terra quaerere venas
institit ac ferri fingere duritiem!
abiunctae paulo ante comae mea fata sorores
lugebant, cum se Memnonis Aethiopis
unigena impellens nutantibus aera pennis
obtulit Arsinoes † elocridicos ales equus,
isque per aetherias me tollens avolat umbras
et Veneris casto conlocat in gremio.
ipsa suum Zephyritis eo famulum legarat,
Graia Canopiis incola litoribus,
†hi dii ven ibi vario ne solum in lumine caeli
ex Ariadneis aurea temporibus
fixa corona foret, sed nos quoque fulgeremus
devotae flavi verticis exuviae,
uvidulam a fletu cedentem ad temple deum me
sidus in antiquis diva novum posuit:
Virginis et saevi contingens namque Leonis
lumina, Callisto iuncta Lycaoniae,
vertor in occasum, tardum dux ante Booten,
qui vix sero alto mergitur Oceano.
sed quamquam me nocte premunt vestigia divum,
lux autem canae Tethyi restituit,
(pace tua fari hic liceat, Rhamnusia virgo:
namque ego non ullo vera timore tegam,
nec si me infestis discerpent sidera dictis,
condita quin veri pectoris evoluam)
non his tam laetor rebus quam me afore semper
afore me a dominae vertice discrucior,
quicum ego, dum virgo quondam fuit, omnibus expers
unguentis, una milia multa bibi.
nunc vos optato quom iunxit lumine taeda,
non prius unanimis corpora coniugibus
tradite nudantes reiecta veste papillas,
quam iucunda mihi munera libet onyx,
vester onyx, casto colitis quae iura cubili.
sed quae se impuro dedit adulterio,
illius ah mala dona levis bibat irrita pulvis:
namque ego ab indignis praemia nulla peto.
sed magis, o nuptae, semper concordia vestras,
semper amor sedes incolat adsiduus.
tu vero, regina, tuens cum sidera divam
placabis festis luminibus Venerem,
unguinis expertem non siris esse tuam me,
sed potius largis adfice muneribus.
sidera cur retinent? utinam coma regia fiam
proximus Hydrochoi fulgeret Oarion.
سلام، اور نیک جیوپیٹر تجھے دولت سے بڑھائے،
اے دروازے، جس کے بارے کہتے ہیں تُو نے بالبوس کی
کبھی مہربانی سے خدمت کی، جب خود بوڑھا گھر کا مالک تھا،
اور کہتے ہیں پھر تُو نے کج مزاجی سے خدمت کی،
جب بوڑھے کے مرنے پر تُو بیاہی گئی،
بتا ذرا ہمیں کیوں تجھ پر یہ الزام ہے کہ بدل کر
تُو نے اپنے پرانے مالک سے وفا چھوڑ دی۔
نہیں (یوں میں کائیکیلیوس کو پسند آؤں، جسے اب سونپی گئی ہوں)
یہ میرا قصور نہیں، اگرچہ کہا جاتا ہے کہ میرا ہے،
اور نہ کوئی مجھ سے کیے کسی جرم کا نام لے سکتا ہے:
مگر لوگ اُس کا قصور دروازے پر ڈالتے ہیں!
جو، جہاں کہیں کوئی بُری بات نکلتی ہے،
سب مجھ پر چلاتے ہیں، اے دروازے، تیرا قصور ہے۔
یہ کافی نہیں کہ تُو ایک لفظ میں یہ کہہ دے،
بلکہ ایسا کر کہ ہر کوئی محسوس کرے اور دیکھے۔
میں کیسے کروں؟ کوئی نہیں پوچھتا نہ جاننے کی زحمت کرتا۔
ہم چاہتے ہیں؛ ہمیں کہنے میں نہ ہچکچا۔
تو پہلے، جو کہا جاتا ہے کہ کنواری ہمیں سونپی گئی،
وہ جھوٹ ہے۔ اُسے پہلے شوہر نے نہ چھوا،
جس کی چقندر جیسی نرم چھری لٹکتی
کبھی درمیانی کُرتے تک نہ اٹھی:
بلکہ اُس کے باپ نے، کہتے ہیں، بیٹے کا بستر آلودہ کیا
اور بدنصیب گھر کو گناہ سے بھر دیا،
یا تو اِس لیے کہ ناپاک دل اندھی محبت میں جلتا تھا،
یا اِس لیے کہ نکما بیٹا بانجھ بیج سے تھا
اور ایسا کوئی ڈھونڈنا تھا جو زیادہ زور دار ہو
جو کنواری کی پیٹی کھول سکے۔
تُو عجب مثالی، حیرت انگیز محبت والا باپ بتاتی ہے،
جس نے خود اپنے بیٹے کی گود میں پیشاب کر دیا۔
مگر برِکسیا کہتی ہے کہ وہ صرف یہی نہیں جانتی،
برِکسیا جو کائینیائی مینار کے نیچے بستی ہے،
جسے زرد میلا نرم دھارے سے آگے دوڑتا ہے،
برِکسیا، میرے ویرونا کی پیاری ماں،
بلکہ پوستُمیوس اور کورنیلیوس کی محبت کا بھی ذکر کرتی ہے،
جن کے ساتھ اُس نے بُرا زنا کیا۔
یہاں کوئی کہے گا، کیا؟ تُو یہ سب، اے دروازے، جانتی ہے،
جسے کبھی مالک کی دہلیز سے دور رہنے کی اجازت نہیں،
نہ لوگوں کی سُننے کی، بلکہ یہاں شہتیر سے جڑی
تُو صرف گھر کھولنے بند کرنے کی عادی ہے؟
میں نے اکثر اُسے چوری کی آواز میں بات کرتے سنا
اکیلے لونڈیوں کے ساتھ یہ اپنی بےحیائیاں،
اُنہیں نام لے کر جنہیں ہم نے کہا، کیونکہ وہ سمجھتی تھی
کہ میری نہ زبان ہے نہ کان۔
اِس کے علاوہ کسی کا ذکر کرتی، جس کا نام میں نہیں لینا چاہتا
کہ وہ اپنے سرخ ابرو نہ اٹھائے۔
لمبا آدمی ہے، جس پر کبھی جھوٹے پیٹ نے جھوٹا
بچہ جننے کا بڑا مقدمہ لاد دیا تھا۔
salve, teque bona Iuppiter auctet ope,
Ianua, quam Balbo dicunt servisse benigne
olim, cum sedes ipse senex tenuit,
quamque ferunt rursus voto servisse maligne,
postquam es porrecto facta marita sene,
dic agedum nobis quare mutata feraris
in dominum veterem deseruisse fidem.
non (ita Caecilio placeam, cui tradita nunc sum)
culpa mea est, quamquam dicitur esse mea,
nec peccatum a me quisquam pote dicere quicquam:
†verum istius populi ianua qui te facit!
qui, quacumque aliquid reperitur non bene factum,
ad me omnes clamant, Ianua, culpa tua est.
non istuc satis est uno te dicere verbo,
sed facere ut quivis sentiat et videat.
qui possum? nemo quaerit nec scire laborat.
nos volumus; nobis dicere ne dubita.
primum igitur, virgo quod fertur tradita nobis,
falsum est. non illam vir prior attigerit,
languidior tenera cui pendens sicula beta
nunquam se mediam sustulit ad tunicam:
sed pater illius gnati violasse cubile
dicitur et miseram conscelerasse domum,
sive quod impia mens caeco flagrabat amore,
seu quod iners sterili semine natus erat
et quaerendus is unde foret nervosius illud
quod posset zonam solvere virgineam.
egregium narras mira pietate parentem,
qui ipse sui gnati minxerit in gremium.
atqui non solum hoc se dicit cognitum habere
Brixia † chinea suppositum specula,
flavus quam molli praecurrit flumine Mella,
Brixia, Veronae mater amata meae,
sed de Postumio et Corneli narrat amore,
cum quibus illa malum fecit adulterium.
dixerit hic aliquis, quid? tu istaec, Ianua, nosti,
cui nunquam domini limine abesse licet,
nec populum auscultare, sed hic suffixa tigillo
tantum operire soles aut aperire domum?
saepe illam audivi furtiva voce loquentem
solam cum ancillis haec sua flagitia,
nomine dicentem quos diximus, ut pote quae mi
speraret nec linguam esse nec auriculam.
praeterea addebat quendam, quem dicere nolo
nomine ne tollat rubra supercilia.
longus homo est, magnas cui lites intulit olim
falsum mendaci ventre puerperium.
مجھے یہ آنسوؤں سے لکھا خط بھیجتا ہے،
کہ جیسے جھاگ اُگلتے سمندر کی لہروں سے پھینکے گئے
جہاز شکستہ کو میں سنبھالوں اور موت کی دہلیز سے لوٹاؤں،
جسے نہ مقدس وینس نرم نیند میں آرام کرنے
اکیلے تنہا بستر پر چھوڑتی ہے،
نہ پرانے مصنفوں کے میٹھے گیت سے موسائیں
بہلاتی ہیں، جب پریشان دل جاگتا رہتا ہے،
یہ مجھے بھلا لگتا ہے، کہ تُو مجھے اپنا دوست کہتا ہے
اور یہاں سے موساؤں اور وینس کے تحفے مانگتا ہے۔
مگر تاکہ میری مصیبتیں تجھ سے چھپی نہ رہیں، اے مانلیوس،
اور تُو یہ نہ سمجھے کہ میں مہمان نوازی کے فرض سے نفرت کرتا ہوں،
سُن کہ میں خود قسمت کی کن لہروں میں ڈوبا ہوں،
تاکہ تُو مجھ بدنصیب سے خوشحال تحفے اور نہ مانگے۔
جس وقت پہلی بار مجھے سفید لباس سونپا گیا،
جب میری کھلتی جوانی خوشگوار بہار گزارتی تھی،
میں نے خوب کھیل کھیلا؛ وہ دیوی مجھ سے انجان نہیں
جو میٹھی محبت میں تلخی گھولتی ہے:
مگر یہ سارا شوق بھائی کی موت نے غم میں بدل دیا۔
اے مجھ بدنصیب سے چھینے گئے بھائی،
تُو نے، تُو نے مرتے ہوئے میرے سکھ توڑ دیے، بھائی،
تیرے ساتھ ہی ہمارا سارا گھر دفن ہو گیا،
تیرے ساتھ ہی ہماری ساری خوشیاں مٹ گئیں،
جنہیں زندگی میں تیری میٹھی محبت پالتی تھی۔
جس کی موت پر میں نے سارے دل سے
یہ شوق اور دل کے سب لطف بھگا دیے۔
پس، جو تُو لکھتا ہے کہ ویرونا میں کاتُلس کے لیے
شرم کی بات ہے کہ یہاں کوئی بہتر خاندان کا شخص
ٹھنڈے اعضا ویران بستر میں گرم کرتا ہے،
یہ، اے مانلیوس، شرم کی بات نہیں، زیادہ دکھ کی بات ہے۔
پس مجھے معاف کر، اگر جو کچھ غم نے مجھ سے چھینا،
وہ تحفے تجھے نہ دوں، جب دے نہیں سکتا۔
کیونکہ جو میرے پاس مصنفوں کا بڑا ذخیرہ نہیں،
یہ اِس لیے کہ ہم روم میں رہتے ہیں: وہ گھر،
وہ میری رہائش، وہیں میری عمر گزرتی ہے؛
یہاں بہت سے صندوقچوں میں سے صرف ایک میرے ساتھ آیا۔
جب ایسا ہے، تو نہ سمجھ کہ ہم بُرے دل سے
یا نامعقول جی سے یہ کرتے ہیں
کہ تیری دونوں طلب کا سامان میرے پاس تیار نہیں:
میں خود بڑھ کر دیتا، اگر کوئی سامان ہوتا۔
conscriptum hoc lacrimis mittis epistolium,
naufragum ut eiectum spumantibus aequoris undis
sublevem et a mortis limine restituam,
quem neque sancta Venus molli requiescere somno
desertum in lecto caelibe perpetitur,
nec veterum dulci scriptorum carmine musae
oblectant, cum mens anxia pervigilat,
id gratum est mihi, me quoniam tibi dicis amicum
muneraque et Musarum hinc petis et Veneris.
sed tibi ne mea sint ignota incommoda, Manli,
neu me odisse putes hospitis officium,
accipe quis merser fortunae fluctibus ipse,
ne amplius a misero dona beata petas.
tempore quo primum vestis mihi tradita pura est,
iucundum cum aetas florida ver ageret,
multa satis lusi; non est dea nescia nostri
quae dulcem curis miscet amaritiem:
sed totum hoc studium luctu fraterna mihi mors
abstulit. o misero frater adempte mihi,
tu mea tu moriens fregisti commoda, frater,
tecum una tota est nostra sepulta domus,
omnia tecum una perierunt gaudia nostra,
quae tuus in vita dulcis alebat amor.
cuius ego interitu tota de mente fugavi
haec studia atque omnes delicias animi.
quare, quod scribis Veronae turpe Catullo
esse quod hic quisquis de meliore nota
frigida deserto tepefactet membra cubili,
id, Manli, non est turpe, magis miserum est.
ignosces igitur, si, quae mihi luctus ademit,
haec tibi non tribuo munera, cum nequeo.
nam quod scriptorum non magna est copia apud me,
hoc fit quod Romae vivimus: illa domus,
illa mihi sedes, illic mea carpitur aetas;
huc una ex multis capsula me sequitur.
quod cum ita sit, nolim statuas nos mente maligna
id facere aut animo non satis ingenuo
quod tibi non utriusque petenti copia parta est:
ultro ego deferrem, copia si qua foret.
کس معاملے میں مدد دی یا کتنی خدمتوں سے مدد دی،
تاکہ گزرتی عمر بھولنے والے زمانوں میں
اُس کے اِس شوق کو اندھی رات میں نہ ڈھانپ دے:
بلکہ میں تمہیں بتاؤں گا، تم آگے ہزاروں کو
بتانا اور یہ کاغذ بوڑھا ہو کر بھی بولے
اور مُردہ ہو کر بھی وہ اور اور مشہور ہو،
اور اونچی بُنتی مکڑی باریک جالا تان کر
ویران ایلیوس کے نام پر کام نہ کرے۔
کیونکہ دوہری اماتھوسیا نے مجھے کتنی پریشانی دی
تم جانتی ہو، اور کس طرح مجھے گرا دیا،
جب میں اِتنا جلتا تھا جتنا سِسلی کی چٹان
اور اویتائی تھرموپیلائی میں مالیا کا چشمہ،
اور دکھی آنکھیں مسلسل رونے سے نہ سوکھتیں
اور رخسار تلخ بارش سے تر رہتے،
جیسے فضائی پہاڑ کی چوٹی پر چمکتا
چشمہ کائی زدہ پتھر سے پھوٹتا ہے،
جو، جب ڈھلوان وادی سے سر کے بل لڑھکتا ہے،
گھنے لوگوں کے بیچ راستہ کاٹتا ہے،
تھکے مسافر کو پسینے میں میٹھا سہارا دیتا
جب سخت گرمی جھلستے کھیتوں کو چیرتی ہے۔
یہاں، جیسے کالے بگولے میں جھنجھوڑے ملاحوں کو
نرم پھونکتی موافق ہوا آتی ہے
اب پولوکس کی مِنّت سے، اب کاستور کی پکار سے،
ایسی ہی مدد ہمیں ایلیوس سے ملی۔
اُس نے بند میدان کو چوڑے راستے سے کھول دیا،
اور اُس نے ہمیں گھر دیا اور مالکہ دی،
جہاں ہم مشترکہ محبتیں نبھاتے۔
جہاں میری سفید دیوی نرم پاؤں سے
داخل ہوئی اور رگڑی دہلیز پر دمکتا تلوا
چرچراتی جوتی پر ٹکا کر کھڑی ہوئی،
جیسے کبھی شوہر کی محبت میں جلتی آئی تھی
لاؤداميا پروتیسیلاؤس کے گھر
جو بےکار شروع کیا گیا، جب تک مقدس خون سے
قربانی نے آسمانی مالکوں کو راضی نہ کیا تھا۔
مجھے کچھ اِتنا نہ بھائے، اے رامنوسیائی کنواری،
جو بےسوچے مالکوں کی مرضی کے خلاف اٹھایا جائے۔
بھوکی قربان گاہ کیسے پاکیزہ خون کو ترستی ہے
یہ لاؤداميا نے شوہر کھو کر جانا،
نئے شوہر کی گردن چھوڑنے پر مجبور ہوتی
اِس سے پہلے کہ ایک اور پھر دوسری سردی آتی
لمبی راتوں میں اُس کی مشتاق محبت کو سیر کرتی،
تاکہ ٹوٹے نکاح کے باوجود جینا ممکن ہوتا:
جسے پارکائیں جانتی تھیں کہ زیادہ دور نہیں،
اگر سپاہی ٹرائے کی دیواروں کو جاتا:
کیونکہ تب ہیلن کی لوٹ سے آرگوسیوں کے سردار
ٹرائے نے اپنی طرف ابھارنا شروع کیا تھا،
ٹرائے (کیا حرام) ایشیا اور یورپ کی مشترکہ قبر،
ٹرائے مردوں اور ساری مردانگیوں کی تلخ راکھ:
جس نے ہمارے بھائی کو بھی دکھ بھری موت دی۔
ہائے مجھ بدنصیب سے چھینے بھائی،
ہائے مجھ بدنصیب سے چھینی گئی خوشگوار روشنی،
تیرے ساتھ ہی ہمارا سارا گھر دفن ہو گیا،
تیرے ساتھ ہی ہماری ساری خوشیاں مٹ گئیں،
جنہیں زندگی میں تیری میٹھی محبت پالتی تھی۔
جسے اب اِتنی دور، جانی پہچانی قبروں کے بیچ نہیں،
نہ رشتہ داروں کی راکھ کے پاس رکھا،
بلکہ گندی ٹرائے، بدنصیب ٹرائے میں دفن
بیگانی زمین دور کے کنارے پر تھامے ہے۔
جہاں تب جلدی کرتی جوانی ہر طرف سے، کہتے ہیں،
یونانی اپنے اندرونی چولہے چھوڑ آئی،
تاکہ پارس لوٹی ہوئی بدکار سے خوش ہو کر
پُرسکون حجلے میں آزاد فرصت نہ گزارے۔
اُس حادثے میں تجھ سے، اے حسین ترین لاؤداميا،
زندگی اور جان سے میٹھا نکاح
چھین لیا گیا: اِتنی محبت کے بھنور میں تجھے نگلتا
جوش گہری کھائی میں لے گیا،
جیسے یونانی کہتے ہیں کہ کِلینیائی فینیوس کے پاس
دلدل نچوڑ کر زرخیز زمین سکھائی جاتی ہے،
جسے کبھی پہاڑ کی مغز کاٹ کر کھودا تھا،
یوں سنتے ہیں جھوٹے باپ والے ایمفتریون کے بیٹے نے،
اُس وقت جب یقینی تیر سے اُس نے سٹمفالیائی درندے
کم تر مالک کے حکم پر مارے،
تاکہ آسمان کا دروازہ زیادہ دیوتاؤں سے رگڑا جائے،
اور ہیبے لمبی کنوارپن میں نہ رہے۔
مگر تیری گہری محبت اُس کھائی سے بھی گہری تھی،
جس نے تجھے بےقابو کو جُوا اٹھانا سکھایا۔
کیونکہ نہ عمر رسیدہ باپ کو دیر سے جنی بیٹی کا
اکیلا سر، جو پوتے کو پالتا، اِتنا عزیز ہے،
جو، جب مشکل سے دادا کی دولت کا وارث ملتا
اور گواہی شدہ گولیوں میں نام درج کرتا ہے،
ناپاک رشتہ دار کی مذاق اڑاتی خوشیاں مٹا کر
سفید سر سے گدھ کو بھگا دیتا ہے:
نہ کوئی مادہ کبوتری اپنے برف جیسے کبوتر سے
اِتنی خوش ہوئی، جو کہتے ہیں کہ کہیں زیادہ بےباکی سے
کاٹتی چونچ سے ہمیشہ بوسے چنتی ہے
اُس عورت سے بھی زیادہ جو خاص طور پر بہت خواہش مند ہے:
مگر تُو نے اکیلے اِن سب کے بڑے جنون کو مات دی،
جیسے ہی تُو سنہرے شوہر سے ملی۔
جس سے کچھ بھی یا تھوڑا کم دبنے کے لائق
میری روشنی خود کو ہماری گود میں لے آئی،
جس کے گرد اِدھر اُدھر بھاگتا کیوپڈ اکثر
زرد کُرتے میں سفید دمکتا تھا۔
جو اگرچہ اکیلے کاتُلس سے مطمئن نہیں،
شرمیلی مالکہ کی نایاب خطائیں ہم برداشت کریں گے،
تاکہ ہم بےوقوفوں کی طرح حد سے زیادہ تنگ نہ کریں:
اکثر جونو بھی، آسمانیوں کی سب سے بڑی،
شوہر کے قصور پر جلتا غصہ پی جاتی ہے
سب کچھ چاہنے والے جیوو کی بہت سی خطائیں جان کر۔
مگر انسانوں کا دیوتاؤں سے موازنہ درست نہیں
لرزتے باپ کا ناخوشگوار بوجھ ہٹا دے۔
پھر بھی وہ مجھے باپ کے داہنے ہاتھ سے پہنچائی
اسوری خوشبو سے مہکتے گھر نہ آئی،
بلکہ عجب رات میں چوری چھپے ننھے تحفے دیے
خود اُس کے شوہر کی گود سے چھین کر۔
پس یہ کافی ہے، اگر مجھے اکیلے وہ دن دیا جائے
جسے وہ سفید تر پتھر سے نشان لگاتی ہے۔
یہ تحفہ جو میں گیت میں مکمل کر سکا
تیری بہت سی خدمتوں کے بدلے، اے ایلیوس، لوٹاتا ہوں،
تاکہ تمہارا نام کھردرے زنگ سے
یہ دن، وہ دن اور اور دن نہ چھو لیں۔
اِس میں دیوتا بہت سے تحفے شامل کریں، جو تھیمِس نے کبھی
پرانے زمانوں میں پارساؤں کو دینے کی عادت رکھی:
تم خوش رہو، تُو بھی اور تیری زندگی بھی
اور وہ گھر، جس میں ہم اور مالکہ کھیلے،
اور جس نے شروع میں ہمیں زمین دی اور واپس لی،
جس سے پہلے سب نیک چیزیں جنمیں،
اور سب سے بڑھ کر وہ جو مجھے خود سے پیاری ہے،
میری روشنی، جس کے جیتے جینا مجھے میٹھا ہے۔
iuverit aut quantis iuverit officiis,
ne fugiens saeclis obliviscentibus aetas
illius hoc caeca nocte tegat studium:
sed dicam vobis, vos porro dicite multis
milibus et facite haec charta loquatur anus
notescatque magis mortuus atque magis,
nec tenuem texens sublimis aranea telam
in deserto Alli nomine opus faciat.
nam mihi quam dederit duplex Amathusia curam
scitis, et in quo me corruerit genere,
cum tantum arderem quantum Trinacria rupes
lymphaque in Oetaeis Malia Thermopylis,
maesta neque adsiduo tabescere lumina fletu
cessarent tristique imbre madere genae,
qualis in aerii perlucens vertice montis
rivus muscoso prosilit e lapide,
qui, cum de prone praeceps est valle volutus,
per medium densi transit iter populi,
dulce viatori lasso in sudore levamen
cum gravis exustos aestus hiulcat agros.
hic, velut in nigro iactatis turbine nautis
lenius adspirans aura secunda venit
iam prece Pollucis, iam Castoris implorata,
tale fuit nobis Allius auxilium.
is clausum lato patefecit limite campum,
isque domum nobis isque dedit dominae,
ad quam communes exerceremus amores.
quo mea se molli candida diva pede
intulit et trito fulgentem in limine plantam
innixa arguta constituit solea,
coniugis ut quondam flagrans advenit amore
Protesilaeam Laodamia domum
inceptam frustra, nondum cum sanguine sacro
hostia caelestis pacificasset eros.
nil mihi tam valde placeat, Rhamnusia virgo,
quod temere invitis suscipiatur eris.
quam ieiuna pium desideret ara cruorem
docta est amisso Laodamia viro,
coniugis ante coacta novi dimittere collum
quam veniens una atque altera rursus hiems
noctibus in longis avidum saturasset amorem,
posset ut abrupto vivere coniugio:
quod scibant Parcae non longo tempore abesse,
si miles muros isset ad Iliacos:
nam tum Helenae raptu primores Argivorum
coeperat ad sese Troia ciere viros,
Troia (nefas) commune sepulcrum Asiae Europaeque,
Troia virum et virtutum omnium acerba cinis:
quaene etiam nostro letum miserabile fratri
attulit. Hei misero frater adempte mihi,
hei misero fratri iucundum lumen ademptum,
tecum una tota est nostra sepulta domus,
omnia tecum una perierunt gaudia nostra,
quae tuus in vita dulcis alebat amor.
quem nunc tam longe non inter nota sepulcra
nec prope cognatos compositum cineres,
sed Troia obscena, Troia infelice sepultum
detinet extremo terra aliena solo.
ad quam tum properans fertur simul undique pubes
Graeca penetralis deseruisse focos,
ne Paris abducta gavisus libera moecha
otia pacato degeret in thalamo.
quo tibi tum casu, pulcherrima Laodamia,
ereptum est vita dulcius atque anima
coniugium: tanto te absorbens vertice amoris
aestus in abruptum detulerat barathrum,
quale ferunt Grai Pheneum prope Cylleneum
siccare emulsa pingue palude solum,
quod quondam caesis montis fodisse medullis
audit falsiparens Amphitryoniades,
tempore quo certa Stymphalia monstra sagitta
perculit imperio deterioris eri,
pluribus ut caeli tereretur ianua divis,
Hebe nec longa virginitate foret.
sed tuus altus amor barathro fuit altior illo,
qui tunc indomitam ferre iugum docuit.
nam nec tam carum confecto aetate parenti
una caput seri nata nepotis alit,
qui, cum divitiis vix tandem inventus avitis
nomen testatas intulit in tabulas,
impia derisi gentilis gaudia tollens
suscitat a cano vulturium capiti:
nec tantum niveo gavisa est ulla columbo
compar, quae multo dicitur improbius
oscula mordenti semper decerpere rostro
quam quae praecipue multivola est mulier:
sed tu horum magnos vicisti sola furores,
ut semel es flavo conciliata viro.
aut nihil aut paulo cui tum concedere digna
lux mea se nostrum contulit in gremium,
quam circumcursans hinc illinc saepe Cupido
fulgebat crocina candidus in tunica.
quae tamenetsi uno non est contenta Catullo,
rara verecundae furta feremus erae,
ne nimium simus stultorum more molesti:
saepe etiam Iuno, maxima caelicolum,
coniugis in culpa flagrantem concoquit iram
noscens omnivoli plurima furta Iovis.
atqui nec divis homines componier aequum est
ingratum tremuli tolle parentis onus.
nec tamen illa mihi dextra deducta paterna
fragrantem Assyrio venit odore domum,
sed furtiva dedit mira munuscula nocte
ipsius ex ipso dempta viri gremio.
quare illud satis est, si nobis is datur unis
quem lapide illa diem candidiore notat.
hoc tibi quod potui confectum carmine munus
pro multis, Alli, redditur officiis,
ne vestrum scabra tangat robigine nomen
haec atque illa dies atque alia atque alia.
huc addent divi quam plurima, quae Themis olim
antiquis solita est munera ferre piis:
sitis felices et tu simul et tua vita
et domus, in qua nos lusimus et domina,
et qui principio nobis † terram dedit aufert,
a quo sunt primo omnia nata bona,
et longe ante omnes mihi quae me carior ipso est,
lux mea, qua viva vivere dulce mihi est.
اے رُوفوس، اپنی نازک ران دینے کو تیار نہیں،
چاہے تُو اُسے نایاب لباس کے تحفے سے پھسلائے
یا شفاف قیمتی پتھر کے لطف سے۔
تجھے ایک بُری کہانی نقصان دیتی ہے، جس میں کہا جاتا ہے
کہ تیری بغل کی وادی میں وحشی بکرا بستا ہے۔
اِس سے سب ڈرتے ہیں۔ کوئی حیرت نہیں: کیونکہ بہت بُرا
جانور ہے، اور کوئی پیاری لڑکی اِس کے ساتھ نہ لیٹے۔
پس یا اِس ناک کی ظالم آفت کو مار ڈال،
یا حیرت کرنا چھوڑ دے کہ وہ کیوں بھاگتی ہیں۔
Rufe, velit tenerum supposuisse femur,
non si illam rarae labefactes munere vestis
aut perluciduli deliciis lapidis.
laedit te quaedam mala fabula, qua tibi fertur
valle sub alarum trux habitare caper.
hunc metuunt omnes. neque mirum: nam mala valde est
bestia, nec quicum bella puella cubet.
quare aut crudelem nasorum interfice pestem,
aut admirari desine cur fugiunt.
سوائے میرے، چاہے خود جیوپیٹر ہی اُسے مانگے۔
کہتی ہے: مگر عورت مشتاق عاشق سے جو کہتی ہے
اُسے ہوا میں اور تیز پانی پر لکھنا چاہیے۔
quam mihi, non si se Iuppiter ipse petat.
dicit: sed mulier cupido quod dicit amanti
in vento et rapida scribere oportet aqua.
یا کسی کو ٹھیک ہی سست گٹھیا کاٹے،
تیرا وہ حریف، جو تیری محبت میں دخل دیتا ہے،
حیرت انگیز طور پر تجھ سے دونوں مصیبتیں پا بیٹھا۔
کیونکہ جتنی بار وہ جماع کرتا ہے اُتنی بار دونوں سے بدلہ لیتا ہے:
اُسے بو سے مارتا ہے، خود گٹھیا سے مرتا ہے۔
aut si quem merito tarda podagra secat,
Aemulus iste tuus, qui vestrum exercet amorem,
mirifice est a te nactus utrumque malum.
nam quotiens futuit totiens ulciscitur ambos:
illam adfligit odore, ipse perit podagra.
لیزبیا، اور مجھ سے بڑھ کر جیوو کو بھی تھامنا نہیں چاہتی۔
تب میں نے تجھے صرف اُس طرح نہ چاہا جیسے عام لوگ محبوبہ کو،
بلکہ جیسے باپ بیٹوں اور دامادوں کو چاہتا ہے۔
اب میں نے تجھے جان لیا: پس اگرچہ اور شدت سے جلتا ہوں،
پھر بھی تُو میرے لیے کہیں زیادہ سستی اور ہلکی ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے؟ تُو پوچھتی ہے۔ کیونکہ ایسی بےوفائی عاشق کو
زیادہ چاہنے پر مجبور کرتی ہے، مگر بھلا چاہنے میں کم۔
Lesbia, nec prae me velle tenere Iovem.
dilexi tum te non tantum ut vulgus amicam,
sed pater ut gnatos diligit et generos.
nunc te cognovi: quare etsi impensius uror,
multo mi tamen es vilior et levior.
qui potis est? inquis. quod amantem iniuria talis
cogit amare magis, sed bene velle minus.
یا یہ سمجھنا کہ کوئی وفادار ہو سکتا ہے۔
سب ناشکرے ہیں، مہربانی کرنا بےسود:
بلکہ اُلٹا تھکا دیتا ہے، تھکاتا اور نقصان دیتا ہے:
جیسے مجھے، جسے کوئی اِس سے زیادہ بھاری اور تلخ نہیں ستاتا
جتنا وہ جو ابھی مجھے اکیلا اور واحد دوست سمجھتا تھا۔
aut aliquem fieri posse putare pium.
omnia sunt ingrata, nihil fecisse benigne:
immo etiam taedet, taedet obestque magis:
ut mihi, quem nemo gravius nec acerbius urget
Quam modo qui me unum atque unicum amicum habuit.
اگر کوئی عیش کی بات کہے یا کرے۔
تاکہ یہ اُس پر نہ گزرے، اُس نے چچا کی بیوی کو
خوب مسل ڈالا اور چچا کو ہارپوکراتیس بنا دیا۔
جو چاہا کر گزرا: کیونکہ چاہے وہ اب چچا کے منہ میں
لُنڈ دے، چچا ایک لفظ نہ کہے گا۔
si quis delicias diceret aut faceret.
hoc ne ipsi accideret, patrui perdepsuit ipsam
uxorem et patruum reddidit Harpocratem.
quod voluit fecit: nam, quamvis irrumet ipsum
nunc patruum, verbum non faciet patruus.
اور یوں اپنے ہی فرض سے خود کو برباد کر بیٹھا،
کہ اب نہ تیرا بھلا چاہ سکتا ہے، چاہے تُو بہترین ہو جائے،
نہ چاہنا چھوڑ سکتا ہے، چاہے تُو سب کچھ کر گزرے۔
atque ita se officio perdidit ipsa suo,
ut iam nec bene velle queat tibi, si optuma fias,
nec desistere amare, omnia si facias.
انسان کو ملتا ہے، جب وہ خود کو پارسا سمجھتا ہے،
اور یہ کہ نہ اُس نے مقدس وفا توڑی، نہ کسی عہد میں
دیوتاؤں کی طاقت کا انسانوں کو دھوکا دینے میں غلط استعمال کیا،
تو لمبی عمر میں تیرے لیے بہت سی خوشیاں تیار رہتی ہیں، کاتُلس،
اِس ناشکری محبت سے۔
کیونکہ جو کچھ انسان کسی سے بھلا کہہ سکتے ہیں
یا کر سکتے ہیں، وہ تُو نے کہا اور کیا:
جو سب ایک ناشکرے دل کے سپرد ہو کر مٹ گیا۔
پس تُو اب اپنے آپ کو اور کیوں تڑپائے؟
کیوں نہ دل کو سخت کر لے اور وہاں سے خود کو کھینچ لے
اور دیوتاؤں کی مرضی کے خلاف دکھی رہنا چھوڑ دے؟
پرانی محبت کو اچانک چھوڑنا مشکل ہے؛
مشکل ہے، مگر یہ کر گزر جیسے بھی ہو۔
یہی واحد نجات ہے، یہی تجھے کر دکھانا ہے؛
یہ کر، چاہے یہ ممکن نہ ہو یا ممکن ہو۔
اے دیوتاؤ، اگر تم میں رحم کرنا ہے، یا اگر تم نے کبھی
عین موت میں کسی کو آخری مدد دی ہے،
مجھ بدنصیب کو دیکھو اور، اگر میں نے زندگی پاک گزاری،
یہ آفت اور تباہی مجھ سے چھین لو!
ہائے کیسے سُن بن کر میرے اعضا کی گہرائی میں رِستا
میرے سارے سینے سے خوشیاں نکال لے گیا۔
اب میں یہ نہیں مانگتا کہ بدلے میں وہ مجھے چاہے،
یا، جو ممکن نہیں، پاکدامن بننا چاہے:
میں خود بھلا چنگا ہونا اور یہ گندی بیماری اتار پھینکنا چاہتا ہوں۔
اے دیوتاؤ، میری پارسائی کے عوض مجھے یہ دو۔
est homini, cum se cogitat esse pium,
nec sanctam violasse fidem, nec foedere in ullo
divum ad fallendos numine abusum homines,
multa parata manent in longa aetate, Catulle,
ex hoc ingrato gaudia amore tibi.
nam quaecumque homines bene cuiquam aut dicere possunt
aut facere, haec a te dictaque factaque sunt:
omnia quae ingratae perierunt credita menti.
quare cur tu te iam amplius excrucies?
quin tu animo offirmas atque istinc teque reducis
et dis invitis desinis esse miser?
difficile est longum subito deponere amorem;
difficile est, verum hoc qua libet efficias.
una salus haec est, hoc est tibi pervincendum;
hoc facias, sive id non pote sive pote.
o di, si vestrum est misereri, aut si quibus unquam
extremam iam ipsa in morte tulistis opem,
me miserum adspicite et, si vitam puriter egi,
eripite hanc pestem perniciemque mihi!
hei mihi subrepens imos ut torpor in artus
expulit ex omni pectore laetitias.
non iam illud quaero, contra ut me diligat illa,
aut, quod non potis est, esse pudica velit:
ipse valere opto et taetrum hunc deponere morbum.
o di, reddite mi hoc pro pietate mea.
(بےسود؟ نہیں، بڑی قیمت اور بُرائی کے ساتھ)،
یوں تُو مجھ میں گھس آیا اور آنتیں جلاتا
ہائے، مجھ بدنصیب سے ہمارا سارا بھلا چھین لے گیا؟
چھین لیا، افسوس، ہماری زندگی کا ظالم زہر،
افسوس، ہماری دوستی کی آفت۔
(frustra? immo magno cum pretio atque malo),
sicine subrepsti mi atque intestina perurens
hei misero eripuisti omnia nostra bona?
eripuisti, eheu nostrae crudele venenum
vitae, eheu nostrae pestis amicitiae.
سب سے دلکش، دوسرے کا بیٹا دلکش۔
گیلوس خوش مزاج آدمی ہے: کیونکہ میٹھی محبتیں جوڑتا ہے،
کہ خوبصورت لڑکا خوبصورت لڑکی کے ساتھ لیٹے۔
گیلوس بےوقوف آدمی ہے اور نہیں دیکھتا کہ خود شوہر ہے،
جو چچا ہو کر چچا کو زنا سکھاتا ہے۔
مگر اب مجھے اِس کا دکھ ہے کہ پاک لڑکی کے پاک ہونٹ
تیری غلیظ رال نے آلودہ کر دیے۔
مگر یہ تُو بغیر سزا نہ پائے گا: کیونکہ سب زمانے تجھے
جانیں گے اور بوڑھی شہرت بتائے گی کہ تُو کون ہے۔
alterius, lepidus filius alterius.
Gallus homo est bellus: nam dulces iungit amores,
cum puero ut bello bella puella cubet.
Gallus homo est stultus nec se videt esse maritum,
qui patruus patrui monstret adulterium.
Sed nunc id doleo quod purae pura puellae
savia comminxit spurca saliva tua.
verum id non impune feres: nam te omnia saecla
noscent et qui sis fama loquetur anus.
اِبیریائی برف سے سفید تر ہو جاتے ہیں،
جب تُو صبح گھر سے نکلتا ہے اور جب لمبے دن میں
آٹھویں گھڑی نرم آرام سے تجھے جگاتی ہے؟
کچھ نہ کچھ ضرور ہے: کیا واقعی شہرت سرگوشی کرتی ہے
کہ تُو مرد کے بیچ کی تنی چیز نگلتا ہے؟
یقیناً ایسا ہی ہے: بےچارے وِکٹور کی پھٹی کوکھیں
چیخ رہی ہیں، اور نچوڑے مادے سے نشان زدہ تیرے ہونٹ۔
Hiberna fiant candidiora nive,
mane domo cum exis et cum te octava quiete
e molli longo suscitat hora die?
nescio quid certe est: an vere fama susurrat
grandia te medii tenta vorare viri?
sic certe est: clamant Victoris rupta miselli
ilia, et emulso labra notata sero.
یا کوئی اور چیز جو آنکھوں سے زیادہ پیاری ہے،
تو اُس سے وہ نہ چھین جو اُسے آنکھوں سے کہیں زیادہ
پیاری ہے یا جو کچھ بھی آنکھوں سے پیارا ہے۔
aut aliud si quid carius est oculis,
eripere ei noli multo quod carius illi
est oculis seu quid carius est oculis.
یہ اُس بےوقوف کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔
اے خچر، تُو کچھ نہیں سمجھتا۔ اگر وہ مجھے بھول کر چپ رہتی،
تو ٹھیک ہوتی: اب جو وہ بھونکتی اور طعنے دیتی ہے،
نہ صرف یاد رکھتی ہے، بلکہ، جو کہیں سنگین بات ہے،
غصے میں ہے: یعنی جلتی ہے اور بولتی ہے۔
haec illi fatuo maxima laetitia est.
mule, nihil sentis. si nostri oblita taceret,
sana esset: nunc quod gannit et obloquitur,
non solum meminit, sed, quae multo acrior est res,
irata est: hoc est, uritur et loquitur.
اور "اِنسِدیاس" کو آریوس "ہِنسِدیاس"،
اور تب حیرت انگیز طور پر اُمید کرتا کہ خوب بولا
جب جتنا زور سے کہہ سکتا "ہِنسِدیاس" کہہ چکتا۔
میرا خیال ہے، یوں اُس کی ماں، یوں آزاد ماموں،
یوں نانا نے کہا تھا اور نانی نے۔
اِسے شام بھیجنے پر سب کے کان آرام پا گئے:
یہی الفاظ نرمی اور ہلکے پن سے سُنتے تھے،
اور آگے ایسے لفظوں سے نہ ڈرتے تھے،
جب اچانک خوفناک خبر آتی ہے
کہ آیونی لہریں، جب آریوس وہاں گیا،
اب آیونی نہیں رہیں، بلکہ "ہیونی" ہو گئیں۔
dicere, et insidias Arrius hinsidias,
et tum mirifice sperabat se esse locutum
cum quantum poterat dixerat hinsidias.
credo, sic mater, sic liber avunculus eius,
sic maternus avus dixerat atque avia
hoc misso in Syriam requierant omnibus aures:
audibant eadem haec leniter et leviter,
nec sibi postilla metuebant talia verba,
cum subito adfertur nuntius horribilis
Ionios fluctus, postquam illuc Arrius isset,
iam non Ionios esse, sed Hionios.
میں نہیں جانتا، مگر ہوتا محسوس کرتا ہوں اور تڑپتا ہوں۔
nescio, sed fieri sentio et excrucior.
سچ مچ، جتنا میری لیزبیا مجھ سے چاہی گئی۔
کسی عہد میں کبھی اِتنی وفا نہ رہی
جتنی تیری محبت میں میری طرف سے پائی گئی۔
vere, quantum a me Lesbia amata mea es
nulla fides ullo fuit unquam in foedere tanta
quanta in amore tuo ex parte reperta mea est.
شہوت میں کُرتے اُتار کر جاگتا رہتا ہے؟
وہ کیا کرتا ہے جو چچا کو شوہر رہنے نہیں دیتا؟
تجھے کچھ خبر ہے کتنا گناہ اٹھاتا ہے؟
اٹھاتا ہے، اے گیلیوس، اِتنا جتنا نہ آخری تیتھِس
نہ پریوں کا باپ اوقیانوس دھو سکے:
کیونکہ اِس سے آگے کوئی گناہ باقی نہیں جہاں تک جائے،
چاہے سر جھکا کر خود کو نگل لے۔
prurit et abiectis pervigilat tunicis?
quid facit is patruum qui non sinit esse maritum?
ecquid scis quantum suscipiat sceleris?
suscipit, o Gelli, quantum non ultima Tethys
nec genitor nympharum abluit Oceanus:
nam nihil est quicquam sceleris quo prodeat ultra,
non si demisso se ipse voret capite.
اور اِتنی توانا، اِتنی دلکش بہن زندہ ہو
اور اِتنا اچھا چچا اور اِتنی رشتہ دار لڑکیوں سے
بھرا پُرا سب کچھ ہو، وہ دبلا رہنا کیوں چھوڑے؟
جو چاہے کچھ نہ چھوئے سوائے اُس کے جسے چھونا حرام ہے،
تُو جتنا چاہے سبب پائے گا کہ وہ کیوں دبلا ہے۔
tamque valens vivat tamque venusta soror
tamque bonus patruus tamque omnia plena puellis
cognatis, quare is desinat esse macer?
qui ut nihil attingat, nisi quod fas tangere non est,
quantumvis quare sit macer invenies.
اِس دکھی، اِس تباہ محبت میں وفادار رہے گا
کہ میں تجھے اچھی طرح جانتا یا ثابت قدم سمجھتا تھا
یا سمجھتا کہ تُو دل کو گندے عیب سے روک سکتا ہے،
بلکہ اِس لیے کہ میں دیکھتا تھا کہ وہ نہ تیری ماں ہے نہ بہن
جس کی بڑی محبت مجھے کھا رہی تھی؛
اور اگرچہ میں تجھ سے بہت میل جول رکھتا تھا،
میں نے یہ کافی سبب نہ سمجھا تھا کہ تُو ایسا کرے۔
تُو نے اِسے کافی جانا: تجھے اِتنی خوشی ہر
قصور میں ہے جس میں کچھ گناہ ہو۔
in misero hoc nostro, hoc perdito amore fore
quod te cognossem bene constantemve putarem
aut posse a turpi mentem inhibere probro,
sed neque quod matrem nec germanam esse videbam
hanc tibi cuius me magnus edebat amor;
et quamvis tecum multo coniungerer usu,
non satis id causae credideram esse tibi.
tu satis id duxti: tantum tibi gaudium in omni
culpa est in quacumque est aliquid sceleris.
میرے بارے چپ نہیں رہتی: لیزبیا مجھے مار ڈالے اگر مجھ سے محبت نہ کرتی ہو۔
کس نشانی سے؟ کیونکہ میرے ساتھ بھی یہی ہے: میں اُسے
لگاتار کوستا ہوں، مگر مار ڈالوں اگر محبت نہ کرتا ہوں۔
de me: Lesbia me dispeream nisi amat.
quo signo? quia sunt totidem mea: deprecor illam
adsidue, verum dispeream nisi amo.
نہ یہ جاننے کا کہ تُو سفید ہے یا کالا آدمی۔
nec scire utrum sis albus an ater homo.
یہی تو ہے جو کہتے ہیں: ہانڈی خود اپنا ساگ چنتی ہے۔
hoc est quod dicunt, ipsa olera olla legit.
جب شروع ہوئی اور نویں سردی کے بعد چھپی،
جب کہ اِس دوران ہورتینسیوس نے ایک ہی میں پانچ لاکھ سطریں—
زمِرنا سترخوس کی گہری لہروں تک بھیجی جائے گی،
زمِرنا کو سفید صدیاں دیر تک اُلٹتی پلٹتی رہیں گی۔
مگر وولوسیوس کی سالانہ تاریخیں خود پادوا میں مریں گی
اور اکثر میکریلوں کو ڈھیلے کُرتے دیں گی۔
میرے ساتھی کی چھوٹی یادگاریں مجھے عزیز ہوں:
اور عوام پھولے ہوئے آنتیماخوس پر خوش رہیں۔
quam coepta est nonamque edita post hiemem,
milia cum interea quingenta Hortensius uno
Zmyrna cavas Satrachi penitus mittetur ad undas,
Zmyrnam cana diu saecula pervolvent.
at Volusi annales Paduam morientur ad ipsam
et laxas scombris saepe dabunt tunicas.
parva mei mihi sint cordi monumenta sodalis:
at populus tumido gaudeat Antimacho.
بھلی، خوش آئند چیز پہنچ سکتی ہے، کالوس،
جس ترستی چاہت سے ہم پرانی محبتیں تازہ کرتے ہیں
اور کبھی کھوئی دوستیوں پر روتے ہیں،
تو یقیناً بےوقت موت پر کوئِنتیلیا کو اِتنا دکھ نہیں
جتنی وہ تیری محبت پر خوش ہوتی ہے۔
accidere a nostro, Calve, dolore potest,
quo desiderio veteres renovamus amores
atque olim missas flemus amicitias,
certe non tanto mors immatura dolori est
Quintiliae, quantum gaudet amore tuo.
کہ میں آئیمیلیوس کا منہ سونگھوں یا چوتڑ۔
یہ کچھ صاف نہیں، اور وہ کچھ کم گندا نہیں،
بلکہ چوتڑ زیادہ صاف اور بہتر ہے:
کیونکہ اُس کے دانت نہیں۔ اِس کے ڈیڑھ فٹ دانت،
اور مسوڑھے سچ مچ پرانی گاڑی کے ڈھانچے جیسے،
اِس کے علاوہ ایسا کھلا منہ جیسا گرمی میں چِرا
پیشاب کرتی خچری کی شرم گاہ رکھتی ہے۔
یہ بہتوں سے جماع کرتا ہے اور خود کو دلکش سمجھتا ہے،
اور چکّی اور گدھے کے حوالے نہیں کیا جاتا؟
جو عورت اِسے چھوئے، کیا ہم نہ سمجھیں کہ وہ
بیمار جلاد کا چوتڑ چاٹ سکتی ہے؟
utrumne os an culum olfacerem Aemilio.
nilo mundius hoc, nihiloque immundius illud,
verum etiam culus mundior et melior:
nam sine dentibus est. hoc dentis sesquipedalis,
gingivas vero ploxeni habet veteris,
praeterea rictum qualem diffissus in aestu
meientis mulae cunnus habere solet.
hic futuit multas et se facit esse venustum,
et non pistrino traditur atque asino?
quem si qua attingit, non illam posse putemus
aegroti culum lingere carnificis?
وہ جو باتونیوں اور بےوقوفوں سے کہا جاتا ہے:
اُس زبان سے، اگر تجھے ضرورت پڑے، تُو
چوتڑ اور چمڑے کی جوتیاں چاٹ سکتا ہے۔
اگر تُو ہم سب کو بالکل ہلاک کرنا چاہتا ہے، وِکتیوس،
منہ کھول: بالکل جو چاہتا ہے کر دکھائے گا۔
id quod verbosis dicitur et fatuis:
ista cum lingua, si usus veniat tibi, possis
culos et crepidas lingere carpatinas.
si nos omnino vis omnes perdere, Victi,
hiscas: omnino quod cupis efficies.
میٹھی امرت سے بھی میٹھا ننھا بوسہ۔
مگر یہ میں نے بغیر سزا نہ سہا: کیونکہ ایک گھنٹے سے زیادہ
مجھے یاد ہے میں صلیب کی چوٹی پر ٹنگا رہا،
جب تک میں خود کو صاف کرتا رہا اور کسی آنسو سے
تیری ذرا سی سختی نہ گھٹا سکا۔
کیونکہ جیسے ہی یہ ہوا، تُو نے بہت سے قطروں سے دھو کر
اپنے ہونٹ ساری انگلیوں سے پونچھے،
تاکہ ہمارے منہ سے چُھوا کچھ باقی نہ رہے،
جیسے گندی کنجری کی غلیظ رال ہو۔
اِس کے علاوہ تُو نے مجھ بدنصیب کو دشمن محبت کے سپرد کرنے
اور ہر طرح تڑپانے سے باز نہ آیا،
یوں کہ میرے لیے وہ ننھا بوسہ امرت سے بدل کر
تلخ ہیلیبور سے بھی تلخ ہو گیا۔
چونکہ تُو مجھ بدنصیب محبت کو ایسی سزا سناتا ہے،
اب اِس کے بعد کبھی بوسے نہ چراؤں گا۔
saviolum dulci dulcius ambrosia.
verum id non impune tuli: namque amplius horam
suffixum in summa me memini esse cruce,
dum tibi me purgo nec possum fletibus ullis
tantillum vestrae demere saevitiae.
nam simul id factum est, multis diluta labella
guttis abstersisti omnibus articulis,
ne quicquam nostro contractum ex ore maneret,
tanquam commictae spurca saliva lupae.
praeterea infesto miserum me tradere Amori
non cessasti omnique excruciare modo,
ut mi ex ambrosia mutatum iam fores illud
saviolum tristi tristius elleboro.
quam quoniam poenam misero proponis amori,
nunquam iam posthac basia subripiam.
ویرونا کے جوانوں کے پھول مر مٹتے ہیں،
یہ بھائی پر، وہ بہن پر۔ یہی تو ہے جسے کہتے ہیں
سچ مچ میٹھی برادرانہ رفاقت۔
میں کس کی طرف داری کروں؟ کائیلیوس، تیری: کیونکہ تیری
دوستی نے ہمارے لیے یکتا ثبوت دیا
جب دیوانہ شعلہ میری مغز کو جھلساتا تھا۔
خوش رہ، کائیلیوس، محبت میں کامیاب رہ۔
flos Veronensum depereunt iuvenum,
hic fratrem, ille sororem. hoc est quod dicitur illud
fraternum vere dulce sodalicium.
cui faveam potius? Caeli, tibi: nam tua nobis
per facta exhibita est unica amicitia
cum vesana meas torreret flamma medullas.
sis felix, Caeli, sis in amore potens.
میں آتا ہوں، بھائی، اِن دکھی مرگ رسموں کو،
تاکہ تجھے موت کا آخری تحفہ دوں
اور بےسود گونگی راکھ سے بات کروں،
چونکہ قسمت نے خود تجھے مجھ سے چھین لیا،
ہائے بدنصیب بھائی، ناحق مجھ سے چھینے گئے۔
پھر بھی اب یہ، جو باپ دادا کی پرانی رسم سے
دکھی تحفے کے طور پر مرگ رسموں کو دیے جاتے ہیں،
قبول کر، برادرانہ آنسوؤں سے خوب بھیگے،
اور ہمیشہ کے لیے، بھائی، سلام اور الوداع۔
advenio has miseras, frater, ad inferias,
ut te postremo donarem munere mortis
et mutam nequiquam adloquerer cinerem,
quandoquidem fortuna mihi tete abstulit ipsum,
heu miser indigne frater adempte mihi.
nunc tamen interea haec, prisco quae more parentum
tradita sunt tristi munere ad inferias,
accipe fraterno multum manantia fletu
atque in perpetuum, frater, ave atque vale.
جس کے دل کی وفا اچھی طرح جانی ہو،
تو تُو مجھے بھی اُنہی کے حق میں مقدس پائے گا، کورنیلیوس،
اور سمجھ کہ میں ہارپوکراتیس بن گیا ہوں۔
cuius sit penitus nota fides animi,
meque esse invenies illorum iure sacratum,
Corneli, et factum me esse puta Harpocratem.
پھر جتنا چاہے وحشی اور بےقابو رہ:
یا، اگر تجھے پیسا لُبھاتا ہے، تو مہربانی، چھوڑ دے
دلال بننا اور ساتھ ہی وحشی اور بےقابو رہنا۔
deinde esto quamvis saevus et indomitus:
aut, si te nummi deIectant, desine quaeso
Leno esse atque idem saevus et indomitus.
جو مجھے دونوں آنکھوں سے پیاری ہے؟
میں نہ کر سکا، اور اگر کر سکتا تو اِتنی بےطرح محبت نہ کرتا:
مگر تُو تاپّو کے ساتھ ہر عجوبہ کر ڈالتا ہے۔
ambobus mihi quae carior est oculis?
non potui, nec, si possem, tam perdite amarem:
sed tu cum Tappone omnia monstra facis.
کیا سمجھے، سوائے اِس کے کہ وہ خود کو بیچنے کو بےتاب ہے؟
quid credat, nisi se vendere discupere?
اُمید سے پرے مل جائے، تو یہ دل کو خاص طور پر بھلی لگتی ہے۔
پس یہ ہمیں بھی بھلی ہے، سونے سے بھی پیاری،
کہ تُو خود کو لوٹا دیتی ہے، لیزبیا، مجھ مشتاق کو:
مشتاق اور اُمید سے پرے لوٹاتی ہے، خود ہمیں
واپس آتی ہے۔ اے سفید تر نشان والی روشنی!
مجھ اکیلے سے زیادہ خوش نصیب کون جیتا ہے، یا
اِس زندگی سے زیادہ کون خواہش کے قابل چیزیں بتا سکتا ہے؟
insperanti, hoc est gratum animo proprie.
quare hoc est gratum nobis quoque, carius auro,
quod te restituis, Lesbia, mi cupido:
restituis cupido atque insperanti, ipsa refers te
nobis. o lucem candidiore nota!
quis me uno vivit felicior, aut magis hac res
optandas vita dicere quis poterit?
ناپاک عادتوں سے آلودہ ہو کر ہلاک ہو،
تو مجھے کوئی شک نہیں کہ پہلے نیک لوگوں کی دشمن
زبان کاٹ کر لالچی گدھ کو دی جائے گی،
نکالی آنکھیں کالے حلق سے کوّا نگلے گا،
آنتیں کتے، باقی اعضا بھیڑیے۔
spurcata impuris moribus intereat,
non equidem dubito quin primum inimica bonorum
lingua exsecta avido sit data vulturio,
effossos oculos voret atro gutture corvus,
intestina canes, cetera membra lupi.
کہ ہمارے بیچ یہ ہماری محبت ہمیشہ رہے گی۔
اے عظیم دیوتاؤ، ایسا کرو کہ وہ سچ وعدہ کر سکے
اور یہ سچے دل سے اور جی سے کہے،
تاکہ ہمیں پوری زندگی نبھانا نصیب ہو
پاکیزہ دوستی کا یہ ابدی عہد۔
hunc nostrum inter nos perpetuumque fore.
di magni, facite ut vere promittere possit
atque id sincere dicat et ex animo,
ut liceat nobis tota perducere vita
aeternum hoc sanctae foedus amicitiae.
وہ اُس کام کی قیمت لیتی ہیں جو کرنے کا ارادہ کرتی ہیں۔
تُو، جو تُو نے مجھ سے وعدہ کیا، جو جھوٹ بولا، دشمن ہے؛
جو تُو نہ دیتی اور اکثر لیتی ہے، جرم کرتی ہے۔
یا کر دینا شریف کا کام تھا، یا وعدہ نہ کرنا
پاکدامن کا، آفیلینا، تھا: مگر دیا ہوا سمیٹ لینا
دھوکے سے، لالچی کنجری سے بھی بڑھ کر ہے،
جو اپنا سارا بدن بیچ ڈالتی ہے۔
accipiunt pretium quod facere instituunt.
tu, quod promisti mihi, quod mentita, inimica es;
quod nec das et fers saepe, facts facinus.
aut facere ingenuae est, aut non promisse pudicae,
Aufilena, fuit: sed data corripere
fraudando † efficit plus quam meretricis avarae,
quae sese toto corpore prostituit.
دلہنوں کی نمایاں تعریفوں میں سے ہے:
مگر کسی کے بھی نیچے دبنا اِس سے بہتر ہے
کہ ماں چچا سے بھائیوں کو جنے۔
nuptarum laus e laudibus eximiis:
sed cuivis quamvis potius succumbere par est
quam matrem fratres ex patruo parere.
جو نیچے اترے: ناسو، تُو بہت "مرد" اور بدکردار ہے۔
descendit: Naso, multus es et pathicus.
کھیت کے چالیس ہیں: باقی سمندر ہیں۔
کیوں نہ وہ دولت میں کروئسوس سے بڑھ سکے
جو ایک ہی جاگیر میں اِتنے مال کا مالک ہے،
چراگاہیں، کھیت، بڑے جنگل اور جھاڑیاں اور دلدلیں
ہائپربورین لوگوں تک اور اوقیانوس سمندر تک؟
یہ سب بڑی چیزیں ہیں، پھر بھی خود سب سے بڑا ہے،
انسان نہیں، بلکہ سچ مچ بڑا دھمکاتا لُنڈ۔
quadraginta arvi: cetera sunt maria.
cur non divitiis Croesum superare potis sit
uno qui in saltu tot bona possideat,
prata, arva, ingentis silvas saltusque paludesque
usque ad Hyperboreos et mare ad Oceanum?
omnia magna haec sunt, tamen ipse est maximus ultro,
non homo, sed vero mentula magna minax.
کہ میں تجھے باتّیادیس کے گیت بھیج سکوں
تاکہ تجھے نرم کر لوں، اور تُو
مجھ پر دشمن تیر میرے سر تک نہ برساتا رہے،
اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ محنت میں نے بےسود کی، گیلیوس،
اور یہاں ہماری التجائیں کام نہ آئیں۔
اِس کے برعکس ہم تیرے یہ تیر چادر سے بچا لیتے ہیں:
مگر تُو ہمارے تیروں سے چھد کر سزا پائے گا۔
carmina uti possem mittere Battiadae
qui te lenirem nobis, neu conarere
tela infesta mihi mittere in usque caput,
hunc video mihi nunc frustra sumptum esse laborem,
Gelli, nec nostras hic valuisse preces.
contra nos tela ista tua evitamus amictu:
at fixus nostris tu dabis supplicium.